وہ زندگی سے آنکھ چرا کر چلا گیا

وہ زندگی سے آنکھ چرا کر چلا گیا
چہرہ ردائے گل میں چھُپا کر چلا گیا
بار غم جہاں سے سُبک دوش کیاہوا
ہم پر پہاڑ غم کے گرا کر چلا گیا
دردآشنا دلوں کو نہ بھولے گا وہ کبھی
ایسا دلوں پہ نقش بٹھا کر چلا گیا
وہ راز دار شعر سخن آشنائے فن
محفل میں اپنا رنگ جما کر چلا گیا
صحرائے جاں میں آبلہ پائی کے باوجود
فکر ونظر کے پھول کھلا کر چلا گیا
سرو سمن اُداس چمن سوگوار ہے ہے
ہنستے ہوؤں کو پل میں رُلا کر چلا گیا [
اپنی مثال آپ تھا اے قطب وہ نصیر
جو اپنی آب تاب دکھا کر چلا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *