مظہربرلاس پر حالیہ حملے کوقلم قبیلے پرشب خون سمجھاجائے گا

ملزمان قابل رحم نہیں۔اجمل نیازی ،ایثاررانا،دلاورچودھری،ناصراقبال ،ذبیح اللہ

ورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی چیف آرگنائزر اورسینئر کالم نگارمظہربرلاس پرگذشتہ روزاسلام آبادمیں ہونیوالے قاتلانہ حملے کیخلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کی تیاریوں کے سلسلہ میں گذشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس منعقدکیا گیا۔ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین ایثاررانا،ڈاکٹرمحمداجمل نیازی ،محمددلاورچودھری، امان اللہ خاں ،محمدناصراقبال خان، ڈاکٹرعمرانہ مشتاق،امجداقبال ،سردارمرادعلی خان، ذبیح اللہ بلگن اور تاثیر مصطفی سمیت دوسرے مقررین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ریاست کاانتہائی اہم ستون ہے مگر مسلسل آزادی صحافت پرحملے ہورہے ہیں۔ جس معاشرے میں مظہر برلا س سے قلم قبیلے کے قدآور لوگ محفوظ نہیں وہاں عام آدمی کس قدر غیر محفوظ ہوگااس بات کااندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہے۔اختلاف رکھنا اوراس کامہذب اندازسے اظہارکرنا انسان کابنیادی حق ہے جوسلب نہیں کیا جاسکتا ۔ آزادی اظہارپربندش سے معاشرے جمود کاشکار ہوجاتے ہیں ۔سنجیدہ ڈائیلاگ کے فروغ سے ہی اختلافی مسائل کاپائیدارحل تلاش کیاجاسکتا ہے۔مظہربرلاس نے اپنے ہرکالم میں سچائی تک رسائی یقینی بنائی ،ان کاقلم سچائی کاعلمبردار ہے۔ان پرحملے میں ملوث عناصرقابل رحم نہیں،انہیں فوری گرفتارکرکے قرارواقعی سزادی جائے۔کرنل (ر)عبدالرزاق بگٹی، رابعہ رحمن ،روحی بانوکھوکھر ایڈووکیٹ،اعتبارساجد،امجداقبال،عزیز ظفر آزاد،طارق خورشید ،فیصل درانی،آصف عنایت بٹ ،عابدکمالوی ،افتخارمجاز،پروفیسر ناصر بشیر،قاضی سعداختر ، محمدصفدرسکھیرا،اخترعلی بدر،ناصرچوہان ایڈووکیٹ،میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ،محمد شاہد محمود،رقیہ غزل ،شاہدہ مجید،ملک غضنفر اعوان ،آصف مصور،روحیل اکبر ،محمدلطیف رانا،مشتاق قمر، اسامہ خان شیروانی،رباب نقوی ،ضیاء الحق نقشبندی ،کاشف سلیمان ،عرفان نوازرانجھا ،محمدنصیرالحق ہاشمی ،اصغرعلی کھوکھر ،شفقت اللہ ملک نے بھی اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے مظہربرلاس پرحملے کیخلاف شدیدغم وغصہ کااظہارکیا۔اجلاس میں متفقہ طورپر ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں قراردیا گیا کہ حکومت قلم کاروں ،دانشوروں اورصحافیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کودورکرے اورانہیں آزادانہ طورپراپناپیشہ ورانہ کام کرنے کاماحول فراہم کرے۔اہل صحافت اورمیڈیاہاؤسز پرحملے کسی صورت برداشت نہیں کئے جاسکتے ۔قرارداد میں مظہربرلاس پرحالیہ حملے کوقلم قبیلے پرشب خون قراردیتے ہوئے اس حملے کی فوری اورشفاف تحقیقات کامطالبہ کیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *