دور کے ڈھول سہانے

وائس آف سوسائٹی نیوز
یہ کائنات بڑی وسیع ہے اتنی کہ ہماری سوچ کی وسعتیں بھی دم توڑ جائیں۔ یہاں رنگ رنگ کے میلے ہیں اور ہر میلے کا اپنا اپنا رنگ ہے۔ کتنے محقق آ چکے مگر تحقیق جاری ہے وقت’ دریا کے پانی کی طرح رواں ہے اور ہم اس کے اندر بہتے جا رہے ہیں۔ ہر دن اک نئی شام لے کر آتا ہے اور ہر رات ایک نئی صبح کو جنم دیتی ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ہم یہاں سے گزر جاتے ہیں۔ ہمارا قیام یہاں محدود وقت اور خاص زمانے کے لیے ہے۔ یہی محدود وقت ہے کہ ہم نے خود کو ڈِیل کرنا ہے اور دوسروں کو بھی۔ مناظر چاروں طرف بکھیر دیے گئے ہیں اور درمیان میں آنکھ رکھ دی گئی ہماری اپنی آنکھ ۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ ہمارے پاس ان مناظر سے الجھنے کا وقت نہیں ہے۔ ہم منظر بدل نہیں سکتے’ ہاں اندازِ نظر ضرور بدل سکتے ہیں۔ پسِ منظر کو سمجھ لیا جائے تو منظر تکلیف دہ نہیں رہتا۔ آج انسان اپنے ارد گرد نظر آنے والے تضاد سے پریشان ہے عمل دوسرے کا’ پریشانی اپنی۔ در حقیقت ہر انسان جب ہر شے کا تجزیہ کرنے لگتا ہے تو پریشان ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پریشانی اپنی لا علمی کا نتیجہ بھی ہے۔ اپنے دائرہءِ اختیار کا علم نہ ہو تو انسان اس دائرے سے باہر نکل جاتا ہے’ اور کوئی بھی شے جب اپنے دائرے سے باہر نکلتی ہے تو اس کے عناصر بکھرنے لگتے ہیں۔ غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس دنیا میں ظلم ہمیشہ سے ہے اور رحم بھی ہمیشہ سے ہے۔ آدمی کا مزاج ایسا ہے کہ جب کوئی کسی پر ظلم نہ بھی کرے تو یہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ کوئی اس سے محبت نہ بھی کرے تو یہ خود کسی سے محبت کر لیتا ہے۔ مطلب یہ کہ وجود کی کائنات ہو یا کائنات کا وجود’ دونوں میں خیر اور شر کی طرف میلان موجود ہمیشہ رہتا ہے۔ دنیا میں صرف ‘محبوب’ ہی رہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ دنیا جنت نہیں ہے اور دنیا میں صرف ‘معتوب’ ہی رہیں ایسا بھی نہیں ہو سکتا کہ یہ دنیا جہنم نہیں ہے۔
اصل میں اپنا سکون برقرار کھنے کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے۔ جو انسان اپنے سکون کی حفاظت نہ کر سکے اس نے کسی کے سکون کی حفاظت کیا کرنی۔ انسان اپنے آپ سے ناراض ہے’ اپنوں سے ناراض ہے’ ٖقصبوں میں رہنے والے گلہ کرتے ہیں کہ ان کا حق شہروں کو مل رہا ہے’ شہروں میں رہنے والے صوبوں پر تنقید کرتے ہیں کہ ان کے حقوق آپس میں غصب ہو جاتے ہیں’ ممالک کو گلہ ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف سازش ہوتی ہے۔ مگر اس صورتِ حال میں انسان نے انفرادی طور پر کیا کرنا ہے؟ کیا ہر کوئی ہر کام کر سکتا ہےِ ؟ اگر ہو سکتا تو ہو چکا ہوتا کہ دنیا میں بڑے ذہین لوگ آئے اور بڑے بڑے کام کر کے چلے گئے۔ مگر سب نے اپنا ہی کام کیا’ نیوٹن نے ملٹن جیسا شعر کہا نہ آئن سٹائن نے شیکسپیئر جیسا ڈرامہ لکھا۔ آج ہر انسان ہر کام کر رہا ہے مگر کوئی انسان بھی کوئی کام نہیں کر رہا۔۔۔۔ ہم صحافت پر بولتے ہیں مگر ہم صحافی نہیں’ ہم سیاست پر بولتے ہیں حالانکہ ہم سیاستدان نہیں۔۔۔ ہم ملک کے حالات پر تبصرہ کرتے ہیں جبکہ ہم اپنے گھریلو حالات سے پریشان ہیں۔ ہمیں اپنے پڑوسی کے دکھ کا اندازہ نہیں مگر ہمیں ساری دنیا کے دکھ ہیں۔ انسان کو ہمیشہ دور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں چاہے غم کے ہوں یا خوشی کے۔۔۔۔۔ اسے قریب کے دکھ نظر آتے ہیں نہ سکھ ۔ ہم بھول گئے ہیں کہ ہمارے گھر والے ہماری دنیا ہیں’ ہمارا حلقہءِ احباب ہماری کائنات ہے۔ ہم اپنی دنیا اپنی کائنات سے غافل ہیں محض اس لیے کہ ہم اپنے آپ سے غافل ہیں۔ ہم نے ہر شعبہ پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھ لیا اور یوں اپنے حقوق سے دور ہو گئے۔ آج انسانوں کے حقوق پر تنظیمیں بن رہی ہیں اور ان تنظیموں کے ممبران کے اہلِ خانہ سے پوچھا جائے کہ آپ کے حقوق ادا کر دیے گئے ؟ ۔۔۔ تو شاید جواب اتنا مثبت نہ ہو۔ ہم بہت سارے لوگوں کا گلہ کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ بہت سارے لوگ ایسے ہیں جنھیں ہم سے گلہ ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم اپنا دائرہءِ اختیار پہچانیں۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سا کام ہے جسے کرنا صرف میرا فرض ہے۔۔ وہ کون سا دل ہے جسے صرف میں ہی راضی کر سکتا ہوں۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ اپنا ہی دوست زندگی سے پیاسا چلا جائے اور انسان سبیل نہ لگانے والوں پر تنقید کرتا رہ جائے!

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *