جدو جہد آزادی

14 اگست 11947 کا دن ایک یاد گار دن ہے،جب بھی یہ دن آتا ہے پاکستان کے لوگ اس کو عید کی طرح سے مناتے ہیں ہرطرف ایک عید کا سما ہوتا ہے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعی کوئی خاص دن ہے جس دن ہر بوڑھا جوان بچہ خوش نظر آتے ہیں اور 14 اگست کو بھر پور انداز میں مناتے ہیں 14 ظاہر کرتا ہے کہ واقعی آزاد ی بھی ایک نعمت ہے جن کو یہ نعمت میسر نہیں وہی جانتے ہیں کہ آزادی کیا ہوتی ہے۔ پاکستان بننے میں کتنا وقت لگا کیا کیا قربانیا ں دینی پڑی کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا پاکستان حاصل کرنے کیلئے یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔لیکن جو جانتے ہیں ان کو پاکستانی ہونے پر ٖفخر ہے،جب پاکستان 14اگست 1947کو بنا تو بہت سارے لوگ ہجرت کر کے پاکستان آ رہے تھے کہ سکھوں نے قتل و غارت اور لوٹ مار شروع کردی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے ہر طرف ایک کہرام مچا دیا مسلمانوں کا مال اسباب لوٹ لیا بلکہ مسلمانوں کی عزتوں کو بھی پامال کر دیا بہت سے بھائیوں نے یہ منظر دیکھ کر اپنی بہنوں کو اپنے ہاتھوں مار ڈالا تاکہ ان کی عزت محفوظ ہو جائے بہت باپوں نے بیٹیاں مار ڈالی،اسی طرح بہت سی بہنوں نے بھائی شہید ہوتے دیکھے اور بہت سی ماؤں کے لال ان کی آنکھوں کے سامنے شہید کر دیئے گئے بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئی بچے یتیم ہو گئے جو لوگ بچ گئے وہ بہت مشکل سے جاں بچا کے پاکستان پہنچے یہ ان لوگوں کے لیئے ایک کڑی ٓزمائش سے کم گھڑی نی تھی کیونکہ ایک طرف سے پاکستان بننے کی خوشی تھی لیکن دوسری طرف اپنوں سے بچھڑ جانے کا غم تھا اس طرح پاکستان کی تاریخ بہت سے م مسلمانوں کے لہو سے لکھی گئی پاکستان بننے کے پیچھے بہت ہی لمبی کہانی ہے۔ پاکستان کو حاصل کرنے میں بہت وقت لگا بہت جدوجہد کی گئی تب جا کر آزادی نصیب ہوئی ایسا نہیں کہ پاکستان پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا پاکستان بنانے کیلئے بہت سے لوگوں نے جدجہد کی ،بہت سارے لوگوں نے جان کے نذرانے پیش کئے جب 1857 میں جب مسلمانوں سے ان کا اقتدار چھین لیا گیا تو مسلمان بہت کمزور ہو گئے مسلمانوں کی ساکھ ختم ہو گئی وہی مسلمان جو کبھی حاکم تھے آج ادنٰی غلام بن گئے،ہندؤں کا خیال تھا کہ شائد اب مسلمان ساری زندگی غلامی کی چکی میں پستتے رہیں گے اس لیئے ہندؤں نے انگریزوں کا بھرپور ساتھ دیا اور ہمیشہ مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔لیکن مسلمان ایک غرت مند قوم ہے 1857 کی شکشت کے بعد مسلمانوں مجاہد موجود تھے جنہوں کے جدوجہدِ آزادی کی جنگ لڑی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے ان میں سے کچھ شہید ہوگئے اور کچھ غداروں کی وجہ سے گرفتارہوگئے،کیونکہ برصغیر پاکو ہند میں انگریز کی حکومت تھی۔اور ہندو انگریزوں کابھرپور طریقے سے ساتھ دے رہے تھے کیونکہ اب ہندو نہیں چاہتے تھے کہ اب دوبارہ مسلمانوں کی حکومت آئے اور مسلمان دوبارہ صاحب اقتدار ہو اس لیئے ہندؤں کی صدیوں کی نفرت کھل کر سامنے آئی۔اب مسلمانوں کی حالت بہت کمزرور ہو چکی تھی جس کی بڑی وجہ تھی کہ سلطنٹ مغلیہ نے تعمیرات پر تو بہت توجہ دی تھی لیکن تعلیم پر بہت کم توجہ دی تھی مسلمانوں کی نسبت ہندو زیادہ پرھ لکھ گئے تھے لیکن مسلمان چونکہ انگریز سے نفرت کرتے تھے اس لیئے انگریزی زبان سے بھی نفرت کرتے تھے ۔ اب برصغیر میں فارسی کی جگہ انگریزی کا راج تھا مسلمانوں کی انگریزی سے نفرت مسلمانوں کی ترقی میں رکاوٹ تھی جس کو سر سید احمد خان نے آکر دور کیا ، اور مسلمانوں کو ایک مثبت سوچ دی، جس نے مسلمانوں کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی اور مسلمان قوت میں آگئے سرسید احمد خان نے اس دور میں مسلمانوں میں انقلاب برپا کرنے والی سوچ پیدا کر دی اور مسلمانوں کو ہندؤں کا مقابلہ کرنے کی تاکید کی اب مسلمانوں میں بھی آگے بڑھنے کی سوچ بیدار ہو چکی تھی اور اس پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی کے مجاہدوں نے جنم لیا اور آہستہ آہستہ ایک قوت بن کرسامنے آئے اور انگریزوں اور ہندؤں کو ایک گہری سوچ میں ڈال دیا اور ان آزادی کے جیالوں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھی اور ہندؤں اور انگریزوں کو بتا دیا کہ مسلمان بھی کوئی قوت ہے ۔مسلمان بھی کسی سے کم نہیں، ان دنوں ہندؤں کی ایک تنظیم کانگرس کا بہت زور تھا اور یہ جماعت آزادی کیلئے کام کر رہی تھی لیکن یہ جماعت نہیں چاہتی تھی کہ مسلمان اوپر آئیں اس کی بددیانتی کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے 1906 میں اپنی ایک جماعت بنائی جس کا نام مسلم لیگ رکھا گیا دیکھتے ہی دیکھتے مسلم لیگ ایک طاقتور جماعت ثابت ہوئی اس جماعت کو مزید طاقت اور قوت تب ملی جب 1913 میں محمدعلی جناح نے اس جماعت میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا اور مسلم لیگ کی باگ ڈور سنبھال لی اب مسلم لیگ ایک بہت ہی طاقت ور جماعت بن چکی تھی کیونکہ کہ محمد علی جناح نے اس جماعت کو ان کے خوابوں کی تعبیر دی اور مسلم لیگ کو اپنے خواب پورے ہوتر نظر آرہے تھے جو جد وجہد وہ کافی عرصہ کر رہے تھے اسے آکر محمد علی جناح نے عملی جامعہ پہنایا اور انگریزوں کو مجبور کر دیا کہ جہاں وہ ہندؤں کو اقتدار دے رہے ہیں وہاں مسلمان بھی ایک الگ قوم ہے جو کہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے ہندو مسلمان کبھی بھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے اس لیئے مسلمانوں کو ایک الگ ملک ملنا چاہیئے جس میں ان کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جا سکے ، محمد علی جناح نے اپنے مطالبات انگریزوں کے سامنے رکھ دیئے آخر کار انگریز سرکار کو محمد علی جناح کی بات مانا پڑی اور 23 مارچ 1940 کو ایک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *