میری مادرعلمی(تحریررضوان اللہ پشاوری)

صوبہ خیبر پختونخوا کے مدارس میں ایک نام بہت ہی واضح اور روشن ہے،وہ ہے ’’جامعہ عثمانیہ پشاور‘‘جوکہ نوتھیہ روڈپشاورصدر میں واقع ہے،میں نے اسی مادرعلمی میں 9سال کا عرصہ گزارا ہے،درجہ متوسطہ سے لیکر دورہ حدیث تک یہی پڑھا ہے،یہاں پر صرف پڑھنا نہیں بلکہ زندگی گذارنے کے اصول سیکھے ہیں،آج جب کہ قارئین کرام کو اخبار میں میرے مضمون کا انتظار ہوتا ہے،تو یہ سب کچھ اسی مادرعلمی کی مرہون منت ہے،میں 2006 ؁ء میں درجہ متوسطہ میں داخلہ کے لیے یہاں آیا ،انٹری ٹیسٹ میں شامل ہوا،اللہ تعالیٰ نے انٹری ٹیسٹ میں کامیابی نصیب کی اور 2006 ؁ء سے اسی جامعہ کا مستقل طالب علم ہونے کا شرف حاصل ہوا،2014 ؁ء تک یہی پر پڑھا ۔
جامعہ میں اولیٰ سے لیکر دورہ حدیث تک کے تمام اسباق پڑھائی جاتے ہیں،اس کے علاوہ جامعہ میں سپیشلائزیشن کے لیے دو الگ الگ کلاسیں ہیں، فراغت کے بعد جو علمائے کرام فقہ میں سپیشلائزیشن کرتے ہیں تو ان کے لیے ’’الفقہ الاسلامی‘‘کے نام سے دوسالہ کورس مقرر کیا گیا ہے،جن میں کلاسوں کا دورانیہ ایک سال ہے جبکہ دوسرے سال میں تحقیقی مقالہ لکھ لیتے ہیں،مقالہ لکھنے کے بعد جب اپنے ہی اس مقالہ کی خلاصہ لکھ کر جامعہ کے ترجمان’’العصر‘‘میں چھاپنے کے بعدان کامناقشہ ہوا کرتا ہے،تومناقشہ میں کامیاب ہونے کے بعد ان کو مستقل مفتی ہونے کا سنددیا جاتا ہے۔
مادرعلمی نے ہر قسم کے لوگوں کے علمی پیاس کو بجھانے کے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا ہے،اگر کوئی فارغ التحصیل احادیث میں سپیشلائزیشن کرنا چاہتا ہے،تو ان کے لیے بھی ایک کلاس کا اجراء’’تخصص فی علوم الحدیث‘‘کے نام سے کیا گیا ہے،اس کا دورانیہ بھی دو سال کا ہے،ایک سال مستقل پڑھائی جبکہ دوسرے سال تحقیقی کام ہوتا ہے،اور یہ سارا کہ سارا تحقیقی کام جامعہ کے کتب خانہ میں بطور ریکارڈ جمع کیا جاتاہے۔اس کے علاوہ جامعہ میں ’’عثمانیہ چلڈرن اکیڈمی‘‘کے نام سے ایک شعبہ ہے جوکہ ساتویں کے پاس طالب علم کوداخلہ دیتے ہیں اور میٹرک تک انہوں نے درجہ اولیٰ بھی پڑھاہواہوتا ہے، اس کے بعد وہ طالب علم درجہ ثانیہ میں بیٹھنے کا حق رکھتا ہے،جبکہ یہ طالب علم جب تک درجہ ثالثہ پڑھتا ہے تو تب تک اس طالب علم نے FSCبھی کی ہوگی،اسی طرح شہادۃ العالیۃ اور شہادۃ العالمیۃ کے ساتھ ساتھ گریجویشن اور ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کی ہوگی،جو کہBISEپشاور اور یونیورسٹی آف پشاور کے تحت ہے۔
مادرعلمی نے جہاں وفاق المدارس العربیہ پاکستان میں اپنا ایک مقام بنایا ہے تو وہاں پر’’ پشاور بورڈآف انٹر میڈیٹ‘‘ میں بھی اپنا ایک مقام رکھتی ہے،ہر سال جب سالانہ نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو وہاں پر مادرعلمی نے پوزیشنوں کی میدان میں اپنا سکہ جمایا ہوا ہوتا ہے۔وفاق المدارس جو کہ دینی مدارس کا ایک عظیم الشان بورڈ ہے،اکثر مدارس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں،لاکھوں کی تعداد میں طلبائے کرام وفاق المدارس کے تحت امتحانات دیتے ہیں،جب بھی نتیجہ سامنے آتا ہے تو جامعہ کے کئی ملکی پوزیشنوں کے ساتھ ساتھ صوبائی پوزیشن بھی ہوتے ہیں۔صرف اسی پر بھی بس نہیں بلکہ ’’پشاور بورڈ آف انٹر میڈیٹ‘‘میں بھی کئی مرتبہ جامعہ عثمانیہ پشاور نے پوزیشن لئے ہیں،اسی جامعہ کے طلبائے کرام جب پرائیوٹ امتحانات دیتے تھے تب سے بھی انہوں نے اپنے ہی محنت کے بل بوتے پر عصری اداروں میں اپنے جامعہ کا نام روشن کر کے کئی مرتبہ پوزیشن لئے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں اس طرح کے انعامات سے نہیں نوازا گیا جس طرح کہ کرنا چاہئے تھا،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے جامعہ کے کئی فضلاء کو بھی گولڈ میڈلسٹ کے لسٹ سے صرف اسی وجہ سے نکالا گیا تھا کہ یہ پرائیویٹ امتحانات دیتے ہیں اب جبکہ جامعہ کی ’’پشاوربورڈ آف انٹر میڈیٹ‘‘کے ساتھ مستقل رجسٹریشن بھی ہے مگر اب بھی جامعہ کے پوزیشنوں کوجانے یا انجانے طریقے سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔
مادرعلمی میں اسی کے ساتھ ساتھ شعبہ حفظ کے طلبائے کرام کے لیے مستقل’’دارالقرآن‘‘بنایا گیا ہے،چھوٹے بچے یہاں آکرحفظ قرآن کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں۔
جو بھی ادارہ جب اپنی طفولیت میں اتنی ترقی کرتی ہے اور مزید ترقی کی طرف گامزن ہوتی ہے،تو اس کے کچھ مرکزی کردار ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ترقی کے منازل کو طے کرتا ہے اور اپنی منزل مقصود کی طرف تیزی کے ساتھ رواں دواں ہوتی ہے۔تو بالکل اسی طرح اس جامعہ کے دو روح رواں ہیں،ایک مفتی غلام الرحمٰن جبکہ دوسرا مولانا حسین احمد(ناظم وفاق المدارس صوبہ خیبر پختونخوا)کے نام سے موسوم ہیں ان میں اول الذکر کو اللہ تعالیٰ نے گہری سوچ اور وسیع ظرفی کے ساتھ ساتھ فقہی میدان میں اعلیٰ کمال دیا ہے۔انہی کی نگرانی میں مادرعلمی میں ایک فقہی کمیٹی بنائی گئی ہے،جو کہ ’’المجلس الفقہی‘‘کے نام سے موسوم ہے،مشکل مسائل کو انہی کمیٹی کے سامنے لایا جاتا ہے،مہینہ میں ایک مرتبہ کمیٹی کے تمام ممبران جمع ہو کر مسائل پر غور وخوض کرتے ہیں۔
استاذی ومکرمی جناب مفتی غلام الرحمٰن صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص،للہیت،تقوی اور شرین گفتگو سے نوازا ہے،وہ ہر بات کو بڑے اچھے انداز میں پیش کرتے ہیں،مفتی صاحب کی فقہی نظر اپنی مثال آپ ہے،یہاں تک کہ جب مفتی صاحب کے استادوں کو بھی کسی مسئلہ میں کوئی دشواری پیش آتی تو ان کا مرجع شاگرد رشید حضرت مفتی صاحب ہوا کرتے تھے،اسی طرح کے بہت سارے واقعات مشہور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دفعہ شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ مادرعلمی تشریف لائے اور مفتی صاحب سے مسئلہ کی وضاحت پوچھ کر جامعہ سے روانہ ہوئے،ایک دفعہ ہمیں استاد محترم حضرت مولاناجمشید علی نے بتایا کہ حضرت مفتی صاحب نے ایک دفعہ دو آدمیوں کے درمیان کسی تنازع کا تصفیہ کرتے ہوئے فیصلہ ایک آدمی کے حق میں کیا،یہاں سے نکل کر وہ دونوں شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن شہیدؒ کے پاس گئے اور انہیں اپنا مسئلہ بتایا تو انہوں نے فیصلہ حضرت مفتی صاحب کے خلاف دوسرے کے حق میں کیا،اتنے میں اس دوسرے نے کہا کہ حضرت ہم اس سے پہلے مفتی غلام الرحمٰن کے ہاں گئے تھے اور انہوں نے فیصلہ اس طرح کیا تھا،مگر میرے اس دوسرے بھائی سے نہیں رہا اور وہ آپ کے پاس تشریف لائے،شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان شہیدؒ نے فرمایا کہ اچھا مفتی غلام الرحمٰن نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بسروچشم قبول ہے میں اپنے فیصلے کو واپس لیتا ہوں کیونکہ وہ فقیہ ہے،ان کو فقہ پر ید طولیٰ حاصل ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ کے دوسرے روح رواں استادی،ومکرمی جناب مولانا حسین احمد ہیں،جو کہ فاضل وسابق مدرس جامعہ فاروقیہ کراچی ہیں،مولانا حسین احمد ،شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان ؒ کے شاگرد خاص ہونے کے ساتھ ساتھ دست وبازوتھے،حضرت شیخ کا استاد محترم مولانا حسین احمد پر اتنا اعتماد تھا کہ اس کا الفاظ میں انحصار مشکل ہے،البتہ اعتماد کا ایک اعلیٰ مظہر یہ ہے کہ جب استاد محترم کی فراغت جامعہ فاروقیہ سے ہوگئی تو حضرت شیخ صاحب نے وہی پر ان کو درس وتدریس کا موقع دیا،استاد محترم کا چونکہ پہلے سے ادب کے ساتھ بہت لگاؤ اور محبت تھا،تو اسی ادب کے ساتھ لگاؤ کو برقرار رکھتے ہوئے وہاں جامعہ فاروقیہ کراچی میں اور کُتب کے ساتھ ساتھ ادب کی مشہور ومعروف کتاب’’مقامات حریری‘‘پڑھایا کرتے تھے،طلباء کو بھی ان کے سبق کا انتظار ہو اکرتا تھا،یہاں تک کہ بعد میں ان کو ادیب ہی کہا جانے لگا۔شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کا استاد محترم کے ساتھ بے پناہ محبت تھا،جب بھی حضرت پشاور تشریف لاتے تو مولانا حسین احمد کے ساتھ ضرور قیام کرتے تھے،اس کے علاوہ مولانا حسین احمد کو اگر ماہر تعلیم کہا جائے تو بجا ہوگا کیونکہ حالاً استاد محترم وفاق المدارس العربیہ پاکستان صوبہ خیبر پختونخوا کے ناظم ہونے کے ساتھ ساتھ امتحانی اور نصابی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔
مولانا حسین احمد جامعہ عثمانیہ پشاورکے ’’امین ادارۃ التعلیم‘‘کے منصب پر فائز ہے،اللہ تعالیٰ نے انہیں اخلاق حسنہ ،نظم وظبط،ڈسپلن اور شیرین کلامی کے ساتھ ساتھ تدریسی میدان میں بے پناہ قابلیت سے نوازا ہے،یہی وجہ ہے کہ جامعہ نے بھی اپنی زمانہ طفولیت میں ہر تعلیمی میدان میں اپنا سکہ جمایا ہے یہ سب کچھ استاد
محترم مولانا حسین احمد ہی کی مرہون منت ہے،کیونکہ یہ ہی تعلیمی سلسلوں کے امین اور ذمہ دار ہیں۔اللہ تعالیٰ جامعہ عثمانیہ پشاور کو دن دُگنی رات چگنی ترقیوں سے مالامال کردیں۔(آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *