گوجرانوالہ میں خطرناک مجرم کا انجام

گوجرانوالہ(وائس آف سوسائٹی نیوز) ہلاکت ، موت، قربانی ، فوتگی اور شہادت جیسے الفاظ کا مطلب سا نسوں کا جامد ہو کر روح کا اس جہاں سے دوسرے جہاں انتقال کر جانا ہے ۔مگرا ن تمام الفاظ کے مطالب میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ اپنے اپنے معانی کے لحاظ سے کوئی سرخرو ہو کر اس جہاں سے رخصت ہوتا ہے اور کوئی ذلیل و خوار ہو کر ۔مجھے یاد ہے کہ سابق آئی جی موٹر ویز ذوالفقار احمد چیمہ صاحب جب گوجرانوالہ پولیس کے کمانڈر تھے تو اس دور میں اغواء کاروں نے سر اٹھایا تو ایک معصوم بھی ان کی درندگی کا نشانہ بن کر شہادت کے رتبہ کو پہنچا ۔معصوم کو سج دھج سے سپرد خاک کیا گیا او ر اس کی یادگار لیاقت پارک میں تعمیر کی گئی جب کہ اغوا کار پولیس مقابلے میں گولیوں کا نشانہ بنے اور انہیں لعن طعن کے سا تھ جہنم کی وادیوں میں دھکیل دیا گیا۔ضلعی پولیس گوجرانوالہ کے 95سر فروش بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں سیکڑوں شر پسندوں کو جہنم رسید کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں ۔ان سب کی سانسیں اپنے اپنے اجسام سے جدا ہوئی ہیں۔موت کے ان راہیوں میں کوئی مر کے رسواء ہوا اور کوئی ہیرو کہلایا۔کوئی موت کی دادیوں کاگمنام مسافر ٹھہرا اور کوئی خالق حقیقی کا قرب پانے میں کامیاب ہوا ۔کسی کو جنت کی بشارت دی گئی اور کسی کو ملعون کہا گیا ۔کوئی مر کے بھی زندہ ہے اور کوئی زندہ رہتے ہوئے بھی مرا ہوا تھا ۔کسی کا جسم پاکیزہ ، محبت اور خوشبودار اور کسی کا جسم نجس، خبیث اور بد بو دار قرار دیا گیا اسی طرح گزشتہ دنوں تھانہ اروپ کے علاقے میں گوندانوالہ کا رہائشی ا بوبکر عرف بکرا پولیس مقابلے میں اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو کر اپنے منطقی انجام کو پہنچا ۔ پولیس کے مطابق ’’بکرا‘‘ کے خلاف قتل جیسے سنگین جرائم کی فہرست لمبی تھی۔گزشتہ ماہ بھی اس نے منشیات فروشی کی رقم کی تقسیم کے تنازعہ پر اپنے ہی گاؤں کے شبیر نامی شخص کو نہایت بے دردی سے قتل کرنے کے ساتھ ساتھ سلمان مسیح کو بھی ڈنڈے مار مار قتل کیا جب کہ ایک پٹھان کو تیز دھا ر آلے سے ذبح کیا ۔علاقے کے معززین اورمیڈیاکے مطابق ابوبکر عرف بکرا علاقے میں بدنام زمانہ منشیات فروش تھا۔دو تین کلو گرام ہیرؤئن اپنے پیٹ کے ساتھ باندھ کر فروخت کے لئے چلتا پھرتا رہتا تھا ۔ منشیات فروشی کے حوالے سے اس کا نام ’’ڈرگ لارڈ آف کی ایریا ‘‘مشہور تھا۔منشیات کے مقدمے میں جیل بھی کاٹ چکا تھا ۔دہشت پھیلانے کے لئے اپنے پاس گرنیڈ رکھتا ۔اخلاقی اورسماجی لحاظ سے نہایت گراہوا آدمی تھا ۔ اس کے شر سے علاقے کی خواتین کی عزتیں بھی محفوظ نہیں تھیں۔ زنا کے مقدمے میں سزائے موت کی سزا سنائی گئی مگر مدعی کو ڈرا دھمکا کر صلح کرنے میں کامیاب ہوا ۔شر پسند اور قبیح شخص کی گرفتاری پولیس کے لئے چیلنج تھی ۔ مخبری کے نیٹ ورک کو توسیع دیتے ہوئے پولیس اس کی تلاش میں تھی ۔گزشتہ دنوں مقامی پولیس کو اطلاع ملی کہ بدنام زمانہ شر پسند اور قتل جیسے سنگین مقدمات میں ملوث خطرناک ملزم ابوبکر عرف بکرا اپنے ساتھیوں سمیت گوندانوالہ کے قریب سار والہ ٹیوب ویل پر موجود ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لئے ایس ایچ او تھانہ اروپ قیصر عباس ، انسپکٹر محمد ریاض ، چوکی انچارج عالم چوک غلام مرتضیٰ و دیگران سمیت متذکرہ جگہ ریڈ کیا تو ملزمان نے پولیس پارٹی کو دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی اور گرفتاری سے بچنے کے لئے فائرنگ کرتے ہوئے قریبی جنگل نما علاقے میں فرارہو گئے ۔ جائے وقوعہ کے قریب جا کردیکھا تو موقع پر ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک کس کی لاش ، موٹر سائیکل اور کلاشنکوف ملی ۔ پڑتال ریکارڈ کرنے پر پولیس کو معلوم ہوا کہ ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والا بدنام زمانہ ابوبکر عرف بکرا ہے جو قتل جیسے سنگین بیسیوں مقدمات میں ملوث تھا۔ ہلاک ہونے والے ملزم کے فراری سا تھیوں کی گرفتاری کے لئے پولیس مختلف مقامات پر ریڈ کرر ہی ہے ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد فرار ہونیو الے ملزمان بھی پولیس کی حراست میں ہوں گے ۔شرپسند عنصر اور دہشت کی علامت ابوبکر عرف بکرا کی ہلاکت پر علاقے کے لوگوں نے اظہار تشکر کیا۔کالم کے آغازکے مندرجہ الفاظ کہ موت، ہلاکت ، شہادت ، قربانی اور فوتگی کے معانی میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔ابوبکر عرف بکرا اس دنیا سے انتقال کر چکا ہے ۔ روح جسم سے الگ ہو چکی ہے۔ ابوبکر جیسے اچھے نام کی طرح اپنے نام کے ساتھ موت کے حوالے سے شہید یا شہادت جیسا کوئی خوبصورت لاحقہ یا سابقہ نہیں لگا سکا۔ ملعون اور معتوب کہا جانے والا بد بخت ان اسفل سافلین میں شمار ہوا جو جیتے ہوئے بھی دوسروں کے لئے مرے ہوئے شمار ہو تے ہیں ۔دھرتی پر بوجھ بن کر رہنے والا ظالم جہنم رسید ہوا۔ کالے کرتوں کی و جہ سے علاقے میں ’’ ابوبکر ‘‘کی بجائے’’ بکرا ‘‘مشہور ہوا اسلامی فلسفہ کے مطابق ایک مسلمان کی موت یادگاری ہونی چاہیے ۔ ہلاکت کی بجائے شہادت کا لفظ اچھا لگتا ہے ۔ شہادت ہے بھی مومن کی مقصود و مطلوب ۔ مومن موت سے ڈرتا نہیں ۔سینے پر سجا ہواگولی کے نشان کو عظمت کا نشان سمجھتا ہے ۔یہی فلفسہ حیات ہے جو ایک مومن اور شر پسند ، ایک مسلمان اور کافر کے درمیان ہے بھلایہ کون سی زندگی ٹھہر ی جو دوسروں کے لئے باعث آزار ہو ۔دکھ اور درد دینے والے افعال کو مومن پسند نہیں کرتا ۔اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ہمہ وقت سکھ اور تبسم کا خواہاں یہ مومن اللہ کا وہ سپاہی ہے جو دوسروں کی عزت کو اپنی عزت خیال کرتا ہے ۔ صرف خیال ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے مر مٹتا بھی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس زندگی کا خاتمہ ہلاکت کی بجائے شہادت پر ہو۔لوگ ملعون کی بجائے محسن جیسے خوبصورت لفظ سے یاد کریں منشیات فروش، قاتل ، زنا کار اور شر پسندکی ہلاکت پر سٹی پولیس آفیسر اشفاق خان کاکہنا ہے کہ ضلع بھر میں کسی کی بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے ۔ شر پسند عناصر کا جینا دوبھر کر دیں گے ۔ امن اولین ترجیح ہے شرپسندی کے خاتمہ اور امن کے بول بالا کے لئے سٹی پولیس آفیسر اشفاق خان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں ۔انہوں نے پولیس مقابلے میں حصہ لینے والے پولیس ا فسروں اور اہلکاروں کے لئے انعامات کا بھی اعلان کیا ۔ان کے اس احسن عمل میں محکمہ پولیس کے جوانوں کا مورال بلند ہو گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *