دنیا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے: جنرل باجوہ

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دنیا سے کہا ہے کہ پاکستان کی بجائے وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ’ڈو مور‘ کرے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ

BBC
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’اگر ہم ناکام ہوئے تو خطہ مکمل طور پر عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا‘

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دنیا سے کہا ہے کہ پاکستان کی بجائے وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ اقدامات کرے۔

انھوں نے بدھ کو راولپنڈی میں یومِ دفاع کے موقعے پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ‘عالمی طاقتیں اگر اس کام میں ہمارا ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتیں تو ہمیں اپنی ناکامیاں کا ذمہ دار بھی نہ ٹھہرائیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘بےبہا قربانیوں، اور دو دہائیوں پر محیط جنگ کے باوجود آج ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے عفریت کا بلاتفریق مقابلہ نہیں کیا۔ اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی ملک نے کچھ نہیں کیا کیوں کہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان ہی کا کمال ہے۔ اب میں کہتا ہوں، now the world must do more’

’امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے پر غور کیا جائے‘

’امریکی سفارت کار کا دورۂ پاکستان ملتوی‘

’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو

جنرل باجوہ نے کہا کہ ‘امریکہ سے تعلقات کے بارے میں قوم کے جذبات واضح ہیں۔ ہم امداد نہیں عزت اور اعتماد چاہتے ہیں۔ ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہم امریکہ اور نیٹو کے ہر اس عمل کی حمایت کریں گے جس سے خطے میں بالعموم اور افغانستان میں بالخصوص امن کی راہ ہموار ہو، تاہم ہمارے سکیورٹی خدشات کو بھی ایڈریس کرنا ہو گا۔’

جنرل باجوہ نے یہ باتیں اس ماحول میں کی ہیں جب امریکہ اور پاکستان کی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ دو ہفتے قبل پاکستان نے قائم مقام امریکی نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان ایلس ویلز کا دورۂ پاکستان ملتوی کر دیا تھا۔

گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی افغان پالیسی جاری کرتے ایک تقریر میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کچھ ایسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جو افغانستان میں امریکی اور افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

امریکہ

Getty Images
جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی پہلی تقریر میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں امریکہ اہداف واضح ہیں

اس کے چند روز بعد افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان سے کام کر رہی ہے۔

جنرل باجوہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ‘سپر پاورز کی شروع کردہ جنگوں کی قیمت ہم نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور اقتصادی نقصان کی صورت میں ادا کی ہے۔ ہم افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے۔ ہم افغان دھڑوں کے درمیان جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ تاہم یہ ضرور کر سکتے ہیں ۔۔۔ کہ اپنی سرحد کی حفاظت کریں۔ اس سلسلے میں ہم سرحد پر 26سو کلومیٹر طویل باڑھ اور نو سو سے زیادہ پوسٹیں اور قلعے تعمیر کر رہے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی سرحد کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور دوسروں سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ جن دہشت گردوں نے مغربی سرحد کے پار پناہ لے رکھی ہے ان کے خلاف جلد اور موثر اقدام ہوں گے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *