کامل ولی کی اہم علامات(تحریر چوہدری محمد یاسین مہر )

قرآن و سنت کا عالم ہو، گو کسی مدرسہ سے فارغ التحصیل عالم نہ ہو لیکن بقدر ضرورت قرآن مجید کے معانی اور کسی حد تک احادیث مبارکہ جانتا ہو۔ فقہی مسائل سے پوری طرح واقف ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ پیرومرشد کا اصل منصب ہی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کا امر کرے جن کا شریعت نے حکم دیا ہے مثلاً نماز، روزہ، صبر و شکر، قناعت، توکل و تقویٰ کی تلقین کرے اور جن امور سے قرآن و حدیث نے روکا ہے مثلاً جھوٹ، غیبت چوری وغیرہ ان سے لوگوں کو روکے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب وہ خود ان چیزوں سے باخبر ہوگا، ورنہ ”آنکس کہ خود گم است کرا رہبری کند“ کہ جو خود راستہ سے بھٹکا ہوا ہو وہ کسی اور کو کیا راستہ دکھائیگا۔ اور اس کے ساتھ مریدین کی تربیت حسنِ اخلاق و محبت سے کرے۔ ارشاد الٰہی ہے ”اُدْعُ اِلَیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ باِلحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ“متقی و پرہیزگار ہو یعنی کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہو اور صغیرہ گناہ اگر اتفاقاً سرزد ہوجائے تو اس پر اصرار نہ کرے، جلدی سے توبہ و رجوع الی اللہ کرے۔ دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر رکھتا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیوی کام کاج ہی نہ کرتا ہو، جائز و حلال طریقہ پر جتنا چاہے دنیوی کام بے شک کرے لیکن اسکی وجہ سے آخرت کے معاملہ میں کوتاہی نہ کرتا ہو۔ اعمال صالحہ شوق سے کرتا ہو اور دل سے ہمہ وقت متوجہ الی اللہ رہتا ہو، خواہ بظاہر کتنا ہی وقت دنیوی کاموں میں مصروف رہتا ہو۔ کسی شیخ کامل کی صحبت ادب و محبت سے اختیار کی ہو اور اس سے باطنی نور حاصل کیا ہو۔ یہ اس لیے لازم ہے کہ قدیم سے سنۃ الٰہیہ ہے کہ ”اِنَّ الرَّجُلَ لاے صْلحُ اِلَّا اِذَا رَءَ الْمُصْلَحِیْنَ“ کہ نیک لوگوں کو دیکھ کر ہی کوئی آدمی فلاح پاسکتا ہے۔ اسی طرح ہے جیسے کوئی علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو علماء کی صحبت اختیار کرتا ہے۔مریدین کے مال و ملکیت میں طمع و لالچ نہ رکھتا ہو اورنہ یہ چاہے کہ کوئی میری تعریف یا تعظیم کرے۔ مریدوں کی صلاحیتوں سے باخبر ہو اور استعداد و صلاحیت کے مطابق انکی تربیت کرے۔ اگر خدانہ خواستہ کسی ناقص پیر کے حضور سے اس کے پاس کوئی مرید آجائے تو حکیم حاذق کی طرح پہلے اس کے مرض کی تشخیص کرے، اس کے بعد دوائی دے۔ اخلاقی کمزوریوں کو سمجھ کر تلقین کے ذریعے اسکی اصلاح کرے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ناقص پیر جس نے خود سلوک کی تکمیل نہیں کی اور جذبہ کے مقام پر نہیں پہنچا، اس کی صحبت زہر قاتل ہے اور اسکی طرف رجوع کرنا مرض مہلک ہے۔ ایسے پیر کی صحبت سے بلند استعداد رکھنے والے مرید کی صلاحیتیں ضایع ہوجاتی ہیں۔ سلوک کی تکمیل صرف شیخ کامل مکمل کراسکتا ہے۔ لہٰذا ناقص پیر سے طریقت کی تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں اور نہ اس سے جس کے آباء واجداد تو کامل و مکمل ولی تھے لیکن یہ انکی راہ پر نہیں چلا۔ اس لیے اس میں وہ صلاحیت نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *