پشتوں سے میں نصیر ہوں منگتا حسینؓ کا

پشتوں سے میں نصیر ہوں منگتا حسینؓ کا
ورثہ میں نے پایا ہے صدقہ حسینؓ کا
کافی ہے میرے واسطے نقد غم حسینؓ
چلتا ہے ہر جہاں میں سکہ حسینؓ کا
قبضہ کی ضد میں آج ہے میدان حشر بھی
قربان جاؤں معرکہ دیکھا حسینؓ کا
اس کا ثبوت دے دیا اصغر کی جنگ نے
شیروں کا شیر ہوتا ہے بچہ حسینؓ کا
نبیوں کی روز حشر یہ فرمائشیں نہ ہوں
ٓٓآذان ہو بلالؓ کی ،سجدہ حسینؓ کا
میزان حشر کی مجھے کیا فکر ہوں نصیر
بھاری ہمیشہ رہتا ہے پلہ حسینؓ کا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *