کاسمیٹکس کا استعمال کینسر کی وجہ بھی بن سکتا ہے ،تحقیق

نئی تحقیق میں خواتین کے لیے انتہائی پریشان کن بات سامنے آئی ہےکہ کاسمیٹکس کا استعمال کینسر سمیت دیگر جلدی امراض کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق 2015 سے 2016 تک میک اپ کے سامان پر شکایات کی تعداد دُگنی ہوگئی ہے جس میں بالوں کے استعمال کی اشیا کی شکایات سب سے زیادہ نوٹ کی گئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نقصان دہ سامان کا استعمال کسی خطرے سے خالی نہیں کیونکہ اس سے نہ صرف شدت والے زخم ہوسکتے ہیں بلکہ یہ سلسلہ موت تک بھی جاسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق 2004 سے 2016 تک ایف ڈی اے کو اس حوالے سے 5 ہزار شکایات موصول ہوئیں جن میں کاسمیٹکس کے ڈیڑھ ہزار سے زائد نقصانات صرف 2016 میں دیکھے گئے۔ماہرین کے مطابق کاسمیٹکس میں سب سے زیادہ شکایات بالوں، جلد اور ٹیٹو کے لیے استعمال ہونے والی اشیا سے متعلق سامنے آئیں۔ماہرین کا کہنا ہےکہ کاسمیٹکس کمپنیوں نے اپنے سامان کو بنا تحقیق اور تصدیق کے مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔ماہرین نے انکشاف کیا کہ کاسمیٹکس کے سامان میں منشیات کا استعمال ہوتا ہے جو کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے جب کہ اس میں استعمال ہونے والے کیمیائی مواد سے کینسر اور سانس کی بیماری جیسی خطرناک بیماریاں لاحق ہونے کے خطرات ہیں۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق خواتین کم سے کم ایک دن میں 12 بیوٹی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں جن میں 168مختلف طرح کے کیمیائی مواد کو شامل کیا جاتا ہے۔ہرب فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق انسان کی جلد 60 فیصد کیمیائی مواد جذب کر لیتی ہے۔تحقیق میں شامل ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہےکہ لوشن، شیمپو، کاسمیٹکس اور یہاں تک کے ٹوتھ پیسٹ کو بھی لیبل دیکھ کر استعمال کریں کیونکہ اس میں موجود اشیا سے نقصان صرف استعمال کرنے والے کو ہی ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ جو ہم اپنی جلد پر لگاتے ہیں وہ اتنا ہی صاف ہونا چاہیے جتنا صاف ہم کھاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *