حج بیت ا للہ امت مسلمہ کی قوت کا مظہر

میرافسر امان

اسلا م میں دوسری فرض عبادات کی طرح حج بھی ہر اُس مسلمان پرفرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو ۔حج اسلام کا پانچوں ستون ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے’’یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی۔اس ہدایت کے ساتھ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔ اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اُونٹوں پر سوار آئیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گےٗ ہیں اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انہیں بخشے ہیں خود بھی کھا ئیں اور تنگ دست حجاّج کو بھی دیں ۔پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اِس قدیم گھر کا طواف کریںیہ تھا(تعمیر کعبہ کا مقصد)اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے ربّ کے نزدیک خود اس کے لیے بہتر ہے‘‘( الحج ۲۶۔۲۹) دوسری جگہ فرمایا’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دہی گئی تھی۔اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا۔اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ابراہیم ؑ کا مقام عبادت ہے۔اور اس کا حال یہ ہے جو اس میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔ لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ و ہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطا عت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے‘‘(اَل عمران۹۶۔۹۸)خانہ کعبہ کی بنیا د حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمعیل ؑ نے رکھی۔اس سے قبل حضرت آدم ؑ نے کعبہ کی بنیاد اللہ کے حکم سے رکھی تھی۔بیہقی ؒ نے اپنی کتاب دلائل النبقّوۃ میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاصؓ روایت کی ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا کہ حضرت آدم و حوا ؑ کے دنیا میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے ذریعہ ان کو یہ حکم بھیجا کہ وہ بیت اللہ (کعبہ) بنائیں ان حضرات نے حکم کی تعمیل کر لی تو ان کو حکم دیا گیا کہ اس کا طواف کریں اور ان سے کہا گیا کہ آپ اوّل النّاس یعنی سب سے پہلے انسان ہیں اور یہ گھر اَوّلُ بیت وُضِعَ لِنّاسِ ہے یعنی سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے (ابن کثیر) بعض روایات میں ہے کہ آدم ؑ کی یہ تعمیر کعبہ نوح ؑ کے زمانے تک باقی تھی طوفان کی وجہ سے منہدم ہوئی اس کے بعد ابرا ہیم ؑ نے انہی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کی۔اس کے بعد قبیلہ جرہم نے اس کی تعمیر کی۔پھر عمالقہ نے تعمیر کی۔ پھر قریش نے رسولؐ ؐاللہ کے ابتدائی زمانے میں تعمیر کی۔ رسول ؐ اللہ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ موجودہ تعمیر کو منہدم کر کے اس کو با لکل بناء ابرہیمی ؑ کے مطابق بنا دوں لیکن نو مسلم نا واقف مسلمانوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔اس ارشاد کے بعد آپ زیادہ حیات نہیں رہے۔حضرت عبداللہ بن زبیرؓ حضرت عائشہ ؓ کے بھا نجے رسول ؐاللہ کا یہ ا رشاد سنے ہوئے تھے۔ انہوں نے بیت اللہ منہدم کر کے ارشاد نبوی ؐ اور بنا ابراہیمی ؑ کے مطابق بنا دیا ۔ظالم الاُمۃ حجاج بن یوسف نے گوارا نہ کیا کہ عبداللہ بن زبیر ؓ کا یہ کارنامہ رہتی دنیا تک ان کی مدح و ثنا ء کا ذریعہ بنا رہے اس لیے لوگوں میں یہ مشہور کیا گیا کہ عبداللہ بن زبیر ؓ کا یہ فعل غلط تھا رسول ؐاللہ نے اس کو جس حالت پر چھوڑا تھا
ہمیں اسی حا لت پر اس کو رکھنا چاہیے اس بہانے بیت اللہ کو پھر منہدم کر کے جس طرح قریش نے رسول ؐ اللہ کے ابتدائی دور میں بنایا تھا بنا دیا گیا۔حجاج بن یوسف کے بعد مسلمان بادشاہوں نے پھر حدیث مذکور کی بنا پر یہ ارادہ کیا لیکن اس زمانے کے امام حضرت امام مالک بن انس ؓ نے یہ فتویٰ دیا کہ اب بار بار بیت اللہ کا منہدم کرنا اور بنانا آگے آنیوالے بادشاہوں کے لیے بیت اللہ کا ایک کھلونا بنا دے گا اس لیے جس حالت میں ہے ویسے ہی چھوڑ دینا چاہیے۔ تمام امت نے اسے قبول کیا اس لیے وہی حجاج بن یوسف کی ہی تعمیر باقی ہے۔ البتہ مرمت کا سلسلہ جاری ہے (تفسیر معارف القرآن مفتی محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان) اسے تمام لوگوں کے لیے عام کیا ۔تمام عرب والے حج کے زمانے میں چار ماہ قتل و غارت نہیں کرتے تھے اور حج کے لیے راستے محفوظ بناتے تھے۔حج اسلام کا ایک رکن ہے جیسے توحید ،نماز،زکوٰۃاوررمضا ن ۔ حضرت ابراہیم ؑ کے عہد۴۵۰۰ سال سے عربوں میں عبادت کا مسلم طریقہ چلا آرہا تھا۔اور قدیم اہلِ عرب اس سے تمدنی اور مالی فوائد حاصل کرتے تھے۔ تمام عرب سے لوگ یہاں آ کر اپنا مال فروخت کرتے دوسروں سے مال خریدتے ،شعر و شاعری کے پروگرام ہوتے ایک میلے کا سا سماں بن جاتا تھا۔ مگر عبادت کیا تھی سیٹیاں بجاتے، کعبہ کا طواف برہنا ہو کر کرتے تھے،قربانی کے جانور خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ رکھ دیتے، جانوروں کا خون خانہ کعبہ کی دیواروں پر لگاتے تھے۔ ایک خدا کے علاوہ تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اور کہتے تھے مانتے تو ہم ایک اللہ کو ہیں مگر یہ بت ہمارے سفارشی ہیں یعنی جو توحیدی طریقہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو سکھایا تھا اُس کو چھوڑ چکے تھے شرک میں مبتلا ہو گےٗ تھے۔فتح مکہ کے موقعہ پر اللہ کے رسول ؐ نے تین سو ساٹھ بت توڑڈالے تھے۔باقی اصلاح بعد میں کی۔جب ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا تو اس کے بعد پہلا اسلامی دور کا حج پرانے طریقے پر ہی ہوا۔یعنی وہی جو عربوں میں قدیم زمانے سے راج تھا دوسراحج ۹ھ میں مسلمانوں نے اپنے طریقے پر کیا اور مشرکین نے اپنے طریقے پر کیا ۔تیسرے سال جب بل کل شرک کا استیصال ہو گیا تب رسول ؐاللہ نے حج ادا فرمایا۔اس حج کو حج اکبر کہتے ہیں جو مقررہ حج کی تاریخوں میں ادا ہوا۔ویسے خانہ کعبہ جا ناعمرہ ہوتا ہے۔ اسلامی دور کے دوسرے حج کے موقع پررسول ؐ نے حضرت ابو بکرؓ اور بعد میں حضرت علیؓ کو مکہ بھیجا اور ساتھ یہ فرمایا کہ ان باتوں کا اعلان حجاج کے سامنے کرو۔(۱)جنت میں کوئی شخص داخل نہیں ہو گا جو دین اسلام کو قبول کرنے سے انکار کرے۔(۲)اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے۔(۳)بیت اللہ کے گرد برہنہ طواف کرنا ممنوح ہے (۴) جن لوگوں کے ساتھ رسول ؐ اللہ کا معاہدہ باقی ہے یعنی جو نقصِ عہد کے مرتکب نہیں ہوئے ان کے ساتھ مدت معاہدہ تک وفا کی جائے گی۔.یعنی اسلامی دور کے تیسرے سال حج کے قدیم طریقے کی اصلاح کر دی گیٗ.اور خالص توحیدی طریقے سے حج ادا کیا گیا۔اگر حج کی نیت کر لی گیٗ ہو تو اسے پوراکرنا چاہیے. قربانی کے بعد بال ترشو ائے جا ئیں قربانی سے پہلے نہیں۔.قربانی میسر نہ ہو توحج کرنے والے کو تین روزے حج کے دوران اور سات روزے واپس گھر آ کر رکھنے ہیں۔ اسطرح ۱۰ روزے پورے کرنے کا حکم ہے یعنی مقررہ روزے رکھنے کا۔ حج کے دوران اسلامی اخلاقیات کا خیا ل رکھنا اور اس پر عمل نہایت ضروری ہے ۔تقویٰ جس کا قرآن شریف میں بار بار ذکر آیا ہے،حج کے دوران زادہ راہ اس ہی تقویٰ کو بنانے کا حکم ہے۔یعنی بہترین
زادِراہ تقویٰ ہے ۔اس میں تمام چیزیں آ جاتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا جس نے اس گھر کا حج کیا اور اس میں شہوت اور فسق و فجور سے اجتناب کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔یعنی تمام گناہ معاف ہوگئے۔مَشغرِحرام(مزولفہ) کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرنا چاہیے جسطرح اللہ نے ہدایت دی ہے ۔جب حج کے ارکان ادا کر دیے جائیں بھر جس طرح مشرک اپنے آباوٗ اجداد کا ذکر کرتے تھے اَب تم لوگ اللہ کا ذکر کرو۔قریش اور اُن کے رشتہ دار قبائل نے اپنے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا ہوا تھا کہ عام عرب کی طرح عر فات تک نہیں جاتے تھے اس بات کی اصلاح کر دی گئی کہ تمام لوگ ایک جیسا عمل کریں گے۔زندگی بھر میں صرف ایک دفعہ حج فرض ہے اور ساتھ یہ بھی ہے کہ بندہ قوت بھی رکھتا ہویعنی استطاعت۔ حدیث میں حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے رسول ؐاللہ نے فرمایا جس کو کسی صریح حاجت نے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے اور پھر اُس نے حج نہ کیا ہو اور اسی حالت اسے موت آجائے تو اسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر مرے۔
قارئین !حج فرض کے ساتھ ساتھ انسان کی فطری تربیت کے لیے بھی ہے مسلمان اللہ کا اس زمین میں خلیفہ ہے اِس کا کام اللہ کے دین کو قائم اور جاری رکھنا ہے ۔ یہ کام صرف جہاد فی سبیل اللہ سے ہی ممکن ہے جہاد فی سبیل اللہ میں جو تکلیفیں پیش آتی ہیں حج اُس میں مدد گار ہوتا ہے ۔ ظا ہر ہے انسان حج کے سفر میں گرمی سردی ناموافق حا لات میں جو تکالیف اُٹھاتا ہے اس سے انسان کی عبادت کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ہوتی ہے جو اس جہاد فی سبیل اللہ میں کام آتی ہے۔تمام ارکانِ اسلام اللہ تعالیٰ نے اس ترتیب سے بنائے ہیں کہ وہ انسان کے لیے اس بڑے کام یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں مدد گار ہوں۔ اس کے علاوہ حج مسلمانوں کی ا جتماعیت ، اتحاداور طاقت کا مظہر ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے گھر جانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *