حج کس پر فرض ہے(تحریر چودھری محمد یاسین مہر)

حج ہر عاقل بالغ آزاد مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد اتنا مال ہو کہ جس سے مکۃ المکرمہ تک آنے جانے کے اخراجات اور اہل و عیال اور اپنے زیر کفالت افراد کا خرچہ برداشت کر سکتا ہو۔ اگر ایسا شخص زندگی میں خود حج نہ کر سکے تو اپنی طرف سے حج کی وصیت کرنا واجب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو شخص استطاعت کے باوجود حج کیے بغیر مر گیا قیامت کے دن اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوا ہوگا۔” اور یاد رہے کہ اگر کسی شخص کے پاس مکۃ المکرمہ تک جانے کے اخراجات ہوں۔ البتہ مدینہ تک جانے کا خرچہ نہ ہو تو اس پر بھی حج فرض ہے نیز یہ بھی یاد رہے کہ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے لہذا اگر کوئی شخص حج کی فرضیت کا انکار کر دے تو وہ اسلام سے خارج اور کافر ہے جیسا کہ نماز روزے کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔

حج کی اقسام
حج کی تین اقسام ہیں۔
-1 حج افراد
سفر کرتے وقت صرف حج کی نیت کرے اور اسی کےلئے احرام باندھے یعنی عمرہ کو حج کے ساتھ جمع نہ کرے اس قسم کے حج کو افراد اور ایسا حج کرنے والے کو ”مفرد” کہتے ہیں۔
-2 حج قِران
دوسری قسم یہ ہے کہ سفر کے وقت حج اور عمرہ دونوں کی نیت کرے اور احرام بھی دونوں کا ایک ساتھ باندھے اس کو حج قران اور ایسے حج کرنے والے کو ”قارن” کہا جاتا ہے۔
-3 حج تمتع
تیسری قسم یہ ہے کہ حج کے ساتھ عمرہ کو اس طرح جمع کرے کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے اور اس احرام میں حج کی نیت نہ کرے۔ پھرمکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ ادا کر کے بال منڈوانے یا کتروانے کے بعد احرام ختم کردے پھر آٹھویں ذوالحجہ کو مسجد حرام سے حج کا احرام باندھے اس کوحج تمتع اور ایسا حج کرنے والے کو ”متمتع” کہا جاتا ہے۔
حج کی مذکورہ اقسام میں فرق
-1 ایک فرق تو تینوں قسموں کی نیتوں میں ہے۔ حج افراد میں احرام باندھتے وقت صرف حج کی نیت کی جاتی ہے اور قران میں حج اور عمرہ دونوں کی نیت کی جاتی ہے۔ تیسری قسم یعنی حج تمتع میںاپنے ملک سے روانہ ہوتے وقت احرام باندھتے ہوئے صرف عمرہ کی نیت کی جاتی ہے۔ اور حج کا احرام 8ذوالحجہ کو باندھا جاتا ہے۔
-2 دوسرا فرق یہ ہے کہ حج افراد اور قران میں ایک دفعہ احرام باندھنے کے بعد افعال حج پورا کرنے تک احرام باقی رہتا ہے اور تیسری قسم یعنی حج تمتع میں مکہ معظمہ پہنچ کر افعال عمرہ سے فارغ ہو نے کے بعد بال کٹوانے یا منڈوانے سے احرام ختم ہو جائے گا۔
(نوٹ):حج کی تینوں قسموں کے اکثر احکام و اعمال ایک طرح کے ہیں۔ کچھ مسائل کا فرق ہے مثلاً دسویں ذوالحجہ کو منیٰ میںدم شکر کے طور پر قربانی کرنا قارن اور متمتع پر واجب ہے جبکہ مفرد کےلئے مستحب ہے۔
حج کی نیت کس طرح کرے؟
حج کی چونکہ تین قسمیں ہیں اس لیے ہر قسم کی نیت الگ الگ ہے۔
حج افراد کرنے والا اس طرح نیت کرے
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہ، لِی وَتَقَبَّلْہ، مِنِّی
یا اللہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں اسے میرے لیے آسان فرما دیجئے اور قبول فرما لیجئے۔
حج قِران کرنے والا اس طرح نیت کرے
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُرِیْدُ الحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھمَالِی وَتَقَبَّلْھُمَا مِنِّی
یا اللہ میں حج اور عمرہ دونوں کا ارادہ رکھتا ہوں یہ دونوں میرے لیے آسان فرما دیجئے اور قبول فرما لیجئے۔
حج تمتع کرنے والا اپنے ملک سے روانہ ہونے کے وقت عمرہ کی اس طرح نیت کرے
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھَالِی وَتَقَبَّلْھَا مِنِّی
یا اللہ میں عمرہ کا ارداہ کرتا ہوں اس کو میرے لیے آسان فرما دیجئے اور اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔
یاد رہے کہ تینوں قسموں میں جو نیت بتلائی گئی ہے اس کو دل سے کر لینا بھی کافی ہے تاہم عربی الفاظ میں نیت کرناافضل ہے۔
احرام کی حقیقت
حج یا عمرہ کا پہلا عمل احرام ہے حج یا عمرہ کی نیت سے تلبیہ پڑھنے کو احرام کہا جاتا ہے صرف تلبیہ پڑھنے یا صرف نیت کرنے سے احرام شروع نہیں ہوتا اور صرف احرام کے کپڑے پہننے سے بھی احرام شروع نہیں ہوتا بلکہ نیت کے ساتھ تلبیہ پڑھنے سے احرام شروع ہو تا ہے۔
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکط لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلکط لاَ شَرِیْکَ لَک ط
(نوٹ) تلبیہ جب بھی پڑھیں پورا پڑھیں۔
مردوں کےلئے احرام میں دونئی یا دھلی ہوئی چادریں ہونا سنت ہے۔ ایک کوتہبند کے طور پر باندھ لیاجائے اور دوسری کو چادر کی طرح اوپراوڑھ لیا جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حالت احرام میں ایسی چپل ہونی چاہیے جس میں پاؤںکی ابھری ہوئی ہڈی ظاہر رہے۔ ایسی چپل جس سے ابھری ہوئی ہڈی چھپ جاتی ہوحالت احرام میں استعمال کرنے سے دم لازم آتا ہے۔
عورتوں کا احرام
خواتین احرام میں معمول کے کپڑے پہنیں گی البتہ ان کےلئے ایک خاص حکم یہ ہے کہ چہرے پر کپڑے کو نہ لگنے دیں۔ حالت احرام میں ایسی چیز استعمال کرنی چاہیے جس سے پردہ بھی ہو جائے اور چہرے پر کپڑا بھی نہ لگے۔
احرام کی نیت کب کی جائے
بیت اللہ کے ارد گرد مختلف فاصلوں پر پانچ جگہیں ہیں۔ جہاں سے آگے مکہ مکرمہ جانے والا بغیر احرام کے نہیں جا سکتا ان کو ”میقات” کہا جاتا ہے یاد رہے کہ یہ حکم صرف میقات سے باہر رہائش پذیر مسلمانوں کےلئے ہے اہل پاکستان کے لیے اگر جہاز عراق کی طرف سے جائے تو ”ذات عرق” ایک مقام ہے اور اگر جہاز ریاض کی طرف سے جائے تو ”قرن المنازل” ایک جگہ ہے ان سے پہلے پہلے احرام کی نیت کرنا ضروری ہے۔ آسانی اس میں ہے کہ گھر سے احرام کی چادریں وغیرہ پہن کر ائیر پورٹ پر پہنچ جائیں جب جہاز پرواز شروع کر دے اس کے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد احرام کی نیت کر لیں اب اس کےلئے باقاعدہ جہاز میں اعلان بھی کیا جاتا ہے اس میں احتیاط ہے اس لیے کہ اگر شخص گھر ہی سے احرام کی نیت کر کے روانہ ہو تو احرام کی پابندیاں اسی وقت سے شروع ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ پرواز میں تاخیر ہوجاتی ہے اگر احرام کی نیت گھر سے کر لی جائے تو اتنا وقت پابندیوں کے ساتھ ٹھہرنا ہوگا۔
احرام کی پابندیاں
جب کسی شخص نے احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لیا تو اس پر احرام کی پابندیاں عائد ہو جاتی ہےں۔ جو درج ذیل ہےں۔
-1 پہلی پابندی یہ ہے کہ مرد حالت احرام میں کسی قسم کا سلا ہوا کپڑا نہیں پہن سکتے جیسا کہ قمیص شلوار اور بنیان وغیرہ البتہ خواتین کےلئے سلا ہوا کپڑا پہننا جائز ہے۔
-2 دوسری پابندی یہ ہے کہ مرد کےلئے احرام کی حالت میں سر اور چہرہ ڈھانپنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے پورا دن یا رات سر یا چہرے کو ڈھانپے رکھا تو اس پر دم لازم ہوگا اور اگر کچھ دیر سر پر یا چہرے پر کپڑا ڈال لیا تو صدقہ الفطر کے برابر گندم صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔ البتہ خواتین سر ڈھانپے رکھیں اور چہرہ پر کپڑا نہ لگنے دیں۔
-3 مرد اور عورت دونوں کے لیے جسم کے کسی حصہ کے بال مونڈنا، کاٹنا یا توڑنا جائز نہیں ہے البتہ اگر کسی کے بال خود بخود گر جائیں تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے۔
-4 حالت احرام میں ناخن کاٹنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کی پانچوں انگلیوں کے ناخن کاٹ لیے تو دم واجب ہوگا اور اگر پانچ سے کم ناخن کاٹ لیے توہر انگلی کے بدلے پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔
-5 حالت احرام میں کسی بھی قسم کی خوشبو کا استعمال جائز نہیں ہے البتہ احرام کی نیت کرنے سے پہلے ایسی خوشبو کا لگانا جس کا نشان اور دھبہ باقی نہ رہے جائز ہے۔
-6 حالت احرام میں مرد کےلئے دستانے اور موزوں کا استعمال جائز نہیں ہے اسی طرح ایسا جوتا بھی استعمال کرنا جائز نہیں ہے جس میں پاؤں کے اوپر کی درمیانی ہڈی اور دائیں بائیں طرف کا حصہ چھپ جائے۔ البتہ خواتین دستانے موزے اور بند جوتا پہن سکتی ہیں۔
-7 حالت احرام میں بیوی کے ساتھ شہوت کی بات کرنا بھی حرام ہے۔
وہ چیزیں جنکی حالت احرام میں اجازت ہے
-1 حالت احرام میں گلے میں بیگ لٹکا سکتے ہیں جس میں کاغذات ہوتے ہیں۔
-2 گھڑی باندھ سکتے ہیں۔
-3 چشمہ لگا سکتے ہیں۔
-4 خواتین موزے، دستانے اور جوتا پہن سکتی ہیں۔
-5 وہ پیٹی جس میں رقم رکھی جاتی ہے اس کو رقم کی حفاظت کی نیت سے باندھ سکتے ہیں۔
مکہ المکرمہ میں داخلہ
حجاج کرام چونکہ ایک طویل سفرسے آرہے ہیں۔ اس لئے مکۃ المکرمہ پہنچ کر کچھ دیر آرام کر لینا چاہیے۔ اس کے بعد بیت اللہ کی طرف جانا ہے وہاں مسنون طریقہ سے مسجد حرام میں داخل ہوں پہلے دایاں پاؤں داخل کریں اور اس کے بعد دعا بھی پڑھ لیں۔
”اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ”
اور بیت اللہ کی طرف نظریں جھکا کر جائیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ بیت اللہ پر جب پہلی نظر پڑتی ہے تو یہ وقت دعا کی قبولیت کا ہوتا ہے جہاں چھت والی عمارتیں ختم ہوجاتی ہیں اور مسجد حرام کا صحن آجاتا ہے وہاں آکر بیت اللہ کو دیکھیںاور راستے سے ایک طرف ہو کر اپنے اور تمام مسلمانوں کے لئے خوب دعا کریں۔
جامع دعائ
بہتر یہ ہے کہ یوں دعا کرے کہ یا اللہ اس موقع پر آپ سے وہ تمام دعائیں کرتا ہوں جو رسول اللہ ؐ نے اس موقع پر آپ سے کی ہیں اور ان تمام چیزوں سے پناہ چاہتا ہے جن سے آپ ؐ نے پناہ چاہی ہے۔ اور اسی طرح یہ دعا بھی کرے یا اللہ مجھے ”مستجاب الدعوات” (جس کی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں) بنا دے اگر یہ دعا قبول ہو گئی تو باتیں تمام دعائیں قبول ہو جائیں گی۔
حج و عمرہ ایک نظر میں
عمرہ کا پہلا عمل طواف ہے طواف شروع کرنے سے پہلے ایک اہم بات کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے اگر فرض نماز کا وقت ہو تو فرض نماز ادا کر کے طواف کا عمل شروع کرنا چاہیے اور اگر فرض نماز کا وقت نہ ہو تو”تحیۃ المسجد” کی نفل نماز پڑھے بغیر طواف کا عمل شروع کر دینا چاہیے اس لیے کہ یہاں طواف نفل کے قائم مقام ہے۔
طریقہ
طواف کرنے والا تلبیہ پڑھنا بند کر دے اور مسجد حرام کے صحن میں سبز ٹیوب لائٹ کے قریب پہنچ کر بیت اللہ کی طرف منہ کر کے یعنی حجر اسود کی طرف سے طواف شروع کرے۔ اس کے لئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں۔
-1 سب سے پہلے طواف کی نیت کریں۔
-2 مرداضطباع کرے یعنی دائیں کندھے اور بازو کو ظاہر کرے اس طرح کہ چادر کو دائیں کندھے کے نیچے سے نکال لیں اور چادر کا دوسرا کنارہ بھی بائیں کندھے پر ڈال لیںیہ عمل طواف کے سات چکروں میں کرنا سنت ہے طواف مکمل کرنے کے بعد چادر کو دونوں مونڈھوں پر ڈال لیں۔
-3 استقبال کرے اس کا طریقہ یہ ہے کہ تکبیر کہتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے جس طرح تکبیر تحریمہ میں اٹھاتے ہیں اور یہ تکبیر کہے۔
بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَ اللّٰہُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ
تکبیر کہنے کے بعد ہاتھ چھوڑ دیں یہ حجر اسود کا استقبال ہوا۔
-4 استلام
اس کے کئی طریقے ہیں ۔ (١) حجر اسود کا بوسہ دیں۔ (٢) حجر اسود کو ہاتھ لگا کر اس کو چوم لیں۔ (٣) اشارہ سے استلام کریں اور اس طرح کھڑے ہوں کہ سبز ٹیوب لائٹ آپ کے پیچھے ہو اور آپ کا چہرہ خانہ کعبہ کی طرف ہو یعنی حجر اسود کے سامنے کھڑے ہو کرکندھوں تک ہاتھ اٹھا کر اس طرح اشارہ کریں جس طرح حجر اسود پر ہاتھ رکھ رہے ہوں بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْد کہیں اور پھر ہتھیلیوں کو چوم لیں۔
تیسرا طریقہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ عموماً حجرِاسود پر خوشبو لگی ہوتی ہے اور آپ حالت احرام میں بھی ہوں گے چنانچہ اگر حجر اسود کو بوسہ دیا یا ہاتھ لگا یا اور حجرِاسود کی خوشبو لگ گئی تو دم واجب ہوگا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ حجراسود کو بوسہ دینا سنت ہے اور لوگوں کو تکلیف سے بچانا ضروری ہے اس موقع پر بعض لوگ اس حکم کو نظر انداز کر کے خوب دھکم پیل کرتے ہیں خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف دیتے ہیں جبکہ استلام کا تیسرا طریقہ آسان بھی ہے۔
یاد رہے کہ استلام صرف حجر اسود کا مسنون ہے۔ رکن یمانی کا صرف بوسہ دینا یا ہاتھ لگانا مستحب ہے اگر ہجوم کی وجہ سے ہاتھ نہ لگا سکیں تو بغیر اشارہ کئے گزر جائیں اور استلام ہر چکر کے ساتھ کیا جاتا ہے لیکن پہلا استلام اور آخری استلام سنت مؤکدہ اور درمیان والے مستحب ہیں۔
طواف سے فارغ ہونے کے بعد
طواف سے فارغ ہونے کے بعد تین کام کرنے ہوتے ہیں طواف خواہ عمرہ کا ہو یا حج کا نفلی طواف ہو یا واجب طواف ہو۔
-1 ملتزم پر
بیت اللہ کے دروازے اور حجرِاسود والے کونے کے درمیان کی دیوار والے حصہ کو ملتزم کہتے ہیں یہ قبولیت دعاء کے مقامات میں سے ہے۔ اس لیے اس کے پاس خوب آہ وزاری کے ساتھ دعا کرنی چاہیے یہ بات یاد رہے کہ عام طور پر اس کو خوشبو لگی ہوتی ہے اور حالت احرام میں خوشبو کا استعمال جائز نہیں ہے اس لیے حالت احرام میں ملتزم کے ساتھ چمٹنے اس سے بچنے اور احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
-2طواف کے بعد دو رکعت پڑھنا
طواف کے بعد دو رکعت ”تحیۃ الطواف” کی نیت سے پڑھنا واجب ہیں یہ دو رکعت مقام ابراہیم کے قریب پڑھنا افضل ہیں اگر اس کے قریب جگہ نہ ملے تو پیچھے ہٹ کر اس کی سیدھ میں پڑھ لیں اور نیت کر یں کہ میں طواف کےلئے دو رکعت پڑھتا ہوں پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنا افضل ہے۔
-3 زم زم پینا
تیسرا کام آب زم زم پینا ہے زم زم کا پانی درجِ ذیل آداب کو ملحوظ رکھ کر پیا جائے۔ (١)قبلہ رخ ہو کر پیا جائے۔ (٢)کھڑے ہو کر پیا جائے (٣)بسم اللہ پڑھ کر تین سانسوں میں پیا جائے۔ (قاموس الفقہ٤/١٠١)
عمرہ کا دوسرا کام
عمرہ کا دوسرا کام سعی ہے۔ سعی شروع کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر حجر اسود کا استلام کرنا ہے۔ یہ گنتی میں نواں استلام ہے اس کے بعد” صفا” پر چڑھیں جب بیت اللہ نظر آنے لگ جائے تو تکبیر کہیں اور دعا کریں یہ بھی قبولیت دعا کے مقامات میں سے ہے۔ اس کے بعد عمرہ کی نیت سے سعی کا عمل شروع کر دیا جائے صفا سے مروہ تک جا کر ایک چکر مکمل ہو جاتا ہے۔ ”مروہ” پر جاکر بھی بیت اللہ کی طرف منہ کر کے خوب دعا کریں ساتویں چکر میں مروہ تک جا کر سعی مکمل ہو جائے گی سعی سے فارغ ہونے کے بعد دو رکعت شکرانے کے پڑھ لیں یہ دو رکعت مستحب ہیں۔
عمرہ کا آخری کام
عمرہ کا آخری کام بال منڈوانا یا کتروانا ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ آنحضرتؐ نے بال منڈوانے والوں کے لئے زیادہ دُعا فرمائی ہے اس لیے اگرچہ مردوں کے لیے بال کتروانا بھی جائز ہے تاہم منڈوانا افضل ہے اور خواتین کے لیے بھی بال کتروانا ضروری ہے۔ بال کتروانے کی مقدار ایک پوروے کے برابر ہے۔
حلق یا قصر کے بعد عمرہ کا احرام ختم ہوجاتا ہے اور احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور چونکہ اکثر پاکستانی حجاج حج تمتع ادا کرتے ہیں اور اس میں چونکہ عمرہ کا احرام باندھا جاتا ہے اور اس کے افعال کی ادائیگی کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں اس کے بعد حج کے افعال آٹھ ذوالحجہ سے شروع ہوں گے۔ اس دوران مسجد حرام کی حاضری، نفلی طواف جتنا زیادہ ہو سکتے ہیں کرتے رہیں۔
حج کا طریقہ
پہلا دن آٹھ ذوالحجہ
آج کے دن طلوع آفتاب سے باقاعدہ حج کے اعمال شروع ہو جاتے ہیں۔ چونکہ اکثر پاکستانی حجاج حج تمتع کرنے والے ہوتے ہیں ۔ جو کہ عمرہ کے افعال ادا کر کے احرام کی پابندی سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ آج سے حج کا احرام باندھنا ہے احرام باندھتے وقت پہلے ذکر کئے گئے امور کا خیال رکھیں یعنی غسل وغیرہ کر کے احرام باندھے مستحب یہ ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے بعد طواف کریں اور طواف کا دوگانہ ادا کریں یاد رہے کہ آٹھ ذوالحجہ کو احرام مسجد سے بھی باندھنا جائز ہے ۔ (احرام باندھنے کی تفصیل گزر چکی ہے) اور اپنی رہائش گاہ سے بھی احرام باندھنا جائز ہے اس کے بعد منیٰ کی طرف روانہ ہو جائیںآٹھویں تاریخ کی ظہر سے نویں تاریخ کی صبح تک منی میں رہنا ہے اور ظہر ، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں بھی منیٰ ہی میں ادا کرنی ہیں یاد رہے آج کی رات منیٰ میں گزارنا سنت ہے اگر کوئی شخص مکۃ المکرمہ میں رہا یا اس رات کو مکہ سے سیدھا عرفات چلا گیا تو مکروہ ہے۔
نو ذوالحجہ(حج کا دوسرا دن)
نو ذوالحجہ کو سورج نکل آنے کے کچھ دیر بعد میدان عرفات کی طرف روانہ ہو جائیں گے اگر فجر سے پہلے منی سے عرفات جانے کی ترتیب ہے تو یہ بھی جائز ہے یاد رکھیے کہ عرفات کے میدان میں وقوف حج کا اہم رکن ہے اور اس کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اس دن میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں۔ وقوف عرفہ کے لیے غسل کرنا مسنون ہے اس لیے اگر زوال کے وقت غسل ممکن ہو تو غسل کر لیا جائے غسل کا موقع نہ ہو تو وضو کر لیا جائے۔
عرفہ میں ظہر اور عصر کی نماز
میدان عرفہ میں ظہر اور عصر کی نماز کو اکٹھے ظہر کے وقت میں پڑھنا مسنون ہے۔ مسجد نمرہ کے امام صاحب یہ دو نمازیں اکٹھی پڑھاتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نماز ادا نہیں کرتا بلکہ اپنے خیمے میںا کیلا یاجماعت کے ساتھ پڑھتا ہے تو ظہر کے وقت میں ظہر کی نماز اور عصر کے وقت میں عصر کی نماز پڑھے۔آج کل بہت سی وجوہات کی وجہ سے خیموں ہی میں نماز پڑھنا افضل ہے۔
اس لئے کہ دوررش کی وجہ سے حجاجِ کرام میں کچھ حضرات بڑی عمر کے اور کمزور ہوتے ہیں مسجد نمرہ میں نماز ادا کرنے کے بعد واپسی میں ان کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وقوف عرفات کاوقت
وقوف عرفہ کا وقت نویں تاریخ کو زوال کے بعد شروع ہو تا ہے ظہر سے فارغ ہو کر قبلہ رخ کھڑے ہو کر وقوف کریں اس حالت میں استغفار کریں حمد و ثناء کریں اپنے لیے اور پوری امت مسلمہ کےلئے دعائیں کریں خصوصاً عرفہ میں عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت قیمتی اور قبولیت دعا کا ہوتا ہے اور یاد رہے کہ وقوف عرفہ کا میدان عرفہ میں ہونا ضروری ہے بہت سے لوگ مسجد نمرہ کے قریب وقوف کرتے ہیں حالانکہ اس کا کچھ حصہ عرفہ سے خارج ہے اس لیے ان کا وقوف نہیں ہوتا۔ عرفہ میں غروب آفتاب تک ٹھہرنا واجب ہے اگر کوئی شخص اس سے پہلے نکل جائے اور واپس نہ آئے تو اس پر دم لازم ہوتا ہے۔
مغرب کی نماز
اگرچہ عرفہ میں غروب آفتاب تک رہنا ضروری ہے تاہم مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے وقت میں ادا کی جائے گی۔
مزدلفہ کےلئے روانگی
غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز ادا کئے بغیر مزدلفہ آتے ہیں مزدلفہ پہنچنے کے بعد پہلا کام یہ ہے کہ عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ملا کر پڑھیں یاد رہے عشاء اور مغرب کی نماز کو اکھٹے عشاء کے وقت میں پڑھنا واجب ہے خواہ تنہا پڑھیں یا امام کی اقتداء میں پڑھیں اس کا طریقہ ہے کہ پہلے اذان دیں اور تکبیر کہیں پھر مغرب کے فرض جماعت سے پڑھیں اور اس کے بعد عشاء کی نماز بغیر تکبیر کے جماعت سے پڑھیں پھر مغرب کی سنتیں اور اس کے بعد عشاء کی سنتیں اور وِتر ادا کریں یعنی صرف ایک مرتبہ اذان اور تکبیر ہو گی۔
وقوفِ مزدلفہ
نماز پڑھ کر کچھ دیر آرام کر لیں اور اس کے بعد عبادت میں مشغول ہو جائیں حدیث پاک میں ہے کہ مزدلفہ کی رات شب قدر کے برابر ہوتی ہے اس لئے اس میں خوب عبادت کریں پھر جب صبح صادق ہو جائے تو فجر کی نماز ادا کریں۔ اور اس کے بعد وقوف مزدلفہ شروع کر دیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جائیں تو بہ و استغفار کریں۔ دعا مانگیں درود پاک پڑھیں اور یاد رہے کہ وقوف مزدلفہ واجب ہے۔
کنکریاں چننا
مزدلفہ میں ایک کام اور کرنا مستحب ہے کہ مزدلفہ میں ستر کنکریاں چن لیں یہ کنکریاں شیطان کو مارنے کے کام آئےں گی کنکری چنے کے دانے کے برابر یا کھجور کی گٹھلی کے برابر ہونی چاہییں۔ فجر کی نماز کے بعد دعا کر کے کنکریاں لے کر سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے منی کے لیے روانہ ہو جائیں۔
دس ذوالحجہ کو دوبارہ منی میں
دس تاریخ کووقوف مزدلفہ کے بعد منیٰ آئیں گے۔ اور آج دس ذوالحجہ کے دن منیٰ میں درج ذیل کام کئے جائیں گے۔
-1 پہلا کام
جمرہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کو کنکریاں مارنا ہے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ کنکری مارنے کا طریقہ یہ ہے کہ کنکری کو داہنے ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی پکڑیں اور تکبیر پڑھ کر مار دیں تکبیر یہ ہے۔
بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْد رَغْمًا لِلشَّیْطَانِ وَرِضیً لِلرَّحْمٰنِ
یاد رہے کہ کنکریاں ایک ایک کر کے مارنا ضروری ہیں ایک دفعہ میں سات کنکریاں مارنا درست نہیںہے اگر کسی نے ایک دفعہ میں سات کنکریاں ماریں تو وہ ایک ہی شمار ہو گی باقی چھ کنکریاں بھی مارنا ہوں گی۔
-2 دس ذوالحجہ کا دوسرا کام قربانی کرنا
حج تمتع اور قران کرنے والے پر دم شکر کے طور پر قربانی کرنا واجب ہے اسی لیے اس کو حج کی قربانی اور دم شکر کہا جاتا ہے حج افراد کرنے والے کےلئے قربانی کرنا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔ اور یاد رہے کہ اگر حاجی صاحب نصاب ہو تو اس پر ”دم شکر” کے علاوہ واجب قربانی بھی ادا کرنا ضروری ہے۔ (جو اپنے وطن میں کروا سکتا ہے)
-3 تیسرا کام حلق یا قصر
یعنی سر کے بال منڈوانا یا کتروانا اس عمل کے بعد احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جائیں گی جو احرام کی وجہ سے لگی تھیں۔ یعنی اس کے بعد سلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا جائز البتہ طواف زیارت کرنے تک میاں بیوی ایک دوسرے کےلئے حلال نہیں ہوں گے۔
-4 طوافِ زیارت
اب حج کا اہم کام طواف زیارت ہے۔ یاد رہے کہ طواف زیارت حج کا دوسرا بڑا رکن ہے۔ اس طواف کے کرنے کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جائیں گے۔ طواف زیارت دس ذوالحجہ سکی صبح سے بارھویں ذوالحجہ کے غروب تک ادا کیا جا سکتا ہے البتہ افضل یہ ہے کہ دس ذوالحجہ کو ادا کر لیا جائے۔
طواف زیارت سے فارغ ہونے کے بعد حج کی سعی کرنی ہے بشرطیکہ پہلے سعی نہ کی ہو اس کا طریقہ پہلے گزر چکا ہے طواف زیارت اور سعی کرنے کے بعد دوبارہ منی آجائیں ذکر و اذکار توبہ و استغفار میں مصروف ہو جائیں۔
گیارہ ذوالحجہ
گیارھویں ذوالحجہ کو اہم کام تنیوں شیطانوں کو کنکریاں مارنا ہے پہلے چھوٹے شیطان کو پھر درمیانے کو اور آخر میں بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں کنکریاں مارنے کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اور صبح صادق تک رہتا ہے۔
بارہویں تاریخ
بارہویں تاریخ کا اہم کام بھی بعد زوال کے شیطانوں کو کنکریاں مارنا ہے۔ آج کے دن کنکریاں مارنے کے بعد اختیار ہوتا ہے کہ منیٰ میں قیام کرلیں یا مکۃ المکرمہ آجائیں۔ البتہ اگر تیرھویں تاریخ کی صبح صادق منیٰ میں ہو گئی تو اس دن بھی تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنا ضروری ہو گا۔
منیٰ سے واپسی کے بعد مکۃ المکرمۃ میں خوب اللہ رب العزت کی عبادت میں وقت گزارنا چاہیے مسجد حرام میں نما ز باجماعت کا اہتمام قران کریم کی تلاوت، نفلی طواف اور نفلی عمرے کثرت سے کریں یاد رہے کہ نفلی طواف کے لیے احرام نہیں ہے۔
طوافِ وداع
مکہ المکرمہ سے رخصتی کے وقت آفاقی یعنی حدود حرم سے باہر سے آنے والوں پر ”طواف وَدَاع یا طواف رخصتی” واجب ہے عام طواف اور اس میں اتنا فرق ہے کہ اس میں نہ احرام کی چادریں ہوتی ہے اور نہ اضطباع ہوتا ہے اور نہ ہی رمل اور نہ ہی طواف کے بعد صفا اور مروہ کی سعی ہوتی ہے۔ البتہ طواف کے بعد دو رکعت پڑھنا واجب ہوتا ہے۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *