لاہور کے قبرستان دہشگردوں کے سہولت کاروں اور اشتہاریوں کے اڈے

درباروں اور آستانوں میں بھی جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کا انکشاف، مزاروں پر منشیات کا دھندا عروج پر پہنچ گیا۔ مشکوک کال ٹریس ہونے پر میانی صاحب سے 5 مشتبہ دہشتگرد پکڑے گئے، پولیس اہلکارہی مخبر بن گئے
تفصیل
لاہور: (وائس آف سوسائٹی نیوز) صوبائی دارالحکومت لاہور کے میانی صاحب قبرستان سمیت پانچ قبرستانوں کے درباروں اور مزاروں پر دہشتگردوں کے سہولت کاروں، معاونت کاروں، خطرناک اشتہاریوں اور جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جبکہ قبرستانوں میں نام نہاد پیروں کے آستانوں پر منشیات کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ ذرائع کے مطابق میانی صاحب قبرستان کی ہزاروں کینال زمین پرقبضہ ہو چکا ہے۔میانی صاحب، نصیر آباد، کوٹ لکھپت اور باغ گل بیگم سمیت پانچ قبرستانوں میں 42 دربار، مزار اور آستانے موجود ہیں جہاں دہشتگردوں، سہولت کاروں اور معاونت کاروں کے علاوہ جرائم پیشہ افراد اور خطرناک اشتہاری ملزم پناہ لیتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خفیہ ادارے نے میانی صاحب قبرستان سے ایک کال ٹریس کر کے ریکی کی اور درباروں سے 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق بعض پولیس افسر اور اہلکار نام نہاد پیروں کے آستانوں، درباروں اور مزاروں پر جا کر منتھلی بھی وصول کرتے ہیں اور جب بھی قبرستان میں کوئی پولیس ریڈ ہو تو پہلے ہی مخبری کر دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایک ایس پی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ میانی صاحب قبرستان کے ایک مزار پر دو خطرناک اشتہاری ملزم اسلم عرف سلو اور امجد نے پناہ لے رکھی ہے۔ دونوں اشتہاری ملزموں کو خفیہ ریڈ کر کے گرفتار کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ اور ہینڈ گرینڈ وغیرہ برآمد کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق میانی صاحب قبرستان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو تاجروں کو اغوا کر کے تاوان وصول کرتا ہے۔ سات ماہ کے دوران میانی صاحب قبرستان سے دو خواتین سمیت پانچ افراد کی لاشیں بھی ملیں جن میں سے بعض کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ درباروں، مزاروں اور آستانوں پر موجود نام نہاد پیروں کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں مقامی پولیس کا کہنا تھا درباروں اور مزاروں پر ایکشن لینا محکمہ اوقاف کی ڈیوٹی ہے، اگر پولیس کو حکم ملے تو اس کے بعد ہی مزاروں پر نام نہاد پیروں کے اڈوں کیخلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *