امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے جرم سے رہائی تک کی داستان

اسلام آباد(وائس آف سوسائٹی نیوز) مجھے اپنی پستول نکالنے میں زیادہ وقت نہیں لگا ۔ میں نے ایک سیکنڈ میں اپنی ٹی شرٹ میں ہاتھ ڈال کر پستول باہر نکال لی۔آپ کو حیرت ہو گی کہ ایسا کیسے ہوا لیکن میرے لئے یہ معمول کی تربیت تھی ۔ میں نے اپنی ساری زندگی اسلحہ چلانے میں ہی بسر کی ہے۔ نجی زندگی سے لے کر فوج تک اسلحہ سے میرا انتہائی قریبی تعلق رہا ہے ۔ میرے ٹرینرز اور افسران تو جانتے ہیں کہ میں اسلحہ کے استعمال میں کتنا تیز ہوں لیکن اگر اس بات کا علم ان نوجوانوں کو بھی ہوتا جو مزنگ چوک میں مجھ پر حملہ آور ہوئے تھے تو شاید وہ کبھی بھی یوں مجھ سے ٹکرانے کی غلطی نہ کرتے۔ ایسی صورت میں اس شام انہیں موقعہ واردات سے ہٹنے کے لئے کئی بہانے مل سکتے تھے ۔ اس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ میں کس قدر تیزی سے اپنی پستول نکالنے میں کامیاب ہو جاؤں گا ۔ میرے پاس مکمل آٹو میٹک نئی پستول تھی۔ جیسے ہی میرا ہاتھ کار کے سٹیرنگ سے اوپر ہوا میں نے برق رفتاری سے ان پر فائر کر دیا ۔ یہ پستول برانڈ نیو گلک 17 تھی جو مجھے لاہور پہنچتے ہی فراہم کی گئی تھی۔اس وقت میرے پاس دیگر ضروری اشیا بھی موجود تھیں جن میں جی پی ایس ، ریڈیو ، کیمرہ فون وغیرہ شامل تھے ،اس روز مزنگ چوک میں میں نے دو یا تین سیکنڈ میں 10 گولیاں چلائیں اور کھیل ختم ہو گیا ۔ میری گولیاں گاڑی کی ونڈ سکرین توڑتی ہوئی اپنے ٹارگٹ کی جانب گئی تھیں لیکن اس کے باوجود ساری گولیاں اپنے حدف پر لگیں ۔ میرا نشانہ بہت اچھا تھا ۔ اس وقت مزنگ چوک پر کافی رش تھا لیکن پھر بھی کوئی غیر متعلقہ شخص زخمی نہ ہوا۔ اگر نشانہ تھوڑا سا بھی چوک جاتا تو کافی لوگوں کی جان جا سکتی تھی۔ اس روز ہلاک ہونے والوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے شخص کوپانچ گولیاں لگی تھیں جن میں سے ایک دائیں ٹانگ پر ، ایک بائیں ٹانگ پر ، دو گولیاں سینے پر اور ایک سر کے پیچھے لگی تھی۔ وہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تھا جبکہ فیضان حیدر کو پانچ گولیاں پشت پر لگی تھیں اور وہ شدید زخمی ہو گیا تھا ۔ ان کی موٹر سائیکل وہیں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے درمیان سڑک پر گر گئی تھی۔فیضان حیدر نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن شدید زخمی ہونے کی وجہ سے زیادہ دور نہ جا سکتا اور میری کار سے تیس فٹ دور جا کر گرا اور وہیں مر گیا۔یہ درست ہے کہ کسی شخص کی جان لینا قابل تعریف عمل نہیں ہے لیکن جب کوئی شخص مجھ پر اسلحہ تان لیتا ہے تو اس وقت سب سے سے اہم اپنی جان بچانا ہوتا ہے اور اس فوری خطرے کو ختم کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے ۔ میں نے ان پر آخری گولی چلاتے ہی فوراً اپنے ارد گرد دیکھا کہ کہیں کوئی اور خطرہ تو میرے سر پر نہیں منڈلا رہا ۔ گولیاں چلانے کی وجہ سے میری گاڑی کی ونڈ سکرین بری طرح متاثر ہوئی تھی اور مجھے واضح طور پر نظر نہیں آ رہا تھا لہذا میں گاڑی سے باہر نکل کر ارد گرد کا جائزہ لینے لگا ۔ اس وقت کافی لوگ وہاں جمع ہو رہے تھے لیکن اب میں خطرے سے باہر تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ جگہ پر سکون ہو گئی لیکن میں جانتا تھا کہ یہ خاموشی عارضی ہے۔ وہاں سے امریکی قونصلیٹ تین میل کی دوری پر تھا ۔ میں نے فوراً! ہی اپنے سفری بیگ سے کیمرہ نکالا اور فیضان کی تصاویر بنانے لگا۔ میں مقامی انتظامیہ کو دینے کے لئے کچھ ثبوت اکٹھے کرنا چاہتا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *