جھنگ حکومت نے کسانوں کے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے تو پھر اپنے قائدین کی ہدایت کے مطابق پنجاب بھر میں سات اگست کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر سامنے کسان پر امن احتجاج کریں گے

جھنگ(عمران رضا سے)حکومت نے کسانوں کے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے تو پھر اپنے قائدین کی ہدایت کے مطابق پنجاب بھر میں سات اگست کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر سامنے کسان پر امن احتجاج کریں گے۔ان خیالات کا اظہار کسان بورڈ پاکستان پنجاب کے صوبائی جنرل سیکرٹری صفدر سلیم نول ایڈووکیٹ اور ضلعی صدر کسان بورڈ جھنگ حاکم خان سیال نے پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر کسان بورڈ پاکستان کے دیگر رہنماء مہر انور سیال ۔مہر اکمل منظور لک،مہر محمد افضل خان بھروانہ، رانا ریاض احمد اور محمد افضل ارائیں بھی موجود تھے ۔مہر صفدر سلیم نول اور مہر حاکم خان سیال نے کہا کہ ملک کی ستر فیصد آبادی کسانوں پر مشتمل ہے لیکن روز بروز کسانوں کو ناجائز تنگ اور ظلم کرکے کسانوں اور زراعت کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ زراعت معیشت کی ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔جبکہ دوسری جانب کسان دشمن پالیسیوں سے زراعت کو ہی نیست و نابود کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کا مقصد حکومت گرانا نہیں بلکہ ہماری کوشش سے تو جمہوریت کو پروان چڑھتا ہے۔تاکہ عوامی نمائندے کسانوں کے مسائل حل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری مرکزی اور صوبائی قیادت کا فیصلہ ہے کہ اگرحکومت نے ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے تو پھر ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر پر امن احتجاج کیا جائے گاہم میڈیا کے توسط سے حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ حکومت کسانوں کے جائز مطالبات تسلیم کرے اور انکے حقوق دیکر ستر فیصد آبادی کے دل جیت لے۔انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فصلات کی کاشت کیلئے کسانوں کو بلا سود قرضے دے۔حکومت ہر فصل کے آنے سے پہلے امدادی قیمت کا اعلان کاشت کے موقع پرکرے ۔گنے کی سی پی آر کو چیک کا درجہ دیا جائے ۔دھان کے کاشتکاروں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دینے کا وعدہ پورا کیا جائے گنے کی بقایا جات کی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے اور تین سو روپے فی من ریٹ مقرر کیا جائے ۔قدرتی آفات سے متاثرہ کاشتکاروں کو معاوضہ دیا جائے ۔لینڈ ریکارڈ آفس میں کرپشن اور رشوت خور ی کا خاتمہ اور ایجنٹ مافیا کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔زرعی ٹیوب ویلوں کے بلوں میں فلیٹ ریٹ اور تین روپے فی یونٹ مقرر کئے جائے اور اوور بلنگ بند کی جائے ۔کھاد، بیج، سپریاور دیگر زرعی اشیاء پر جی ایس ٹی کا خاتمہ کیا جائے ۔وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق چھوٹے کاشتکاروں کو بلا سود قرضے دئیے جائیں۔زروی انکم ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے سرکاری مزارعین گھوڑی پال اور سرکاری رقبہ کے کاشتکاروں کو مالکانہ حقوق دئیے جائیں۔کسان رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے تمام جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں تاکہ کسان ملک کی معاشی ترقی میں اپناکلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو خوشحال پاکستان بناسکیں انہوں نے کہا کہ اگر یہ جائز مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر کے کسان سڑکوں پر آکر پر امن احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *