آزادی کی سات دَہائیاں

ادریس نازؔ ؍ ناز برداریاں
14اگست2016ء کو ہم 69واں جشنِ آزادی منا رہے ہیں۔الحمدللہ آزادی کی سات دَہائیاں مکمل ہونے کو ہیں، مگر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قیامِ پاکستان کے مقصد کودھندلانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ تیسری نسل کو قیامِ پاکستان کا مقصد’’ امن کی آشا‘‘ کے ایجنڈے کے مطابق بتایا اور سمجھایا جا رہا ہے۔’’امن کی آشا‘‘ کے’’مالی اثرات‘‘ سے متاثر ہمارے خود ساختہ’’دانشور‘‘ ہماری نوجوان نسل کو یہ بتانے پر تلے بیٹھے ہیں کہ قیامِ پاکستان کی بنیاد ہرگزہرگز کلمہ طیبہ پر نہ تھی اور یہ نعرہ’’ پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔ لاالہ الا اللہ‘‘ ہی قیامِ پاکستان کے بعد معرضِ وجود میں آیا تھا۔قیامِ پاکستان سے قبل آزادی کی تحریک کے دوران فضائیں اس نعرے سے قطعی نا آشنا تھیں۔دوم ،ہمارے’’دو قومی نظریہ‘‘ پر ضربِ کاری لگاتے ہوئے یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہندوستان میں صرف ایک ہی قوم آباد تھی’’ہندوستانی‘‘۔ یہاں پر آباد ساری قوموں بشمول مسلمانوں کا طرزِ رہن سہن، تمدن، معاشرت وغیرہ ایک ہی تھا۔ محض عقائد و نظریات کا’’ معمولی‘‘ سا فرق تھا،لہٰذا ایسی صورت میں دو قومی نظریہ کی بات کرنا فضول عمل ہے۔سوم،بانیِ پاکستان قائدِ اعظم ؒ کوئی باقاعدہ مسلمان نہیں تھے۔ انگریزی لباس، انگریزی زبان، انگریزوں کا سا طرزِ رہن سہن اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے وہ سو فیصدی ’’سیکولر‘‘ تھے اور دینِ اسلام سے ان کا تعلق واجبی سا تھا۔ ہم ان سطور میں اپنے پڑھنے والوں کو باالخصوص نوجوان نسل کو ان سازشوں سے آگاہ کرنے کی مقدور بھر سعی کریں گے تاکہ ہمارا مستقبل کسی بڑی گمراہی کا شکار نہ ہو سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے مطالبہ کی بنیاد ہی کلمہِ طیبہ پرتھی۔ سبھی جانتے اور مانتے ہیں کہ پاکستان کا خواب شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبال ؒ نے دیکھا تھا۔اسی بنا پر ان کو مصورِ پاکستان کے خطاب سے نوازہ گیا۔ان کے عقائد اور نظریات کا مطالعہ کیجئے ،آپ کو واضح طور پر پتا چل جائے گا کہ وہ ایک راسخ العقیدہ پکے اور سچے مسلمان تھے۔حقیقی معنوں میں عاشقِ رسول ﷺ تھے۔ شعائرِ اسلام کا نہ صرف ان کی اپنی عملی زندگی میں بڑا عمل دخل تھا بلکہ وہ معاشرے میں بھی عملی طور پر اسلام کا بول بالا دیکھنا چاہتے تھے۔ان کا سارے کا سارا اردو،فارسی کلام ،ان کے مکتوبات اورخطابات وغیرہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک دینِ اسلام محض ایک عقیدے اور نظریے کا نام نہیں تھا،بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس پر عمل کیے بغیر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا حصول نا ممکن ہے۔ان کے عقائد اور نطریات اس قدر واضح ہیں کہ شبہ کی گنجائش ہی نہیں ملتی۔یہاں جگہ کی قلت کی وجہ سے ہم ان کے کلام، مکتوبات اور خطبات سے اس ضمن میں دلائل دینے سے قاصر ہیں ورنہ ڈھیر لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ وضاحت ضروری ہے کہ مصورِ پاکستان ہونے کے ناطے جس مجوزہ مملکتِ خدا داد پاکستان کا خواب انہوں نے دیکھا تھا ، وہ بڑا یقینی اور واضح ہے۔ نہایت دو ٹوک، ہر شبہ سے بالا تر۔اس ضمن میں ان کے کلام سے ایک شعر ملاحظہ کیجیے
ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!
شاعرِ مشرق، مصورِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال ؒ نے ان مّلاؤں کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنے عقیدے اور نظریے کے مطابق زندگی گزارنے کے ایک الگ قطعہ اراضی کی ہر گز ضرورت نہیں ہے۔ وہ جان لیں کہ کسی خطے میں مسلمان کی آزادی اسلام کی آزادی قطعی طور پر نہیں ہے۔بھئی نماز پڑھنے ،روزہ رکھنے زکواۃ ادا کرنے کی افرادی پابندی تو امریکہ میں بھی نہیں۔تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ وہاں اسلام آزاد ہے؟کیا جہاں جہاں مسلمان نماز، روزہ اور زکواۃ وغیرہ کی ادائیگی کر پا رہے ہیں ان تمام جگہوں پر مسلمانوں کے ساتھ اسلام بھی آزاد ہے؟یقینی طور پر نہیں۔ مسلمان کا آزاد ہونا الگ بات ہے اسلا م کا آزاد ہونا قطعی الگ بات۔جہاں آپ عملی طور پر اسلام کے احکامات اور قوانین نافذ نہ کرسکیں وہ معاشرہ اسلامی نقطہ نطر سے کسی طور بھی آزاد نہیں۔آپ امریکہ ، یورپ وغیرہ میں عبادات کا فریضہ تو ادا کرسکتے ہیں مگر اسلام کے تابع قوانین کے تحت زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔وہاں نیکی بدی،جرم وسزا کا وہ تصور ناپید ہے جو دینِ اسلام کا بنیادی جزو ہے۔شاعرِ مشرق، مصورِ پاکستان کے اس ایک شعرکو ہی سمجھ لیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی کہ مجوزہ اسلامی ریاست کے بارے میں ان کا تصور کتنا واضح اور محکم تھا۔کیا مصورِ پاکستان کے ’’نظریہِ پاکستان‘‘ کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ نہیں ہے؟یہ بات ان لوگوں کو خوب اچھی طرح جان لینی چاہئے جو آج کہتے پھرتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔ لا الہ الااللہ کا نعرہ تو قیامِ پاکستان کے بعد معرضِ وجود میں آیا تھا۔ یہ نعرہ اس وقت ہی بہ زبانِ مصورِ پاکستان فضاؤں میں تحلیل ہو چکا تھا جب اس اسلامی ریاست کا نام تک تجویز نہیں کیا جا سکا تھا۔
جہاں تک بات دو قومی نطریے کی نفی کی ہے۔ بانیِ پاکستان حضرت قائدِ اعظم ؒ کے اپنے خطابات اس سلسلہ میں بڑے واضح ہیں۔انہوں نے واشگاف الفاظ میں ارشادفرما دیا تھا کہ اس خطے میں ایک ہی آسمان تلے بسنے والے افراد ہرگز ہرگز ایک قوم نہیں ہیں۔ اپنے نظریات،عقائد،طرزِ رہن سہن، اور رسم ورواج میں عملی تضاد کی وجہ سےالگ الگ شناخت رکھتے ہیں اور ایک قوم نہیں۔یہ دو مختلف اقوام ہیں جن کا دنیا اور آخرت کے بارے میں عقیدہ ایک دوسرے سے قطعی الگ ہے لہٰذا ان کو ایک قوم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بانیِ پاکستان نے اسی ’’دو قومی نظریہ‘‘ کی بنا پر الگ مملکت کے لیے جدوجہد کی جسے اللہ رب العزت نے کامیابی سے ہمکنار کیا اور یوں ہم اس مملکتِ خداداد میں آزادی کی سانس لے رہے ہیں۔
اپنے تئیں عقلِ کل قسم کے’’ دانشور‘‘ جو قائدِ اعظم ؒ کو سیکولر بنانے اور سمجھانے پر تلے ہیں۔ ان کے رد کے لیے ایک ہی دلیل کافی ہے کہ حقیقی روشن خیال، نہایت پڑھا لکھا باپ جو صحیح معنوں میں ماڈرن قرار دیا جا سکتا ہے،جب اپنی اکلوتی بیٹی وینا جناح کے منہ سے ایک پارسی کے ساتھ شادی کا سنتا ہے تو اس کا اتنا شدید ردِ عمل ہوتا ہے کہ انکار کی صورت میں مرتے دم تک اس کو ملنا تو دور دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔اپنی اکلوتی بیٹی سے شدید محبت کرنے والے باپ کا یہ ردِ عمل کیا اس کے سیکولر ہونے کی گواہی دیتا ہے؟ان کے راسخ العقیدہ مسلمان اور خوف خدا سے سرشاری کی گواہی تو خود نہرو گاندھی کو دینا پڑی جب وہ نہایت ضروری کام کی غرض سے رات گئے بانیِ پاکستان کی انیکسی پہنچے اور قائد کی خواب گاہ میں ان کو اپنے رب کے حضور حالتِ سجدہ میں گڑگڑاتے اور سسکیاں بھرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔کیا اس کے بعد پنڈت نہرو گاندھی نے بھی ان کو کبھی سیکولر کہا یا سمجھا؟اگر نہرو جی ان کو حقیقی اور عملی مسلمان سمجھتے تھے تو ان کے’’ پیروکار‘‘ان کو سیکو لر سمجھنے اور سمجھانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟
محترم قارئین!یہ الگ بات کہ سات دَہائیاں گزرنے کے باوجود ہم وہ نظام نافذ نہیں کر سکے جس کے لیے یہ عظیم وطن حاصل کیا گیا تھا۔یہ ہماری بد قسمتی ہے،لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اس نظریے کو ہی دھندلا دیں جو اس کی بنیاد کی وجہ ہے۔ایسا کرنا ان بے پناہ قربانیوں کے ساتھ ظلمِ عظیم ہے جن کی بدولت یہ آزاد وطن ہم کو ملا۔انشاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب اس عرضِ پاک کی فضاؤں میں لا الہ الا اللہ کا عملی پرچار ہوگا۔وہ دن زیادہ دور نہیں جب یہاں مسلمان ہی نہیں اسلام بھی حقیقی معنوں میں آزاد ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *