آل پنجاب مہریہ نصیریہ ٹرک اینڈ ڈمپر ایسو سی ایشن کے قیام کا مقصد

میرا تعلق بنیادی طور پر صحافت سے ہے۔ مگر ہمارے ایک بزرگ سماجی کارکن حاجی ملک محمد اکرم جو ٹرانسپورٹر بھی ہیں ، انھوں نے ٹرانسپورٹروں کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کی ایک ایسو سی ایشن تشکیل دی اور راقم کو دعوت دی کہ اس میں بحثیت فنانس سیکرٹری اپنی خدمات سر انجام دوں۔ ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے میں بھی ان کی ٹیم کا حصہ بنا ۔ اور اس تنظیم کا نام آل پنجاب مہریہ نصیریہ ٹرک ڈمپر ایسو سی ایشن رکھا گیا۔ میں نے جب ٹرانسپورٹ کے شعبہ پر ریسرچ کی تو پتا چلا کہ یہ طبقہ پاکستان کے تمام کاروباری حلقوں میں سب سے زیادہ مظلوم ہے۔ تو میں نے سوچا کہ ان کے بارے میں کچھ لکھا جائے۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ایک ایسا شعبہ ہے جو ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انفرادی طور پر ایک ٹرک و ڈمپر کا مالک پاکستان کے کسی بھی کاروباری شعبے سے زیادہ نقد ٹیکس ادا کرتا ہے۔ جو کہ ڈیزل ، موبل آئل ، سپئیر پارٹس و ٹائر کی خرید پر ٹیکس ، ٹال ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس کی مد میں سالانہ تقریباً 30لاکھ روپے کے قریب حکومتِ پاکستان کو ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود ٹرانسپورٹر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ۔ جہاں کے لوگ کوشش کرتے ہیں کہ بچت کر کے زندگی گزاری جائے ۔ ملک عزیز کے مختلف محکمہ جات کے زیر استعمال بسیں اور ٹرک جب نا کارہ ہو جاتے ہیں تو محکمہ انہیں نیلا م کر دیتا ہے۔ جو غریب ٹرانسپورٹر خرید لیتے ہیں۔ اور وہ ناکارہ ڈھانچہ پاکستان کے ان انجینئیرز کے حوالے کر دیتے ہیں جو پاکستان کی کسی یونیورسٹی یا کالج سے فارغ التحصیل نہیں ہوتے ۔ بلکہ بچپن میں ہی ان کا غریب باپ یا بیوہ ماں ان کو کسی استاد کے حوالے کر دیتے ہیں کہ استاد جی میرے بچے کو مکینک بنا دو ، ڈینٹر بنا دو ، الیکڑیشن بنا دو یا رنگ ساز بنا دو۔ پاکستان کی یہ مایہ نازانجینیرز جو ملک پر کبھی بھی بوجھ نہیں بنتے۔ نہ کسی کالج یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی تربیت پر کوئی سرکاری خرچہ آتا ہے یہ کاریگر عملی کام میں مہارت حاصل کر کے وہ کام کرتے ہیں جو جاپان و جرمنی کے انجینئیر ز نہیں کر پاتے ہیں۔ یہ نا خواندہ انجینرز اس پرانے چیسز کو اپنی محنت و مہارت سے دوبارہ نئی زندگی دے دیتے ہیں۔اور ان میں وہ کیبن اور انجن و گئیر بکسہ درست کر کے ان گاڑیوں میں فٹ کر دیتے ہیں۔ جن کو جاپان والے نا کارہ سمجھ کے ہمارے ملک میں سکریپ کی شکل میں بھیج دیتے ہیں۔ قابل تحسین ہیں یہ ان پڑھ انجینرز جو اس سکریپ کو نئی جاپانی گاڑیوں کے مقابلے کا تیار کر دیتے ہیں۔ ایک گاڑی کی تیاری پر کم از کم تیس افراد محنت کرتے ہیں جن میں چیسز والے انجن مکینک ، گئیر مکینک ، حسہ مکینک ، اٹو الیکٹریشن ، ڈینٹر و رنگ ساز ، ڈیکوریشن والے ، سیٹ بنانے والے شامل ہوتے ہیں۔ ان عظیم محنت کشوں کی تعداد پورے ملک میں لاکھوں کے قریب بنتی ہے۔ جن کے گھر کے چولہے ان ناکارہ گاڑیوں کے طفیل چلتے ہیں۔ یہ ناکارہ گاڑیاں جب نئی ہوتی تھیں تو ان کے مالکان کسٹم و ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ ادا کر کے ہی گاڑیوں کو روڈ پر لاتے تھے۔
کسٹم ڈیوٹی و مختلف ٹیکسز عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ نا کارہ انجن اور ناکارہ چیسز کو جو لوگ دوبارہ تیار کرتے ہیں وہ اپنا اور اپنے خاندان کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں ۔ حکومت وقت پر بوجھ نہیں بنتے اور یہی ٹرک و ڈمپر ان کی اور ان کے بچوں کی روزی کا سبب بنتے ہیں۔ عوام کو روز گار مہیا کرنا حکومت و قت کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر یہ محنت کش اپنی مدد آپ کے تحت روزی کما رہے ہیں اور حکومت وقت پر بوجھ نہیں بن رہے تو ان کو خراج تحسین پیش کرنا چائیے نہ کہ ان کو بے روز گار کر دیا جائے۔ اور بے رحم معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر یہ پرانے چیسز (لر والی ) اور آکشن والی گاڑیاں دوبارہ بننا بند ہو جاتی ہیں تو پورے پاکستان میں لاکھوں ڈرائیور کلینڈر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ساتھ یہ مکینک حضرات بھی بے روز گار ہو جائیں گے۔ کسٹم حکام کو سو چنا چائیے کہ یہ پرانی گاڑیاں دوبارہ کابل استعمال بنا کر ٹرانسپورٹرز حضرات جہاں ملکی معیشت کو پہیہ چلا رہے ہیں وہیں کڑوڑوں روپے کا قیمتی زر مبادلہ بھی بچا رہے ہیں۔ کیا یہ زر مبادلہ بچانا قومی خدمت نہیں ؟ دوسری طرف محکمہ ایکسائز اور ٹیکسیشن کے ETOحضرات سرکاری فیس لے کر جب گاڑی کی کاپی جاری کرتے ہیں تو پھر کسٹم حکام کا ان گاڑیوں کو پکڑ کا بند کر دینا ٹرانسپوٹر کے ساتھ سر ا سر ظلم کے مترادف ہے۔ کیا ضروری ہے کہ ہر ٹرانسپورٹر جا پان سے نئی گاڑی منگوائے اور ملک کا قیمتی زر مبادلہ ضائع کرے ، ایک ٹرانسپورٹر اپنی گاڑی کی تیار ی پر 50سے 60لاکھ روپے خرچ کرتا ہے ، وہ سارے کا سارا پیسہ پاکستان میں ہی رہتا ہے۔ جس سے پاکستان کے ہنر مند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وزارت خزانہ کے حکام سے گزارش ہے کہ کسٹم حکام کو پابند کریں کہ ان گاڑیوں کو چلنے دیا جائے تا کہ ملکی معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور ملک میں بے روز گاری کم ہو سکے۔ اتنی لمبی بات کرنے کا مقصد ہے کہ یہ گاڑیاں صرف ٹرانسپورٹرز کو ہی فائدہ نہیں دے رہی بلکہ حکومت وقت کو بھی مختلف مد میں لاکھوں روپے سالانہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ جو نقد کی صورت میں ادا ہو رہا ہے۔ جب کہ ملکی صنعت کار اور دوسرے کاروباری حضرات حکومت کو جو ٹیکس دے رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ ایک ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہی ایسا ہے جو کمائی بعد میں کرتا ہے ٹیکس پہلے ادا کرتا ہے۔ اور یہ ٹیکس بھی کرپشن فری ہوتا ہے۔ اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ اس مظلوم طبقے کی بات سنے اور ان کا تحفظ کرے ۔ ٹرانسپورٹرز کے انہی جائز مطالبات کے حل کے لئے ہی آل پنجاب مہریہ نصیریہ ٹرک اینڈ ڈمپر ایسو سی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ تا کہ حکومت وقت سے اور کسٹم حکام سے مل کر ٹرانسپورٹرز کی جائز مشکلات کو حل کیا جا سکے۔
تحریرخادم حسین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *