’’میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا‘‘


تحریر:محمد شاہد محمود


مجاہد اسلام حافظ محمد سعید کی غیر آئینی وغیر قانونی نظر بندی کا آج 23واں دن ہے افسوس کے ساتھ وہ وہ کون سا قومی مفاد تھا جس کے تحت حافظ محمد سعید کو نظر بند کیا گیا ابھی تک واضح نہیں ہو سکا یا کیا گیا کیونکہ حافظ محمد سعید کی نظر بندی کسی قو می مفاد کے تحت نہیں بلکہ امریکی ڈکٹیشن پر مودی کو خوش کرنے کے لیے کی گئی ہے اور ہماری حکومت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم کل بھی غلام تھے اور آج بھی ہیں اور غلامی کو ہی پسند کرتے ہیں کیا یوم یکجہتی کشمیر کر چند روز پہلے حافظ محمد سعید کی نظر بندی اور پاکستان کے اندر بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت کیا یہ کشمیر کے ساتھ غداری نہیں ؟مسلمانوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمیشہ اپنے یہ غدار نکلے ہیں حالیہ خواجہ آصف کے بیان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بھارت کی زبان بولتے ہیں خواجہ آصف حافظ محمد سعید اور دیگر افراد معاشرے کے لیے خطرہ ہیں آپ نے خوب مودی اور ٹرمپ کو خوش کیا ویسے آپ سے امید بھی یہی ہے اور تھی آئیے ذرہ حافط محمد سعید اور جماعت الدعوۃ کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو واچ لسٹ میں ڈالنا اور معاشرہ کے لیے خطرہ ہونے اسباب پر نظر ڈالتے ہیں حافظ محمد سعید کا پہلا قصوریہ ہے کہ وہ پاکستان کوقائد اعظم اور اقبال کا خواب دیکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ یہ اسلامی جمہوریہ ریاست ہے تو اس میں اسلام کہاں ہے ہم آزادی کے باوجود بھی غلام کیوں ہیں ؟پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے نظریات کہاں ہیں ؟ یہاں اسلام کا نام لیواؤں کو دہشت گرد کیوں کہا جاتا ہے ؟اسلامی اشعائر کا مذاق کیوں اڑیا جاتا ہے ؟ داڑھی والے افراد کیوں معیوب سمجھا جاتا ہے ؟ یہاں مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر تو پابندی لگ سکتی ہے کہ وہاں سے مذہبی دہشت گردی پروان چڑھتی ہے اور حکومتی لوگ جو ایوانوں کے اندر بیٹھ کر اغیار اور کفر کی زبان بولتے ہیں کیا یہ دہشت گردی نہیں ؟ خواجہ آصف کی دماغی حالت سے یہ لگتا ہے کہ وہ عمر کے اس حصے میں ہیں کہ جہاں بندہ بچپن والی حرکتیں کرتے ہیں مگر بچے بھی کبھی اپنے گھر کا نقصان نہیں کرتے مگر وزیر دفاع نے تو بے وفائی کی حد کر دی مودی کی تر جمانی ہی کر ڈالی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے پاکستان کے اندر جو دہشت گردی کی ہے ایک نظر میں سال 2016ء 19لاکھ مریضوں کا مفت علاج کیا ہوا 182فری ڈسپنسریاں اور آٹھ بڑے ہسپتال دور پسماندہ علاقوں میں 800فری میڈیکل کیمپوں پر اڑھائی لاکھ مریضوں کا چیک اپ کیا گیا فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ایمبولینس سروس 254شہروں میں فعال 18ہزار مریضوں کو سروس فراہم کی گئی 3621ریسکیو آپریشن سرانجام دئیے گئے تھر پارکر بلوچستان میں 3410واٹر پروجیکٹس مکمل کیے گئے تین ہزار پانچ سو بچے یتیم بچوں کی کفالت آٹھ سو دو ایمبولینسز اور ساٹھ ہزار رضار کار دو سو تعلیمی ادارے یہ تو چند ایک ہیں اگر تفصیل لکھنے لگوں تو صفحات تنگ دامانی کی شکایت کریں گے خواجہ آصف کے مطابق حافظ محمد سعید کو معاشرے کے لیے خطرہ ہونے کے باعث کرفتار کیا گیا خواجہ آصف آپ اپنی ہی اداؤں پہ غور کریں آپ کی حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ آپ وطن عزیز کے لیے خطرہ ہیں آپ کے وزیر اعظم ہاؤس سے پاکستان آرمی کے خلاف بیانات جاری ہوئے آپ کی موجودہ حکومت جس نے بڑے بڑے عزم کیے تھے ملک سے بے روزگاری ختم کرنے کے دعوےٰ کیے تھے سب ہوا میں اڑ گئے ڈاکٹر عافیہ کا کیا کیا آپ کی حکومت نے امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کیسے بحفاظت امریکہ کیسے چلا گیا ؟ جب کہ اس وقت پنچاب میں آپ کی ہی حکومت تھی اس وقت خادم اعلیٰ پنچاب کدھر تھا؟ بھارتی راء کا ایجنٹ بھوشن یادیو کا کیا کیا؟ ان سوالات کے جوابات ہیں آپ کے پاس ؟ اور آپ نے مجاہد اسلام حافظ محمد سعید کے خلاف بیان دیکر اسلام پر رکیک حملہ کیا ہے کشمیری عوام کشمیر بنے گا پاکستان کا عزم لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور خواجہ آصف آپ بتائیں گے ؟ کہ آپ کی حکومت نے اور ووزیر اعظم نے کشمیریوں کے ساتھ بڑے وعدے کیے تھے کیا آپ نے ان کو خوراک مہیا کی ہے کشمیری پاکستان کا جھنڈا کا کفن پہن کر شہادتیں دیں رہے ہیں اور ادھر از خود وزیر اعظم نے بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دیکر کیا ثابت کیا ہے ؟ کہ ہم صرف کشمیر کی آزادی کی بات صرف بات کی حد تک کرتے ہیں خواجہ آصف آپ کشمیر سمیت دنیا بھر کر مسلمانوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ حافظ محمد سعید مسلمانوں کے دلوں میں بستے ہیں ۔موجودہ حکومت بھارت و امریکہ کی کاسہ لیسی میں مصروف ہے۔ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق،شاہ زین بگٹی،سردار عتیق احمد خاں، لیاقت بلوچ،سینیٹر محمد علی درانی،میاں محمود الرشید، سردار لطیف احمد کھوسہ،سینٹر حافظ حمداللہ،جمشید احمد دستی، شاہ اویس نورانی، حافظ عبدالغفارروپڑی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ ممتاز اعوان، حافظ خالد ولید و دیگر نے جرمنی میں خواجہ آصف کی طرف سے دیئے گئے اس بیان کہ ’’ حافظ محمد سعید معاشرے کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں‘‘ پر شدید ردعمل ظاہر کرتےہوئے کیا۔ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ خواجہ آصف کو چاہیے تھا کہ وہ جرمنی میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے غاصب بھارت کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے تاکہ دنیا میں مسئلہ کشمیر اجاگر اور انڈیا کی ریاستی دہشت گردی بے نقاب ہوتی تاہم وہ ایسا تو نہ کر سکے البتہ بھارت سے دوستی مضبوط کرنے کیلئے محب وطن لیڈروں کیخلاف الزام تراشیاں کی جارہی ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف کے بیان سے پوری پاکستانی قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ حافظ محمد سعید محب وطن لیڈر ہیں جن کیخلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہے۔ وہ معاشرے کیلئے خطرہ نہیں بلکہ جو لوگ اس ملک میں بیٹھ کر انڈیا کی خوشنودی کیلئے پالیسیاں بنا رہے ہیں وہ درحقیقت خطرہ ہیں۔ مولانا سمیع الحق نے کہاکہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت عروج پر ہے اور مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے لیکن خواجہ آصف کی زبان سے بھارتی دہشت گردی کیخلاف اور کشمیریوں کے حق میں ایک لفظ تک نہیں نکلا اور بھارت و امریکہ کو خوش کرنے کیلئے حافظ محمد سعید جیسے محب وطن لیڈروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی نے کہا کہ وزیر دفاع نے جرمنی میں بیٹھ کر حافظ محمد سعید کے بارے میں انتہائی غیر مناسب بیان دیا۔ حافظ محمد سعید محب وطن ہیں۔ان کی نظربندی سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کمزور کیا گیا اور نقصان پہنچانے کی سازش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید جیسے محب وطن پاکستانی کے خلاف وزیر دفاع کا بیان افسوسناک عمل ہے۔حافظ محمد سعید معاشرے کے لئے خطرہ نہیں بلکہ خدمتگارہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے جرمنی کے شہر میونخ میں دیے گئے اس بیان کہ ’’حافظ محمد سعید معاشرے کیلئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں اسلئے انہیں نظربند کیا گیا ہے‘‘ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے کیلئے خطرہ حافظ محمد سعید نہیں بلکہ حکومتی صفوں میں موجود وہ لوگ ہیں جو اس ملک میں انڈیا کے ایجنڈے کو پروان چڑھا رہے ہیں خواجہ آصف جیسے حکومتی عہدیداران بھارتی خوشنودی کیلئے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انڈیا کی ریاستی دہشت گردی ساری دنیا کے سامنے ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را پاکستان میں دھماکے اور دہشت گردی کے ذریعہ نہتے پاکستانیوں کا خون بہا رہی ہے۔ کلبھوشن جیسے ایجنٹ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں پروان چڑھا کر سی پیک منصوبہ کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ اسی طرح کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت عروج پر ہے اور مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے لیکن موصوف وزیر دفاع کی زبان سے بھارتی دہشت گردی کیخلاف اور کشمیریوں کے حق میں ایک لفظ تک نہیں نکلا لیکن بھارت و امریکہ کو خوش کرنے کیلئے حافظ محمد سعید جیسے محب وطن لیڈروں کے خلاف زہر اگلاجارہا ہے۔ خواجہ آصف کو چاہیے تھا کہ وہ جرمنی میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے غاصب بھارت کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے تاکہ دنیا میں مسئلہ کشمیر اجاگر اور انڈیا کی ریاستی دہشت گردی بے نقاب ہوتی تاہم وہ ایسا تو نہ کر سکے البتہ بھارت سے دوستی مضبوط کرنے کیلئے محب وطن لیڈروں کیخلاف الزام تراشیاں کی جارہی ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
میں چھوڑ سکتا نہیں ساتھ استقامت کا
میری اذاں سے جوش بلالؓ مت چھینو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *