کہانیاں و افسانے

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 20

اِدھر گونڈ نے دروازہ کھولا،اُدھر آدم خور چیتا برق کی طرح لپک کر اس پر آیا۔ دوسرے گونڈ نے بے مثل جی داری کا ثبوت دیتے ہوئے ا پنا نیزہ تاک کر مارا۔ یہ نیززہ لکڑی کی دیوار میں پیوست۔۔۔۔۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 19

مجھے جنگل میں اکیلا چھوڑ کر گاؤں والے چلے گئے اور کہہ گئے کہ ضرورت پڑنے پر میں اگر حلق پھاڑ کر پکاروں گا تو وہ لاٹھیاں اور جلتی ہوئی مشعلیں لے کر فوراً حاضر ہو جائیں گے۔میں نے شیخی۔۔۔۔۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 18

یہی سال تھا جب میں نے اپنی زندگی کا اہم فیصلہ کیا اور طے کرلیا کہ مجھے ایک بڑا شکاری بننا ہے۔یہ ارادہ ایک مہم کے بعد کیا گیا جس کا آغاز بڑے طریق پر ہوا۔ میرے بڑے بھائی امیر۔۔۔۔۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 17

گونڈ قلیوں نے صاحب بہادر کو مشورہ دیا کہ آپ بے خوف ہو کر درخت کے قریب جائیے ا ور چیتے پر فائر کرکے اسے گرا دیجیے۔جنگلی کتے اوّل تو آپ کی صورت دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے اور اگر۔۔۔۔۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 16

گاؤں کے غریب لوگ تو ویسے ہی ہر حکم کے پابند ہوتے ہیں،پھر جب انہیں روپے پیسے کا لالچ بھی دیا جائے تو جان کو خطرے میں بھی ڈال دیتے ہیں۔یہاں تو حکم بھی انگریز بہادر کا تھا اور اس۔۔۔۔۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 15

ہم نے دو گونڈنوکروں کو ساتھ لیا، بندوقیں ہاتھ میں سنبھالیں اور ندی کی جانب روانہ ہو گئے۔آسمان صاف تھا اور لاتعداد ستاروں کی روشنی میں ندی کا چمکتا ہوا پانی ہمیں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بڑے بھائی کا۔۔۔۔۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 14

گیارہ برس کا ہوا تو میرے دائرے میں مزید وسعت پیدا ہو گئی اور میں نے ذرا اونچی اور خطرناک مہموں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔بعض لوگوں سے شیروں اور چیتوں کی ڈراؤنی داستانیں بھی سنیں۔ان داستانوں نے۔۔۔۔۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 13

نشانہ خطا ہونے پر مجھے بے حد صدمہ پہنچا۔ چیتا مسلسل گرج رہا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کی آواز مدھم اور دور ہوتی چلی گئی۔میں نے اس جلد بازی پر اپنی قسمت کو کوسا اور دوبارہ پائپ بھرنے لگا۔۔۔۔۔۔

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 12

’’بدری رام جی۔۔۔‘‘میں نے آواز دی۔ ’’ہاں،جناب۔۔۔‘‘فوراً جواب آیا اور میں تکلیف کے باوجود اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ بیچارہ اسی وقت سے درخت پر ٹنگا ہوا ہے۔ ’’نیچے آجائیے لالہ جی،خطرہ ٹل گیا۔‘‘تھوڑی دیر بعد لالہ جی میرے پاس۔۔۔۔۔

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 11

یکایک بیل رک گئے اور گردنیں ہلاہلاکر منہ سے خوخو کی آوازیں نکلانے لگے۔میں نے فوراًرائفل سنبھالی اورلالہ جی کو ایک درخت پر پناہ لینے کا اشارہ کیا۔ بیلوں کا یوں رکنا خطرے کی علامت تھی۔ میں گاڑی سے اترا۔۔۔۔۔