باہمی صلح صفائی کی فضیلت (تحریرحافظ کریم اللہ چشتی پائی)

ارشادباری تعالیٰ ہے۔”فَاتَّقُواللّٰہَ وَاَصْلِحُوْاذَاتَ بَیْنِکُمْ”ترجمہ اللہ پاک سے ڈرواورآپس میں صلح کرو۔(سورہ الانفال۱پارہ۹)
اللہ رب العز ت جل شانہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے۔ انسانوں میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جودوسروں کے لئے اچھاہواور دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔قرآن پاک میں ارشادپاک ہے کہ اس دنیامیں عزت اورکامیابی انہی لوگوں کونصیب ہوتی ہے جوخلق خداکی خدمت اوراس کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ آقاﷺنے ارشادفرمایا”خیرالناس من ینفع الناس”لوگوں میں اچھاوہ ہے جولوگوں کونفع دیتا ہے ۔لوگوں میں اچھا بننے کابہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ ہم مخلوق خدا کی خدمت کریں اوراس کوفائدہ پہنچائیں۔کیونکہ اسی میں ہماری دنیاوی کامیابی اورآخرت کی کامیابی کاراز پوشیدہ ہے۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ رسول ﷺنے ارشادفرمایا”کہ مسلمان مسلمان کابھائی ہے ، نہ اس پرزیادتی کرتاہے نہ اسے(بے یارومدگارچھوڑکردشمن کے)سپردکرتاہے جواپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگاہواللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتاہے ۔جوکسی مسلمان سے کوئی پریشانی دورکرتاہے،اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دورفرمادے گااورجس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(مسلم ،بخاری)
ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہکنزالایمان”اوراگرمسلمانوں کے دوگروہ آپس میں لڑیں توان میں صلح کراؤپھراگرایک دوسرے پرزیادتی کرے تواس زیادتی والے سے لڑویہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھراگرپلٹ آئے توانصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردواورعدل کروبے شک عدل والے اللہ کے بڑے پیارے ہیں مسلمان مسلمان بھائی ہیں تواپنے دوبھائیوں میں صلح کرواوراللہ پاک سے ڈروکہ تم پر رحمت ہو”(سورۃ الحجرات آیت۹،۱۰)
آیت کریمہ کاشان نزول:ایک بارآقادوجہاں سرورکون مکاں ﷺسواری پرتشریف لے جارہے تھے ۔انصارکی ایک جماعت پرگزرہوا وہاں ابن ابی منافق بھی بیٹھاتھا۔آقاﷺکے خچرنے پیشاب کیاتواس منافق نے ناک بندکردیا۔عبداللہ بن رواحہ نے کہاکہ حضورﷺکے خچر کاپیشاب تیرے مشک سے بہترہے اس پرابن ابی منافق کی قوم ناراض ہوئی اوردونوں جماعتیں آپس میں لڑپڑیں نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ان میں صلح کرادی اس موقعہ پریہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔اس سے معلوم ہواکہ مسلمانوں میں صلح کراناحضورﷺکی سنت اوراعلیٰ درجہ کی عبادت ہے ۔حقوق کی بھی دوقسمیں ایک حقوق اللہ دوسراحقوق العباد،حقو ق اللہ میں اللہ تعالیٰ کے حقوق مثلاََ نماز،روزہ،وغیرہ شامل ہیں حقوق العباد سے مرادبندوں کے حقوق ہیں ۔اللہ پاک اپنے حقو ق تواپنی رحمت سے معاف کردے گاپربندوں کے حقوق تب تک معاف نہیں ہوں گے ۔ جب تک وہ بندے معاف نہ کریں۔دوناراض مسلمان بھائیوں کے درمیان صلح کرانابھی حقوق العبادمیں شامل ہے ۔مسلمان کایہ کام ہے کہ جہاں کہیں بھی دوناراض مسلمان بھائیوں کودیکھے توان کے درمیان صلح کرادے کیونکہ ایک مومن دوسرے مومن کاآئینہ ہے اورمومن دوسرے مومن بھائی کابھائی ہے توبھائی کایہ کام نہیں کہ بھائیوں کوآپس میں لڑادے بلکہ بھائی کاکام بھی یہی ہے کہ دوناراض بھائیوں کوآپس میں ملادے مسلمان بھی وہ ہے جس کی زبان اورہاتھ کے ضررسے مسلمان محفوظ رہے ۔اورمومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگوں کواپنی جانوں اورمالوں کے بارے میں کوئی ڈراورخطرہ نہ ہو۔صلح کرانابھی نماز،روزہ ،صدقہ خیرات وغیرہ کی طرح یہ بھی ایک نیکی ہے ۔
آقائے دوجہاں سرورکون مکاںﷺکاارشادپاک ہے “کہ ایک مومن دوسرے مومن کاآئینہ ہے اورایک مومن دوسرے مومن بھائی کابھائی ہے ۔ اس کے ضررکواس سے دفع کرتاہے اوراس کے پیچھے سے اس کی پاسبانی اورنگرانی کرتاہے (سنن ابی داؤد)آقاﷺنے فرمایا” لوگوآپس میں حسدنہ کیاکرواورآپس میں بغض نہ رکھواورنہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرواوراے اللہ کے بندوبھائی بھائی ہوجاؤ۔(صحیح مسلم)
نبی اکرم نورمجسم ﷺکاارشادپاک ہے “دوآدمیوں کے درمیان صلح کرادویہ بھی ایک نیکی ہے تم کسی کواپنی سواری پربٹھالویااس کابوجھ اپنی سواری پررکھ لویہ بھی نیکی ہے اچھی بات بھی کہنانیکی ہے ۔تمہاراہرقدم جونمازکے لئے اٹھتاہے نیکی ہے راستے سے کانٹے پتھرہٹادینابھی نیکی ہے
حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہابنت عقبہ بن ابومعیط بیان کرتی ہیں کہ میں نے آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں ﷺکویہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے۔کہ وہ شخص جھوٹانہیں ہوتاجولوگوں کے درمیان صلح کروائے اوربھلائی کوپھیلائے اوربھلائی کی بات کرے (متفق علیہ)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ تک قطع تعلق رکھے دونوں آپس میں ملیں ایک کا رخ ایک طرف دوسرے کارخ دوسری طرف ہو تو ان میں سے بہتر ہو گا جوسلام میں ابتدا کرے گا۔
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بھی برگزیدہ بندے ہیں جن کے لیے روز ویامت نور کے منبر بچھائے جائیں گے جونہ تو انبیاء ہوں گے اور نہ ہی شہداء لیکن انبیاء و شہداء بھی ان پر رشک کریں گے ۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ! وہ کون لوگ ہیں ؟ْ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو رضائے الہٰی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہو ں گے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایاہے کہ آدمی کے ہرایک جوڑکی طرف سے صدقہ کرنالازم ہوتاہے اورہراس دن میں جس میں سورج طلوع ہوتاہے اگرتم دوآدمیوں کے درمیان انصاف کرتے ہوتویہ صدقہ ہے اوراگرتم کسی شخص کواس کے جانور پرسوارہونے میں مددیتے ہوتویہ صدقہ ہے اگرتم اس کاسامان اس پررکھوادیتے ہوتویہ صدقہ ہے اوراچھی بات کہناصدقہ ہے اورہروہ قدم جس کے ذریعے چل کرتم نمازپڑھنے کے لئے جاتے ہوتووہ صدقہ ہے اورتم راستے سے تکلیف دہ چیزکوہٹاتے ہوتووہ صدقہ ہے ۔متفق علیہ
حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مریض کی عیادت کے لئے ایک میل تک سفرکر،اللہ تعالیٰ کی رضاکی خاطراپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لئے دومیل تک سفرکراوردوناراض بھائیوں میں صلح کرانے کے لئے تین میل تک سفرکر۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جوشخص دوناراض بھائیوں میں صلح کرادے اللہ پاک اسے ہرکلمہ کے عوض ایک غلام آزاد کرنے کاثواب عطافرماتاہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا جنت کے دروازے سوموار اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں ۔ مشرک کے سوا ہر بندے کے لیے بخش و مغفرت کی نوید جانفزا سنا ئی جاتی ہے مگر ایسے دو شخص جن میں آپس میں بغض ہو ان کے بارے کہا جاتا ہے ان دونوں کے صلح کر لینے تک ان کا انتظار کرو جب ان کی باہمی رنجش کا معا ملہ تین دن سے زیادہ ہو جائے تو ان کے بلندیوں پر گئے ہوئے اعمال واپس لوٹادیئے جاتے ہیں ۔
حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آقاﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں نماز ،روزہ اور صدقہ سے افضل درجہ والا عمل نہ بتاؤں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ!آپﷺ نے فرمایا “جب دو بھائیوں کی باہمی رنجش ہو جائے تو ان کی آپس میں صلح کرا دینا” ۔
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشا د پاک ہے “کیا میں تمہیں آسان سا صدقہ نہ بتا ؤ ں ؟صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہنے عر ض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ضرور بتائیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بھائی آپس میں رنجیدہ ہو جائیں تو باہمی صلح کرا دینا ۔
حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے “قطع تعلقی اختیار نہ کر اگر ضروری ہی کوئی امر پیش آجائے تو تین دن سے زیادہ تک قطع تعلقی نہ کرو ایسے دو مسلمان مر جائیں جو باہمی قطع تعلقی کئے ہوئے ہوں تو جنت میں بھی جمع نہ ہوں گے” ۔
حضرت مولاعلی شیرخدارضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مغفرت وبخشش واجب کرنیوالی چیزوں میں سے ایک چیزیہ بھی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کوخوشیوں سے ہمکنارکیاجائے ۔
حضرت ابوالعباس سہل بن ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم رؤف رحیم جان کائنات فخرموجودات ﷺکویہ اطلاع ملی بنوعمرو بن عوف کے درمیان جھگڑاہونے والاہے آپﷺان کے درمیان صلح کروانے کے لئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تشریف لے گئے آقاﷺ وہیں مصروف رہے یہاں تک کہ نمازکاوقت ہوگیا۔سیدناحضرت بلال حبشیرضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدناحضرت ابوبکرصدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اورعرض کیا۔یاابوبکرؓ!آقاﷺتومصروف ہیں اورنمازکاوقت ہوچکاہے کیاآپ لوگوں کونمازپڑھائیں گے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہاہاں ٹھیک ہے اگرتم چاہو۔حضرت سیدنابلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی۔سیدناحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے کھڑے ہوئے انہوں نے تکبیرکہی لوگوں نے بھی تکبیرکہہ دی۔اسی دوران نبی کریمﷺصفوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے آئے اورپہلی صفوں میں آکرکھڑے ہوگئے لوگوں نے تالیاں بجاناشروع کیں ۔پہلے توسیدناحضرت ابوبکرصدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہنے نمازمیں ادھرادھرنہ دیکھا جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں توسیدناحضرت ابوبکرصدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہنے توجہ کی تونبی اکرمﷺموجودتھے۔چنانچہ نبی کریمﷺنے انہیں ارشادفرمایاتم اپنی جگہ کھڑے رہو(یعنی نمازمکمل کرو)اس پر سیدناحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلندکیااوراللہ تعالیٰ کاشکراداکیا۔کہ انہیں رسول خداﷺنے حکم دیاہے۔پھرسیدنا حضرت ابوبکرصدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے ہٹ کر صف میں آکرشامل ہوگئے ۔اورنبی اکرمﷺآگے بڑھ گئے اور آپﷺنے لوگوں کونمازپڑھائی ۔پھر جب آپﷺنمازپڑھاکرفارغ ہوئے توارشادفرمایا”اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !جب میں نے تم کوحکم دیاتھاتوتم کیوں نہ کھڑے رہے ! سیدناحضرت ابوبکرصدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہنے عرض کی ابوقحافہ کے بیٹے کی مجال نہیں ہے کہ رسول خداﷺکے آگے نمازپڑھائیں۔پھررسول خداﷺنے فرمایاکیاسبب ہے کہ تم نے اس قدرتالیاں بجائیں دیکھوجب نمازکے دوران تمہیں کوئی ضرورت پیش آئے تواسے چاہیے کہ سبحان اللہ کہہ دے ۔کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہہ دے گاتواس کی طرف التفات(توجہ)کیاجائے گااورتالیاں بجاناتوصرف عورتوں کے لئے ہے۔متفق علیہ
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول خداﷺکو(ایک مرتبہ)منبرپردیکھا۔جبکہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺکے پہلومیں تھے آپﷺکبھی لوگوں کی طرف اورکبھی ان کی طرف متوجہ ہوتے تھے اورفرماتے “میرایہ بیٹاسیّدہے اورامیدہے کہ اللہ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں کے درمیان صلح کرادے گا۔(متفق علیہ)
حضرت سہل بن سعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قُباوالوں نے ایک دفعہ آپس میں جنگ کی یہاں تک کے باہم پتھرمارے رسول اکرم نورمجسم ﷺکواس کی خبردی گئی توآپﷺنے فرمایاہمیں لے چلوکہ ان کے درمیان صلح کردایں۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین چیزوں پرصلح فرمائی۔اس چیزپرکہ آپ کے پاس کفارسے جوکوئی ان کے پاس پہنچے اسے وہ نہ لوٹائیں۔اوراس پرکہ سال آئندہ آپ مکہ میں آئیں اوروہاں تین دن قیام کریں۔اور وہاں نہ آئیں مگرہتھیارتلوارکمان وغیرہ ڈھکے ہوئے توآپ کے پاس ابوجندل اپنی قیدوں میں گھستے ہوئے آئے توآپ نے انہیں کفارکی طرف واپس کردیا(مسلم ،بخاری)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ذیقعدہ میں عمرہ کیاتومکہ والوں نے مکہ میں داخلہ کی اجازت دینے سے انکارکردیا۔حتیٰ کہ ان سے اس شرط پرپلح ہوئی کہ اگلے سال تشریف لائیں مکہ میں تین دن قیام فرمائیں توجب انہوں نے تحریرلکھی تولکھاکہ یہ وہ ہے جس پرمحمدالرسول ﷺنے فیصلہ فرمایاوہ بولے ہم اس کااقرارنہیں کرتے کیونکہ اگرہم جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسولﷺہیں توآپ کونہ روکتے لیکن آپ محمدابن عبداللہ ہیں توفرمایاکہ میں رسول اللہﷺبھی ہوں اورمحمدابن عبداللہ بھی ہوں پھرعلی ابن ابی طالب سے فرمایا لفظ رسول اللہ کومحوکردہ وہ بولے اللہ کی قسم میں کبھی آپ کومحونہ کروں گاتب رسول اللہﷺنے پکڑاحالانکہ آپ اچھی طرح لکھتے نہ تھے پھرلکھایہ وہ ہے جس پرمحمدابن عبداللہ نے صلح فرمائی کہ مکہ میں داخل نہ ہوں گے ہتھیاروں کے ساتھ سواتلوارکے وہ بھی میان ہے اوریہ کہ مکہ کے باشندوں میں سے جوآپ کے ساتھ جاناچاہے اسے نہ لے جائیں گے اوریہ کہ آپ کے صحابہ میں سے نہ روکیں گے اگروہ مکہ میں رہناچاہے پھرجب حضورﷺمکہ میں تشریف لائے اورمدت گزرگئی تومکہ والے علی کے پاس آئے بولے اپنے ایمان کے ساتھی سے عرض کروکہ ہمارے پاس سے تشریف لے جائیں کہ میعادگزرچکی ۔چنانچہ نبی ﷺلے گئے۔(مسلم ،بخاری)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہنبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ پانچ آدمیوں کی کوئی نماز نہیں ہے ۔1ایسی عورت جس پر اس کا شوہر ناراض ہو 2۔مالک کا بھگوڑا غلام3۔تین دن سے زیادہ تک بھائی سے قطع تعلق کرنے والا4 ۔شراب خور۔5۔لوگوں کا ایسا امام جس کے پیچھے لوگ نماز پڑھنا پسند نہ کرتے ہوں ۔بعض صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں جو شخص آٹھ چیزوں سے عاجز آجائے اس پر لازم ہے کہ وہ آٹھ دوسری چیزوں کو اپنا لے تاکہ فضیلت سے محروم نہ رہے ۔
۱۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ سویا بھی رہے اور نماز تہجد کی فضیلت بھی پا لے اسے چاہیے کہ وہ دن کو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی نہ کرے ۔
۲ ۔ جو روزہ نہ رکھ کر بھی نفلی روزوں کا ثواب حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے۔
۳۔ جو علماء کی فضیلت پانے کا خواہشمند ہو اس پر غوروفکر کرنا لازم ہے ۔
۴۔ جو گھر بیٹھے ہی مجاہد ین اور غازیوں کا مرتبہ و فضیلت پانے کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ شیطان کے ساتھ جہاد کرے ۔
۵۔ جو صدقہ کرنے سے عاجز ہو لیکن صدقہ کی فضیلت پانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ جو علمی بات سنے اسے دوسروں تک پہنچادے ۔
۶۔ جو حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا لیکن حج کی فضیلت پانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ جمعۃالمبارک کی ادائیگی کو لازم پکڑ لے۔
۷ جو عابدوں کی فضیلت چاہتاہو اسے چاہیے کہ وہ لوگو ں کے درمیان صلح کرادے اور بغض و عداوت نہ پیدا ہونے دے ۔
۸۔ جو ابدال کی فضیلت کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ سینے پر ہاتھ رکھے اور اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔
حضورنبی کریمﷺنے ارشادفرمایاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کے اعتبارسے زیادہ فضیلت والاشخص وہ ہوگاجودنیامیں لوگوں کے زیادہ نفع رساں ہواوراللہ تعالیٰ کے مقربین میں سے وہ ہوگاجولوگوں کے درمیان صلح جوئی میں کوشاں رہاہو۔
اللہ پاک امت مسلمہ کوآپس میں اتفاق واتحادنصیب فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *