اس پر چم کے سائے تلے ہم ایک ہیں( تحریر اظہر اقبال مغل )

پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا ،جب پاکستان بنا تو برصغیر پاک و ہند کے مسلما ن میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ آج ہم نے ایک الگ ملک حاصل کر لیا ہے۔قیام پاکستان کے وقت بہت سارے لوگ انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ،اور یہاں کے مقامی لوگوں نے ان کا پرجوش اسقبلال ان کا ہر طرح سے خیال رکھا اور سب میں پیار محبت اس طرح ہو گیا کہ جیسے یہ لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔لیکن آج جب میں پاکستان کی حالت دیکھتا ہوں تو دلی دکھ سا ہوتا ہے وہ اس لیئے کہ آج پاکستان کی حالت کیا ہے ہر بندہ فرقہ وایت کی آگ میں جل رہا ہے۔ہر طرف نفرتوں کا بازار گرم ہے بہت دل دکھتا ہے پاکستان میں آئے دن کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہی رہتی ہے کبھی مذہبی رہنماؤں میں فرقہ واریت پر لڑائی کبھی سیاسی جماعتوں میں کرسی پر لڑائی، کیا ہمارے بزرگوں نے پاکستان اس لیئے حاصل کیا کہ پکستان میں اس قدر انتشار پھیل جائے کہ سب لوگ آپس میں متحد ہو کر رہنے کے بجائے آپس لڑنا جھگڑنا شروع کر دیں، بلکہ پاکستان بنانے کا مقصد تھا کہ ہم لوگ آپس میں مل جل کر پیا ر محبت سے رہیں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم سب ایک ہیں۔جو ہم سے ٹکرائے گا،پاش پاش ہو جائے گا،اس کی مثال ہم نے 65 کی جنگ میں پیش کی کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کہ جب متحد ہوتی ہے تو بڑے بڑے سورماؤں کے چھکے چھڑا دیتی ہیں گذشتہ دنوں 14 اگست جشن آزادی مبارک بہت ہی جوش وخروش سے منایا گا۔ مجھے دیکھ کر بہت ہی خوشی کہ کہ تمام قوم اپنا رنگ نسل فرقہ ذات بھول کر ایک پاکستانی قوم کی حیثیت یہ یہ دن منا رہے ہیں۔تب مجھے احساس ہوا کہ ہم واقعی ایک پاکستانی قوم ہے کیونکہ میں کہ پنجاب سرحد سندھ،بلوچستان کے لوگوں نے نہ صرف یہ دن جوش و خروش سے منایا بلکہ سب نے پوری پاکستانی قوم کو مبارک باد پیش کی ،اور تو اور پاکستان سے باہر جو پاکستانی اپنے رزق کے لیئے اپنے وطن سے دورہیں انھوں نے بھی اس دن کو بہت ہی جوش و جذیسے منایا اور خوشی کا اظہار کیا یہ سب دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں بیان نہیں کر سکتا انسان کہین بھی چلا جائے اپنے وطن اپنی مٹی کی یاد اس کے دل مین ہمشہ زندہ رہتی ہے،اس کی زندہ مثال بیرون ملک رہنے والے پاکستانی ہیں ،جب بھی 14 اگست آتی ہیں سب بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اس دن کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں یہ وطن سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بھلے وہ لوگ وطن سے دور ہیں لیکن وطن کی محبت ان کے دل میں زندہ ہے جب میں اس طرح بیرون ملک میں آباد پاکستانیوں کی وطن کیلیئے محبت دیکھتا ہوں تو مجھے یہ بہت شدت ست احساس ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی لاکھ آپس میں جتنا بھی لڑ جھگڑ لیں لاکھ ہمارے درومیاں عداوتیں ہوں لیکن ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا طن ہے اور پاکستانی پرچم کے نیچے ہم ایک قوم ہے جب ہم پاکستانی قوم کی حیثیت سے خود کو دنیا کے سامنے متعارف کراتے ہیں تو بلا امتیاز کراتے ہیں،ایک پاکستانی صرف پاکستانی ہے چاہے اس کا تعلق کسی ذات کسی مذہب، یا کسی فرقہ سے بھی ہو جب پاکستان کا نام آتا ہے تو ساری دنیا اسے ایک پاکستانی کی حیثیت سے جانتی ہے اگر کوئی چوہدری ہے تو پاکستان میں باہر وہ صرف ایک پاکستانی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم ایک قوم ہے،الگ الگ قوم نہیں ہے اس لیئے ہمیں ایک قوم ہونے کی حیثیت سے متحد ہوکر رہنا چاہئیے۔نہ کہ فرقوں میں بٹ کر رہنا چاہیئے ایک قوم جب متحد ہو جاتی ہے تو دُنیا میں سب اس سے ڈرتے ہیں اس لیئے ہماری جان بھی پاکستان ہے اور ہماری پہچان بھی پاکستان ہے جس قوم یا جس شخص کی کوئی پہچان نہیں ہوتی اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، اس لیئے آج ہمیں متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے جس طرح ہم جشن آزادی ایک قوم کی حیثیت سے جوش و جذبہ سے مناتے ہیں بالکل اسی طرح ہمیں عام زندگی میں بھی متحد ہو کر رہنا چاہئے ایک پرچم کے سائے میں ایک زندہ قوم بن کر رہنا چاہیئے نہ کہ آپس میں لڑنا،چاہیئے ،اس لیئے نفرتیں بھلا کر محبتیں بانٹیں، بہت سے پاکستانی جو وطن سے دور ہیں لیکن وطن کی محبت ان دلوں میں زندہ ہے جو لوگ ملک میں واپس آتے ہیں۔تو واپس جانے کو دل نہیں چاہتا خوش قسمت ہے وہ لوگ جن کو اپنے وطن میں رہنا نصیب ہے کیونکہ آزادی سے بڑھ کر دینا میں کوئی نعمت نہیں قائداعظم نے الگ ملک کا اسی لیئے مطالبہ کیا تھا تاکہ تمام مسلمان آزادی سے زندگی بسر کر سکیں اور غلامی کی زنجیروں سے ہمیشہ کیلئے آزاد ہو جائیں،آخر کار ہمیں غلامی سے ہمیشہ کیلئے نجات مل گئی ،اب ہم ایک آزاد قوم ہے اور ہمیں ملک پاکستان کا سائبان بن کر رہنا ہے ہمیں اس پرچم کے سائے تلے ایک مہذب قوم بن کر رہنا ہے اور اس دنیا کو دکھانا ہے کہ ہم پاکستانی ایک زندہ قوم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *