سعودی فرمان رواشاہ سلمان بن عبدالعزیز کاایشیائی ممالک کاتاریخی دورہ

 


تحریر:محمد شاہد محمود


مملکت سعودی عرب کے فرمان روا شاہ سلمان کاایشیائی ممالک کادورہ ایک اہم پیش رفت ہے یقینی بات ہے کہ اس دورہ کے عالم اسلام اور دنیا پرگہرے اثرات مرتب ہوں گے۔شاہ سلمان نے چین سمیت بر اعظم ایشیا کے کئی ممالک کادورہ کیا اس طویل دورے کے دوران وہ ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان،چین اورمالدیپ کے علاوہ کئی دیگر ممالک کے دورے پرپہنچے۔ سعودی فرمان روانے اپنے اِس دورے کے دوران مختلف ملکوں کے صدور ،وزرائے اعظم اوردیگر رہنماؤں کے ساتھ دفاع، انسدادِ دہشت گردی اور اقتصادیات پر خاص طور پر گفتگو کی۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے تاریخی دورے کاآغازملائشیاسے کیا۔ روانگی سے قبل انھوں نے مملکت کے انتظامی امور کی نیابت ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کے حوالے کی۔ کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال ملائشین وزیر اعظم محمد نجیب عبدالرزاق، وزیر دفاع ھشام الدین حسین اور دیگر اعلی ملائشین حکام نے کیا۔ اس موقع پر کوالالمپور میں سعودی عرب کے سفیر فھد بن عبداللہ الرشید سمیت سفارت خانے کا عملہ بھی موجود تھا۔ خادم الحرمین الشریفین کو ائرپورٹ سے ملائشین پارلیمنٹ ایک بڑے قافلے کی صورت میں سرکاری اعزاز کے ساتھ لے جایا گیا۔ خادم الحرمین الشریفین نے ملائیشیا کی اعلی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں شراکت داری کو بڑھانے اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان متعدد سیاسی، اقتصادی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط بھی کیے گے۔اس موقع پرشاہ سلمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک دنیا بھر میں اسلامی نصب العین (کاز) کا پشتی بان ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مملکت سعودی عرب تمام اسلامی نصب العینوں کی پشتی بان ہے اور ہم آپ کے ملک کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو درپیش کسی بھی ایشو میں معاونت کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہیں‘‘۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنے ایشیائی ممالک کے تاریخی دورے کے ضمن میں برونائی بھی گئے۔ برونائی دار الاسلام کے سلطان حسن البلقیہ نے ہوائی اڈے پر اپنے خصوصی مہمان کا استقبال کیا۔اس موقع پر سلطان حسن کے بیٹے اور برونائی کے ولی عہد شہزادہ مہتدی باللہ ، وزیر مالیات عبدالرحمن بن ابراہیم ، امور خارجہ کے وزیر لِم جوک ، وزیر توانائی و صنعت محمد یاسین اور برونائی کے دیگر ذمے داران کے علاوہ برونائی میں سعودی عرب کے سفیر ہشام بن عبدالوہاب اور سعودی سفارت خانے کے ارکان بھی موجود تھے۔ شاہ سلمان ہوائی اڈے سے قصر نور الایمان روانہ ہوئے تو شہر کی سڑکوں پر دونوں طرف کھڑے عوام نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔بعدازاں شاہ سلمان نے برونائی کے سلطان حسن البلقیہ سے ان کے محل ‘‘قصرِ نور الایمان’’ میں ملاقات کی۔ اس موقع پر سرکاری بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو زیر بحث لایا گیا۔سلطان حسن کی جانب سے خادم حرمین شریفین کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا جس میں برونائی اور سعودی عرب کے متعدد ذمے داران نے شرکت کی۔
ایشیائی ممالک کے دورے کی ایک اہم قیام گاہ ملائشیا تھا۔جب وہ ملائشیا پہنچے توان کاشانداراستقبال کیا گیااس موقع پر وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات اس امر کے متقاضی بھی ہیں کہ ملائیشیا وہ ملک ہو جہاں سے سعودی فرماں روا اپنے ایشیائی دورے کا آغاز کریں۔اقتصادی پہلو سے ملائیشیا کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلے میں صرف گزشتہ سال ہی تقریبا 28 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد سعودی عرب ملائیشیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ۔ توقع ہے کہ ملائیشیا میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔ بیان کے مطابق شاہ سلمان کے دورے میں متعدد معاہدوں پر دستخط بھی کئے گے جن میں اہم ترین معاہدہ تیل کے شعبے میں سعودی عرب اور ملائیشیا کی عظیم کمپنیوں ارامکو اور پٹروناس کے درمیان ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب اور ملائشیا نے دوطرفہ تعاون سے متعلق مفاہمت کی چار یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ سمجھوتے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورے کے دوسرے روز سوموار کو طے پائے ہیں۔مفاہمت کی پہلی یادداشت تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے سے متعلق ہے اور اس پر سعودی عرب کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اور موجودہ وزیر مملکت ابراہیم عبدالعزیز العساف اور ملائشیا کے وزیر صنعت وتجارت داتو سری مصطفیٰ بن محمد نے دستخط کیے ہیں۔مفاہمت کی دوسری یادداشت روزگار اور انسانی وسائل کے شعبے میں دوطرفہ تعاون سے متعلق ہے۔اس پر سعودی عرب کے وزیر محنت علی بن نصر الغافس اور ملائشیا کے وفاقی وزیر برائے انسانی وسائل داتو رچرڈ رائٹ جائم نے دستخط کیے ہیں۔دریں اثنا ملائشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا کہ سعودیعرب کی بڑی تیل کمپنی آرامکو سات ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی۔اس سے تیل مصفیٰ کرنے کا ایک کارخانہ لگایا جائے گا۔ یہ اس ملک میں کسی بیرونی کمپنی کی جانب سے سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز ایک ماہ کے طویل غیرملکی دورے کے پہلے مرحلے میں کوالالمپور پہنچے تھے۔یہ کسی سعودی شاہ کا ایک عشرے سے زیادہ عرصے کے بعد ملائشیا کا پہلا دورہ ہے۔
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جکارتہ میں انڈونیشی صدر جوکو وِدودو سے آستانہ صدارتی محل میں ملاقات کی ہے اور ان سے دو طرفہ تعلقات ،عالم اسلام کو درپیش مسائل اور اہم عالمی امور کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی ہے۔ دونوں رہ نماؤں نے انڈونیشیا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات میں سعودی عرب کے اسلامی امور ،دعوت وارشاد کے وزیر شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ ، وزیر مملکت ابراہیم بن عبدالعزیز العساف اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ رتنو لیستری پری انصاری مرسودی بھی موجود تھے۔
سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اپنے ایشیائی ملکوں کے دورے کے اگلے مرحلے میں جاپان پہنچے۔ دارالحکومت ٹوکیو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خادم الحرمین الشریفین اور ان کے وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کے خیرمقدم کے لیے جاپانی ولی عہد شہزادہ نیروہیٹو ، سعودی سفیر احمد یونس البراک ،دوسرا سفارتی عملہ اور اعلیٰ عہدہ دار موجود تھے۔سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دہشت گردی کو قوموں کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور فلسطینی تنازع ،شامی اور یمنی بحرانوں سمیت مشرقِ وسطیٰ میں درپیش تمام ایشوز کے حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ شاہ سلمان ٹوکیو میں سوموار کے روز جاپانی وزیراعظم شینزو ایبی سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ان بحرانوں نے خطے (مشرقِ وسطیٰ) کے استحکام اور ترقی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں ،یہ بین الاقوامی تجارت کی بڑھوتری میں حائل ہوئے ہیں اور انھوں نے دنیا میں توانائی کی بہم رسانی کے لیے خطرات پیدا کردیے ہیں‘‘۔خادم الحرمین الشریفین نے کہا کہ ’’ دہشت گردی قوموں اور عوام کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑے شراکت دار ہیں اور اس جنگ میں بین الاقوامی کوششوں کو مربوط بنانے کی ضرورت ہے‘‘۔ انھوں نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان مکالمے،رواداری اور برداشت کو فروغ دینے اور لوگوں کے درمیان پْرامن بقائے باہمی کی ضرورت پر بھی زوردیا ۔
جاپان سعودی عرب کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سعودی مملکت جاپان کو اس کی تیل کی درآمدات کا 35 فی صد سے زیادہ فراہم کرتی ہے جس کی سالانہ مالیت 45.4 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب جاپان سعودی عرب کو سالانہ 7.5 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سعودی فرماں روا کے دورے کے موقع پر مفاہمت کی مختلف یادداشتوں اور دوطرفہ تعاون کے پروگراموں پر دستخط کیے گے۔ “العربیہ” کے مطابق دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان سعودی جاپانی مشترکہ ویڑن 2030 پر عمل درامد سے متعلق تعاون کی یادداشت ، صنعتی انقلاب کے شعبے میں کنگ عبدالعزیز سٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور جاپانی وزارت برائے صنعت ، معیشت اور تجارت کے درمیان تعاون کی یادداشت کے علاوہ آٹھ یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ ان میں طبی نگہداشت ، سماجی ترقی اور واٹر ڈیسیلینیشن کے شعبوں سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔ جاپانی ذرائع ابلاغ سعودی فرماں روا کے ٹوکیو کے دورے کو تعلقات کی مضبوطی کے لیے ایک نادر موقع قرار دے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ دورے میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے انسداد کا موضوع بھی زیر بحث آئے گا۔ اس کے علاوہ ویڑن 2030 کے اہداف کو یقینی بنانے کے لیے اقتصادی ، ثقافتی اور تفریحی شعبوں پر بھی بات چیت ہوگی اور سعودی جاپانی سرمایہ کاری اور سعودی جاپانی ویڑن 2030 کے سلسلے میں ایک فورم کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جاپانی وزیراعظم نے گذشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب کے ویڑن 2030 منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس حوالے سے شراکت داری کے شعبوں کو جاننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ گزشتہ برس سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ٹوکیو کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی سات یادداشتوں کے علاوہ نجی شعبے میں کئی سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *