پاناما سیاست (عبدالقادر حسن)

پاناما سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے کو ہے، کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار اس کیس کے ممکنہ متاثرین کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام بھی بڑی بے چینی کے ساتھ کر رہے ہیں کہ یہ فیصلہ پاکستانی سیاست کا ایک نیا رخ متعین کرے گااور اس کے بعد ملک میں نئی سیاسی صف بندیاں اور آنے والے انتخابات کے لیے نئے سیاسی اتحاد بھی تشکیل پائیں گے ۔
اس اہم ترین کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ فریقین کی سانسیں اوپر نیچے ہوتی رہیں کہ وہ ابھی تک امید و بیم کی کیفیت میں ہیں اور ہر فریق اس کیس کافیصلہ اپنے حسب منشاء آنے کی توقع لگائے بیٹھا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران اور خاص طور پر جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد سیاسی فریقین میں سیاسی تلخی اپنے نقطہ عروج پر رہی،ایک دوسرے پر مسلسل لفظی گولہ باری کے ذریعے ایک دوسرے پر حملے کیے جاتے رہے تا کہ عدالت میں مقابلے ساتھ سیاسی میدان میں بھی اپنی موجودگی کو برقرا ر رکھا جائے، عوام اور خاص طور پر اپنے کارکنوں کے جذبوں کو زندہ رکھا جائے اور ان کو جلا دی جائے تاکہ بوقت ضرورت ان کو استعمال کیا جا سکے تا کہ سیاسی میدان میں یہ ثابت کیا جائے کہ اس کیس کے فریقین عوامی مقبولیت رکھتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے کی روایتی شائستگی کو اس وقت پس پشت ڈال گیا ہے اور بات مرحوم والدین تک پہنچ گئی ہے۔
جس کے بارے میں مختلف تاویلیں بھی پیش کی جا رہی ہیں لیکن ہم جس خطے کے باسی ہیں یہاں پر روایات ہی تو ہیں جن کے سہارے ہم زندہ ہیں اور بد ترین دشمنی میں بھی ان روایات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور دشمنی میں خاص طور پرخواتین اور بزرگوں بچوں کو شامل نہیں کیا جاتا، ہاں نوجوان افراد کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کی جاتی لیکن برا ہو اس سیاست کا کہ جس نے اس روایت کو بھی ماند کر دیا اور ہم اخلاقی پستی کی اس حد تک گر گئے کہ مرحومین کے بارے میں بھی تبصرے جاری ہیں ۔ میرے مطابق اس قسم کے تبصروں کو ناپسندیدگی سے سننا اور ان کی مذمت کرنی چاہیے کہ بزرگوں کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے اور ان کو اس مقام کے مطابق عزت دینا ہمارا فرض اور مشرقی روایت بھی ہے۔
میدان سیاست میں وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے کہ آپ کس وقت کون سی چال چلتے ہیں اور اس کے لیے مناسب وقت کیا ہے کیونکہ سیاسی چالبازیوں سے ہی آپ اپنی سیاست کو زندہ اور اپنے اقتدار کو دوام بخش سکتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے اس کیس میں اپنے پتے مناسب مواقع پر شو تو کیے لیکن ان کے پتے وہ تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے جس کی حکمران خاندان کی جانب سے توقع کی جا رہی تھی اور بات وہیں پہ اٹکی رہی جہاں شروع دن سے تھی اور عدالتی اصرار کے باوجود حکمران خاندان اپنے حق میں موثر حقائق پیش کرنے میں ناکام رہا اور اب عدالتی فیصلے کا انتظار ہو رہا ہے کہ اس محفوظ فیصلے سے کیا نکلتا ہے اور کون اس کا شکار بنتا ہے۔
ایک بات تو لازمی ہے کہ اس کیس کے فیصلے سے دو بڑے فریقین میں سے ایک نے ضرور متاثر ہونا ہے اور ایک فریق حکمران خاندان کی جانب سے پہلے ہی اس پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا اور پہلے پہل تو وزیر اعظم کے نورتن اس بارے میں اظہار خیا ل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے تھے لیکن بعد میں وزیر اعظم میاں نواز شریف بقلم خود اس میں شامل ہو گئے اور انھوں نے اسے حتساب کے بجائے استحصال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کوئی نہیں مانے گا ۔ کوئی سے مراد ان کی کوئی اور نہیںوہ خود تھے جو براہ راست اس کی زد میں ہیں اور اس سے ان کی سیاست متاثر ہونے کے خدشات ہیں ۔ یہ تو ان کی حکمت عملی ہے کہ حکومت کی جانب سے اس کیس میں اپنا دباؤ برقرار رکھا جائے۔
جس سے کارکن بھی متحرک رہیں گے اور اپنا مافی الضمیربھی مقتدر حلقوں تک پہنچایا جا سکے گا۔ دوسری طرف اگلے ہی روز حکمران خاندان کے اجلاس میں مشاورت کے بعد یہ اتفاق رائے سامنے آیا کہ اگر عدالتی فیصلہ خلاف آیا تو اس کو قبول کیا جائے گا اور اس فیصلے کے بارے میں قانونی و آئینی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا ۔ حکمران خاندان کی جانب سے بدلتی حکمت عملی ان مضمرات پر مشتمل ہو سکتی ہے جن کا ادراک میاں صاحبان کو ان کے مخلص و ہمدرددوستوں کی جانب سے کرایا گیا ہے کہ اس وقت براہ راست ٹکراؤ سے کچھ ہاتھ آنے والا نہیں بلکہ جو کچھ ہاتھ میں ہے اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور پھر وہیں پر آکر کھڑے ہوجائیں جہاں سے چار سال پہلے شروع کیا تھا بلکہ حالات کا کچھ پتا نہیں کہ کس کروٹ بیٹھ جائیں ۔
یہ صائب مشورہ جس نے بھی دیا وہ کوئی عالی دماغ ہی ہو گا جس کی بات سنی بھی جاتی ہے کہ عموماً حکمرانوں کے کان اور آنکھیں نہیں ہوتے اور وہ صرف اپنے مطلب کی بات سننا اور کہنا پسند کرتے ہیں ۔ نواز حکومت کو اپنی حکومت کے لیے بچے کھچے کچھ ماہ ابھی درکار ہیں کہ ان کی جانب سے شروع کیے گئے بجلی کے مختلف منصوبے ، ٹرین اور موٹرویز ابھی زیر تکمیل ہیں اور ان میں سے کچھ منصوبوں کو حکومتی مدت میں ہی مکمل ہو جانا ہے اس لیے نواز شریف کبھی یہ نہیں چاہئیں گے کہ وہ ان منصوبوں کو ادھورا چھوڑ کر انتخابی میدان میں اتریں لیکن اس صورت میں یہ نامکمل منصوبے اور بجلی کا بحران ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا اور پھر الیکشن میں توقعات کے برعکس کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔
دوسری جانب کے فریقین میں حقیقی معنوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی جماعت تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ ہے جن کے قائدین روز وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ دہراتے ہیں ۔ ان جماعتوں نے بھی عدالتی سماعت کے بعد یہ توقعات اور امیدیں باندھی ہوئی ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا لیکن ا سکے ساتھ ساتھ یہ بھی مسلسل کہا جارہا ہے کہ عدالتی فیصلہ تسلیم کیا جائے گا لیکن اگر فیصلہ ان کی توقعات کے برعکس آیا تو میرا خیال ہے کہ یہ اس وقت کوئی نئی منطق نکالتے ہوئے اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے اور اپنے کارکنوں کو ایک بار پھر ایک اور دھرنے کے لیے جمع کیا جائے گا ۔
یہ تمام باتیں قبل از وقت ہیں اور میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ہمیں صبر کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا ہو گا۔ لیکن کیا کیا جائے اس نگوڑی سیاست اور جمہوریت کا کہ جس کے لیے ہمیں روز کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا ہے لیکن میں ذاتی طور پر جمہوریت سے مایوس نہیں ہو ں بلکہ پُر امید ہوں کہ اس بار بھی مارشل لاؤں کے زیر سایہ پلی بڑھی ہماری لولی لنگڑی جمہوریت ہمارے سیاستدانوں کی کمزوریوں کے باوجود اسی جمہوریت میں سے اپنا راستہ نکالے گی اس جمہوریت کو بچانے اور اس کو پروان چڑھانے میں سیاستدانوں کی قربانیاں شامل ہیں ۔ فیصلہ وقت کرے گا کہ جمہوریت کی بقاء میں کس نے کیا کردار ادا کیا اور کون اس کے خلاف سازشیں کرتا رہا۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *