پی سی بی کی سربراہی کا مسئلہ حل ہو گیا نجم سیٹھی حسب توقع تین سال کیلئے بلا مقابلہ منتخب

کسی مقابلے کے بغیر انتخاب پر بورڈ آف گورنرز کے اراکین کا شکر گزار ہوں،ان کے تعاون سے اس اہم ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کروں گا،گزشتہ سربراہ سے کسی قسم کاکوئی اختلاف نہیں تھا،چیئرمین
خوشی ہے الیکشن کا انعقاد آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا گیا،نئے بورڈ چیف سے امید ہے کہ وہ اپنے تجربے اور مہارت سے انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرکے تنہائی کا خاتمہ کریں گے ،شہریارخان کی مبارکباد
لاہور(وائس آف سوسائٹی نیوز)پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی کا مسئلہ حل ہو گیا جب نجم سیٹھی حسب توقع تین سالہ مدت کیلئے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے ،ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی مقابلے کے بغیر انتخاب پر بورڈ آف گورنرز کے اراکین کے شکر گزار ہیں،ان کے تعاون سے اس اہم ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کریں گے ،گزشتہ سربراہ سے کسی قسم کاکوئی اختلاف نہیں تھا،سابق سربراہ شہریارخان نے نجم سیٹھی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے الیکشن کا انعقاد آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا گیا،نئے بورڈ چیف سے امید ہے کہ وہ اپنے تجربے اور مہارت سے انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرکے تنہائی کا خاتمہ کریں گے ۔ تفصیلات کے مطابق پی سی بی کے نئے بورڈ آف گورنرز نے سابق وزیراعظم کی جانب سے براہ راست نامزد کردہ امیدوار نجم سیٹھی کو تین سالہ مدت کیلئے نیا چیئرمین منتخب کر لیا،وہ دس رکنی بورڈ آف گورنرز میں شامل واحد رکن تھے جنہوں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے لہٰذا انہیں بلا مقابلہ منتخب کیا گیا۔نجم سیٹھی کا انتخاب اس وجہ سے بھی حیران کن نہیں رہاکیونکہ آٹھ جولائی کو اس وقت کے سرپرست اعلیٰ نے انہیں اور عارف اعجاز کو اس عہدے کیلئے نامزد کیا تھااور نجم سیٹھی فیورٹ امیدوار کا درجہ پا چکے تھے ۔واضح رہے کہ چیئرمین پی سی بی کی نشست گزشتہ دنوں 83سالہ شہریارخان کی مدت ختم ہونے کے بعد سے خالی تھی جن کی جگہ عارف اعجاز کو گورننگ بورڈ میں شامل کیا گیا جبکہ دیگر اراکین میں واپڈا کے مزمل حسین،حبیب بینک کے نعمان ڈار،سوئی سدرن گیس کے مفتاح اسماعیل،یو بی ایل کے منصور مسعود خان،کوئٹہ کے مراد اسماعیل،سیالکوٹ کے محمد نعمان بٹ،لاہور کے ندیم احمد اورآئی پی سی کے نان ووٹنگ رکن امجد علی خان شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ روز چیئرمین کا انتخاب کیا تاہم فاٹا کے نمائندے نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔اپنے بلا مقابلہ انتخاب کے بعد نجم سیٹھی نے گورننگ بورڈ اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے تعاون سے یہ بھاری ذمہ داری نبھانے کی کوشش کریں گے ۔انہوں نے سابق چیئرمین شہریارخان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ یہ سفر خاصا خوشگواررہا حالانکہ کافی لوگوں کی یہ سوچ تھی کہ ان کے درمیان خلیج حائل تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا کیونکہ وہ ایک نفیس شخصیت کے مالک ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نجم سیٹھی کا بطور چیئرمین دوسرا دور ہے جن کی لیڈرشپ کے حوالے سے پہلے دور میں ذکاء اشرف کے ساتھ طویل جنگ مئی دو ہزار چودہ میں ختم ہو گئی تھی البتہ وہ بورڈ آف گورنرز میں برقرار رہے اور انہوں نے پی سی بی کے علاوہ پاکستان سپر لیگ کے معاملات کو احسن طور پر چلایا۔ گزشتہ چیئرمین شہریارخان نے نجم سیٹھی کو چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ الیکشن کا انعقاد آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا گیا اوراب امید ہے کہ نجم سیٹھی اپنے تجربے اور رہنمائی کی بدولت پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال کرکے عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی کا خاتمہ کریں گے

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *