بینظیر قتل کیس میں بری ہونے والے پانچ افراد جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل

پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بری کیے جانے والے پانچ افراد کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

بے نظیر بھٹو

AFP
اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر نے سماعت کے دوران حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی آڈیو ریکارڈنگ اس مقدمے کے ملزم اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تیار کی تھی

پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بری کیے جانے والے پانچ افراد کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ان افراد میں رفاقت، حسنین گل، شیر زمان، عبدالرشید اور اعتزاز شاہ شامل ہیں۔

٭یور آنر فائل غائب ہے!

٭بینظیر قتل کیس میں بری ہونے والے پانچ افراد نظر بند

٭’عدالت میں پیش ہونے سے فیصلہ نہیں بدلنا تھا‘

٭’مجرمانہ غفلت سے جائے وقوعہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا‘

٭بینظیر بھٹو قتل: پانچ ملزمان بری، مشرف اشتہاری، پولیس افسران کو سزا

بینظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے کے فوری بعد پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ اور پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کی سفارشات کی روشنی میں ان افراد کو خدشہ نقص امن کے تحت 30 روز کے لیے نظربند کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ31 اگست کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ پانچ افراد کو رہا جبکہ سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کو 17،17 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

سابق وزیر اعظم کے قتل کے بعد ان افراد کو مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گذشتہ 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قتل کے اس مقدمے میں رہائی پانے والے افراد کو نہ ہی اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اُنھیں اس مقام کے بارے میں بتایا گیا ہے جہاں پر ان افراد کو رکھا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں کالعدم تحریک طالبان نے مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر کے توسط سے حکومت کو جن 300 افراد کو رہا کرنے کے بارے میں کہا تھا ان میں بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے رفاقت اور حسنین گل بھی شامل تھے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان افراد کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری طرف وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں اس فیصلے کی مصدقہ نقول حاصل کرنے کے لیے متعلقہ عدالت میں درخواست دے دی ہے۔

اس مقدمے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے 15 ستمبر کو فیصلے کی مصدقہ نقل مل جائے گی۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی بینظیر بھٹو کے قتل کے اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن ابھی تک اس جماعت کی طرف سے اس فیصلے کی مصدقہ نقل حاصل کرنے کے لیے متعلقہ عدالت میں درخواست نہیں دی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *