معافی کی تلاش

 


کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی


میرے سامنے ایک نیم پا گل شخص بیٹھا تھا اُ سکی عمر ساٹھ سا ل کے اوپر نیچے تھی اُ سکے چہرے اور آنکھوں کے تاثرات واضح طو رپر بتا رہے تھے کے وہ اپنے حواس میں نہیں ہے کو ئی بہت بڑا دکھ کر ب آکا س بیل بن کر اُس کی ہڈیوں تک سرائیت کر چکا تھا وہ ہو ش اور دیوانگی کے درمیان پنڈولم کی طرح جھول رہا تھا اُ سکی نیم پتھرائی آنکھوں میں تلا ش تھی کھو ج تھی جب اُس پر پا گل پن کا دورہ پڑتا تو وہ نیم جان ہو جا تا اور جب اُس کے اعصاب وحواس نا رمل ہو تے تو وہ بار بار ایک ہی سوال کر تا ہر آنے جانے والے کے پیچھے دوڑتا ہر ایک سے ایک ہی با ت کر تا لیکن اُ سکی دیوانگی اُس کے سوال کا جواب کسی کے پا س بھی نہیں تھا ۔ آج وہ نشان عبرت اور بے چارگی کی تصویر بنا پھرتا تھا لیکن مجھے آج بھی اِس کا عروج یا د تھا جب یہ طا قت اقتدار کے نشے میں چور انسانوں کو کیڑے مکو ڑوں کی طرح روندتا تھا مجھے آج بھی اِس بد بخت ظالم کا وہ واقعہ یا د تھا جو چند سال پہلے پیش آیا میرا ایک دوست اِ س کا عزیز تھا ایک دن وہ مجھے زبردستی اِ س کے گھر لے گیا اِس ظالم شخص کے گھر میں تہہ خا نہ تھا وسیع و عریض بنگلے سے گزرنے کے بعد ہم تہہ خا نے کی سیڑھیاں اترنے لگے میں بہت نا رمل انداز میں نیچے اتر رہا تھا ابھی سیڑھیاں ختم نہیں ہو ئیں تھیں کہ میرے پا ؤں زمین پر جم گئے اور دل دھڑکن بھول گیا اور سانس رک سی گئی میرے سامنے منظر ہی ایسا تھا میری آنکھوں نے آج تک ایسا منظر نہیں دیکھا تھا میں انسان کو بد ترین حا لت میں دیکھ رہا تھا مجھے لگا میرے سامنے انسان نہیں جا نور بیٹھے ہیں میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرے سامنے ایسا درد ناک منظر آئے گا میری جگہ آپ ہو تے تو آپ کی بھی یقیناًیہی حالت ہوتی میرے سامنے زنجیروں میں بند ھے دو انسان زمین پر بیٹھے تھے دونوں کے سر داڑھی مو نچھیں اور بھنووں کے بال کا ٹے جا چکے تھے غو ر سے کپڑے دیکھنے پر پتہ چلا کہ ایک عورت ہے اور دوسرا مرد دونوں درمیانی عمر کے تھے خو ف زدہ نظروں بلکہ رحم طلب نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہے تھے ہمارے ساتھ گھر کا مالک یہ ظالم شخص بھی تھا اِ س جیل خا نے میں کہاں سے آئے ہیں میری نظر اور سوالیہ انداز دیکھ کر وہ بولا جناب آپ نیچے تو آئیں آپ کو ساری با ت بتاتے ہیں بہر حال میں نہ چاہتے ہو ئے بھی پیچھے چلتا زخموں سے چور انسانوں کے پاس آگیا اب گھر کا مالک سٹا رٹ ہو گیا کہ میرے گھر سے بہت بڑی رقم چوری ہو گئی ہے اس چوری میں یہ ملوث ہیں ہم لوگ کسی فنکشن میں گھر سے با ہر گئے تو اِن دونوں میاں بیوی نے اپنے جاننے والوں کو بلا یا اور چوری کی اوراِس کی دلیل وہ یہ دے رہا تھا کہ جہاں پیسے پڑے تھے اُس کا علم کسی با ہر کے بندے کو نہیں تھا یہ گھر کے بھیدی تھے انہوں نے کسی سے مل کر یہ چوری کی ہے ( اِس چوری کی حقیقت بعد میں یہ کھلی کہ یہ رقم اِس کے ظالم بیٹے نے چوری کی تھی ) اب اِن بیچاروں پر ظلم و ستم جا ری تھا اِن کو پچھلے کئی دنوں سے تہہ خانے میں بند کر رکھا تھا با ل منڈوانے کی دلیل یہ دی کہ اِس طرح یہ گھر سے بھاگ نہیں سکتے روزانہ اِن کو بے رحمی سے ما را جا تا عورت گھر کے کام کر تی تھی جبکہ بندہ ڈرائیونگ کر تا تھا اِن کو زنجیروں سے با ندھا ہوا تھا کہ یہ کہیں بھاگ نہ جا ئیں گھر کے مالک کے چہرے پر فرعون جیسی بے رحمی تھی وہ اُس کو اپنی عقل اور طاقت پر بہت مان تھا وہ بار با راُن کو ٹھو کریں ما ر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں چوری کا مال تمہا رے پیٹ پھا ڑ کر نکا لوں گا تمہا ری ہڈیوں کے اندر سے نکا ل لوں گا مالک کے منہ سے آگ بر س رہی تھی گا لیوں کی بر سات جا ری تھی مالک نے اس کو اپنی بے عزتی سمجھ لیا تھا کیونکہ اِس ظالم کے منہ سے یہ نکل چکا تھا کہ یہ دونوں چور ہیں اب یہ اِس کو ثابت کر نے کے لیے اِن کی جان لینے کو تیار تھا اب یہ مُجھ سے تصدیق چاہ رہا تھا کہ میں بھی اِن پر چوری کا الزام لگا دوں وہ بار بار مجھے کہہ رہا تھا سر آپ کہیں نہ کہیں میرے چور یہی ہیں میں دونوں کے قریب گیا اُن بیچاروں کی آنکھوں میں دیکھا تو ایک لمحے میں ہی جان گیا کہ یہ مظلوم چور نہیں ہیں اِن پر نا جا ئز ظلمکیا جا رہا ہے میں اُٹھا اور مالک کی آنکھوں میں دیکھتے ہو ئے کہا جناب یہ دونوں چور نہیں ہیں آپ کی ڈکیتی کسی اور نے کی ہے آپ اُن کو ڈھونڈیں اور اِن کو آپ سے زیا دہ جانتا ہوں اگر آپ ان کو چور سمجھتے ہیں تو اِن کو پو لیس کے حوالے کر دیں مجھے ڈر تھا کہ یہ ظالم اِن بیچاروں کو تہہ خا نے میں ما ر ہی نہ دے لیکن مالک کسی بھی صورت ہا رماننے اور میری بات ماننے کو تیار نہیں تھا بہر حال میرا دم گھٹ رہا تھا میں تیزی سے نکلا اور واپس آگیا چند دن بعدمیں نے اپنے دوست سے کہا کہ اُن دونوں کو پو لیس کے حوالے کر دو یہ ظلم بند کرا ؤ میرے دوست کے کہنے پر ظالم نے دونوں نوکروں کو پولیس کے حوالے کر دیا ظالم نے پو لیس میں سفارش کر ا کر بیچاروں پر خوب ظلم کرا یا آخر پو لیس والو ں کو رحم آیا تو انہوں نے خدا خو فی کر تے ہو ئے اِس لیے چھو ڑ دیا کہ بیوی زخموں کی وجہ سے بہت خطرناک حد تک بیما ر ہو چکی تھی اور پھر وہی ہوا پو لیس سے آزاد ہو نے کے چند دن بعد ہی مر گئی اور میاں بیچارہ اِس ظالم کے خو ف سے شہرچھو ڑ کر اپنے گا ؤں چلا گیا ۔اِس واقع کے چند دن بعد ہی ٹریفک حادثے میں اِس ظالم کے دو جوان بیٹے وفات پا گئے اب اِس کی صرف بیٹی بچی تھی اِس ظالم نے بینک سے بہت بڑا قرضہ لے رکھا تھا بنک سے پھڈا ہوا اور فیکٹری بند ہو گئی اب اپنی جائیداد بیچ کر دوست کے کاروبار میں سارا پیسہ لگا دیا دوست ساری دولت لے کر بیرون ملک بھا گ گیا اب اِس نے اپنی بقا کے لیے اِدھر اُدھر ہا تھ مارنے شروع کر دئیے لیکن ہر گزرتا دن اِس کی بر با دی میں اضا فہ کر تا چلا گیا اب لوگوں سے ادھا ر لینا شروع کر دیا لیکن یہ سلسلہ بھی زیا دہ دیر تک نہ چل سکا اب لوگوں نے اِس کا فون اٹھانا بند کر دیا اگر کسی کے گھر جا تا تو وہ ملنے سے انکا ر کر دینا یہ ذلت اور سوائی نا قابل بر داشت تھی بلڈپریشراور شوگر عروج پر رہنے لگی اب اِس نے با بوں کے چکر لگا نا شروع کر دیے کسی اللہ کے بندے نے کہا تم کو کسی کی بد دعا لگی ہے اُس سے معافی مانگو تو اِس کو اپنا ظلم یا د آگیا اب یہ دوڑ کر اُس کے گا ؤں میں گیا لیکن گاؤں والوں نے بتا یا وہ تو کسی اور شہر چلا گیا اب یہ اپنے نو کر کی تلاش میں معا فی مانگنے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے آج میرے پا س بھی اِسی لیے آیا تھا کہ میرا نوکر کہاں ہے وہ بار بار مجھ سے یہی سوا ل کر رہا تھا کہ وہ کہاں ہے میں اُس کے پاس جا کر معافی مانگنا چاہتا ہوں اُس کے ساتھ آیا بندہ بتا رہا تھا کہ یہ اُس نو کر کی تلاش میں روزانہ گھر سے نکلتا ہے کبھی ریلوے اسٹیشن کبھی بسوں کے اڈے پر کبھی داتا صاحب جا کر ہر آنے جا نے والے کو دیکھتا ہے لوگوں کے پا ؤں سے لپٹ جاتا ہے کبھی راولپنڈی چلا جا تا ہے گھر سے کئی کئی دن غائب ہو جاتا ہے ہم اِس کو پکڑ کر لاتے ہیں کبھی یہ فقیروں کے درمیان ہوتا ہے یہ سراپہ تلا ش بن چکا ہے ہر چہرے کو غور سے دیکھتا ہے کہ یہ اُس کا سابقہ ملا زم تو نہیں پھر یہ اُٹھ کر چلا گیا اور پھر چند ما ہ بعد ہی اطلا ع ملی کے وہ پاگلوں کی طرح ایک شہر سے دوسرے شہر ایک گاؤں سے دوسرے گا ؤں بھا گتا رہا لیکن نہ تو اُسے اُس کا نو کر ملا اور نہ ہی اِس کی تلا ش کو منزل اُس کی تلا ش ثمر بار نہ ہو سکی آخر کا ر تھک ہا ر کر مو ت کو گلے سے لگا لیا انسان اپنے عروج پریہ سمجھے سوچے بغیر ظلم کر تا جا تا ہے یہ جانے بغیر کہ اگر معا فی کا دروازہ بند ہو گیا تو گنا ہوں کے بو جھ کے ساتھ ہی اندھی قبر میں اترنا پڑ ے گا جہاں روشنی صرف اچھے اعمال کی ہی ہو تی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *