Tag Archives: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

آتشِ جلال

 تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی حضرت عثمان ہرونی ؒ کی نگا ہِ خاص اور تزکیہ نفس کے سخت مجا ہدوں سے گزرنے کے بعد حضرت معین الدین چشتی ؒ دنیا کی سیر پر نکل پڑے تا کہ دنیا کے مختلف علا۔۔۔۔۔

نگاہِ مرشد

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی سلسلہ شطاریہ قادریہ کے مشہور و معروف پنجاب کی دھرتی کی آن بان بے باک صوفی حضرت بلھے شاہ کے مرشد جب ناراض ہو گئے مر شد کو منانے کی سر توڑ کوششیں دم تو ڑ۔۔۔۔۔

فیضان مرشد

 تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی روحانیت تصوف کی پراسرار وادی میں ہر اگلے قدم پر نیا مو ڑ نئی آزمائش اورتزکیہ نفس سے واسطہ پڑتا ہے ‘مرشد مرید کا تعلق کچے دھا گے کی مانند ہو تا ہے ‘مرید ساری عمر۔۔۔۔۔

مقامِ مرشد

کالم : بزمِ درویش/تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی برصغیرپاک وہند کا مشہور شہر ’’ دہلی ‘‘ کر ہ ارض پر موجود شاید ہی کسی شہر نے عرو ج و زوال کے اتنے رنگ تغیرات نہیں دیکھے جتنے دہلی شہر نے دیکھے۔۔۔۔۔

عشق 

کالم : بزمِ درویش/ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی روز اول سے جو بھی انسان اِس جہان سنگ خشت میں آیا اس کی ترجیح اول اپنی ذات کی پرورش تھی انسان اقتدار شہرت دولت عروج طاقت حاصل کر نے کے لیے۔۔۔۔۔

روحانیت کا آفتاب

 تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی خو د پسندی ، انا ، غرور کے خو ل میں جکڑے مو جودہ دور کے نام نہاد پڑھے لکھے مشینی انسان کے سامنے جب اولیا ء کرام کی کرامات کا ذکر ہو تا ہے تو۔۔۔۔۔

آج کے حکمران 

 تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی موجودہ دور بلاشبہ مشینی دور ہے موجودہ انسان ما دیت پر ستی کی شاہراہ پر اندھا دھند دوڑ ا چلا جا رہا ہے آج کے انسان کو ضروریات زندگی اور اپنی بقا کے لیے زیاد ہ۔۔۔۔۔

کانچ کی چوڑیاں

 تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی جنوری کی ٹھنڈی یخ رات رات کاآخری پہر برفیلی ہواؤں نے ہر چیز کو جما رکھا تھا کُہرے نے پورے شہر بلکہ ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھاشدید سردی کی وجہ سے برقی قمقمے۔۔۔۔۔

مسیحا اعظم 

 تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی بخاری شریف کی حدیث مبارکہ میں ایک صحابی بیان فرماتے ہیں:کہ ایک رات نبوت ورسالت کے آفتاب و مہتاب ، انبیا مرسلین کے تاجدار ، مجسمِ رحمت ، شافع محشر ، فخردوعالم نورِ مجسم ، سید۔۔۔۔۔

خانہ کعبہ اور مقامِ ابراہیم

    تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی خالقِ کائنات کی محبت اور عبادت انسان کی تخلیق میں شامل ہے ‘حضرت آدم علیہ السلام کو جب جنت سے نکال کر زمین پر بسایا گیا زمین پر حضرت آدم ؑ اداس رہنے لگے۔۔۔۔۔