قبل از وقت برطانوی انتخابات اور نتائج

 


چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی


کسی بھی وطن یا ریاست کے لئے مقررہ مدت سے قبل از وقت انتخابات بظاہر و حقیقی طور پر نقصان دہ ہی دکھائی دیتے ہیں۔قبل از وقت انتخابات لوگوں اور سیاسی پارٹیوں میں بے اعتمادی کی فضا کو فروغ دیتے ہیں۔کسی نہ کسی حد تک قبل از وقت انتخابات قومی اخراجات کا ضیاء بھی ثابت ہوتے ہیں۔مبصرین و تجزیہ کاروں کے مطابق قبل از وقت انتخابات ہمیشہ قومی مفادات کے برعکس ہوتے ہیں، قبل از وقت انتخابات میں کسی نہ کسی بڑی سیاسی جماعت کے مفادات چھپے ہوتے ہیں۔ہمیشہ سیاسی جماعتیں اسی تگ و دو میں ہوتی ہیں کہ قبل از وقت انتخابات ہوجائیں اور ہماری سیاسی برتری میں اضافہ ہو۔قارئین ایسا ہی کچھ برطانوی سیاست میں ہوا۔گزشتہ روز برطانوی انتخابات اور اس کے نتائج سے با خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی عوام اچھے و برے کا شعور رکھتی ہے،برسر اقتدار برطانوی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ ٹریسامے نے سیاسی برتری میں اضافے کی کوشش میں اچانک اٹھارہ اپریل کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔لیکن پھر برطانوی عوام نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ٹریسامے نے بریگزٹ ریفرینڈم کی بنیاد پر سکورنگ کی کوشش کی۔ٹریسامے کا کہنا تھا، کہ انہیں یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلاء کے لئے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کے لئے نیا اور مضبوط مینڈیٹ درکار ہے۔ٹریسامے اور اسکے وزراء کا خیال تھا کہ وہ عام انتخابات میں مزید برتری حاصل کر کے لیبر پارٹی کی حیثیت کو محدود کر سکتے ہیں۔تاہم برطانوی عوام باشعور ہیں انہیں کسی منصوبہ کے تحت ٹریپ کرنا بہت مشکل ہے۔گزشتہ روز کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی اپنی برتری میں کمی کرتے ہوئے صرف 318 نشستیں حاصل کرسکی جبکہ اسکے برعکس لیبر پارٹی نے 261 نشستیں حاصل کرکے اپنی گزشتہ سکورنگ میں 32 نشستوں کا اضافہ کیا۔اس کے ساتھ ہی نیشنل اسکاٹش پارٹی کو 35 لبرل ڈیموکریٹس کو 12 اور ڈی یو بی کو 10 نشستیں ملی ہیں۔کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے 326 نشستیں درکار تھیں تاہم وہ سادہ اکثریت میں ناکام رہے۔خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے ڈی بی یو کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف لیبر پارٹی کے لیڈر جیری کوربین نے ٹریسامے سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔جیری کوربین عوام میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔طالب علموں میں خاصے مقبول ہیں ،انہوں نے اپنی کمپین میں طالب علموں کی بھاری فیسوں کو ختم کرنے اور انہیں مفادات دینے کا بھی اعلان کیا تھا ۔جبکہ عوام کو ٹریسامے کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نے بدزن کردیا۔کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دنوں میں لندن اور مانچسٹر میں دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے عوام میں حکومت جماعت کی مقبولیت میں کمی سامنے آئی۔ہمیشہ سیکیورٹی پر کنزرویٹو پارٹی حمایت حاصل کرتی ہے۔تاہم لیبر پارٹی کے لیڈر نے واضح کیا کہ،ٹریسامے نے وزیر داخلہ کے طور پر پولیس کی نفری میں کمی کی ہے اور لوگوں کے تحفظ کو پامال کیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ برسر اقتدار آکر سیکیورٹی کو مزید بہتر بنائیں گے۔ کنزرویٹو پارٹی کے کچھ لوگوں کے نزدیک بھی پارٹی کی کم ہوتی مقبولیت کی ذمہ دار ٹریسامے ہیں ،اگر اس نظریے کو وسعت ملی تو ٹریسامے کوہر حال میں استعفی دینا پڑے گا۔عالمی لیڈروں نے بھی انتخابات کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا۔دوسری طرف یورپی یونین کا کہنا ہے کہ،معلق پارلیمنٹ سے برطانیہ کے بریگزٹ کے لئے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ، برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنے کے لئے برطانوی وزیراعظم کا قبل از وقت انتخابات کا جوا ان کے اپنے گلے ہی پڑ گیا۔برطانوی انتخابات میں بارہ پاکستانی نژاد ممبران بھی منتخب ہوئے، جو پاکستانی عوام کے پرامن ہونے کی علامت ہیں۔گزشتہ دنوں برطانوی دہشتگردی کے واقعات میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری کا نام بھی سامنے آیا۔تاہم برطانوی عوام کا پاکستانی نژاد ممبران پر اعتماد اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور اس میں موجود عوام امن کی خواہاں ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ منتخب پاکستانی برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کی حمایت کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے،اور یونہی ملک پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں گے۔پاکستانی عوام اور سیاسی پارٹیوں کو برطانوی انتخابات سے سبق سیکھنا چاہئے۔پاکستانی عوام کو سمجھنا ہوگا کہ انتخابات کوئی گڈی گڈے کا کھیل نہیں جو جب جی چاہے رچایا جائے ، اس پرملکی دولت خرچ ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن اور الیکشنز کو حقیقت تسلیم کرنا ہوگا تبھی جمہوری روایات کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *