پانچ دن ، 8 حملے، لمحہ فکریہ

 


تحریر:محمد شاہد محمود


پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا ، پانچ دن میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت مختلف شہروں میں دہشتگردوں نے 8 حملے کئے جن میں 100 کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات ، درجنوں خاندان اجڑ گئے۔ چار صوبے ، پانچ دن ، آٹھ حملے ، 100 کے قریب شہادتیں ، کراچی ، کوئٹہ ، لاہور ، مہمند ، پشاور اور سیہون شریف میں درندوں نے قیامت برپا کر دی۔ انسانی بھیڑیوں نے عام شہریوں ، میڈیا ، زائرین ، پولیس اہلکاروں اور فوجی جوانوں کو نشانہ بنایا۔ دہشتگردوں نے 12 فروری کو اپنی خون آشام کارروائیوں کا آغاز کیا اور سب سے پہلے کراچی میں سما ٹی کی ڈی ایس این جی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا ، اس حملے میں اسسٹنٹ کیمرہ مین تیمور جاں بحق ہو گیا۔ ایک کالعدم تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اگلے ہی روز دہشت گردوں نے لاہور میں چیئرنگ کراس کو خون میں نہلا دیا۔ یہاں فارما مینوفیکچررز کے مظاہرے کے دوران ایک خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔ اس حملے میں ڈی آئی جی ٹر یفک ، ایس ایس پی آپریشن سمیت 6 پولیس اہلکار اور 8 شہری جاں بحق ہو گئے۔ 80 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ، کالعدم تنظیم نے پھر ذمہ داری قبول کی۔ ابھی اس حملے کو تین گھنٹے ہی گذرے تھے کہ کوئٹہ میں سریاب روڈ پر ٹرانسپورٹ اڈے کے قریب دھماکہ کر دیا گیا جس میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے انچارج سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ 15فروری کو دہشتگردوں نے مہمند ایجنسی کو اپنی کارروائی کے لئے چنا۔ یہاں صبح نو بجے دو دہشتگردوں نے پولیٹیکل ایجنٹ کے آفس کے باہر بم دھماکہ کیا اور فائرنگ کرتے ہوئے اندر گھس گئے۔ تین لیویز اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید ہو گئے۔ ایک دہشتگرد ہلاک ہوا ، دوسرے نے خود کو اڑا لیا۔ چند گھنٹے بعد ہی پشاور دہشتگردی کی لپیٹ میں آ گیا جہاں امن کے دشمنوں نے حیات آباد میں ججوں کو عدالت سے گھر لے جانے والی سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا ، گاڑی کا ڈرائیور شہید ہوگیا ، سول جج آصف جدون اور تین خواتین سول ججز زخمی ہوگئیں اور اب سیہون شریف میں دہشتگردی کا المناک واقعہ پیش آیا جہاں دہشتگردوں نے لعل شہباز قلندر کے مزار کو زائرین کے خون سے لال کر دیا۔ درگاہ لعل شہباز قلندر میں دھمال کے دوران خودکش دھماکہ میں 20 بچوں سمیت 76سے زائد افراد شہید جبکہ 250 زخمی ہو گئے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج اور رینجرز کے دستوں کو فوری سیہون شریف پہنچنے کی ہدایت کی، پاک فوج اور رینجرز نے درگاہ کو گھیرے میں لیکر امدادی کام شروع کئے۔ سکیورٹی کے ناقص انتظامات تھے ، صرف دو اہلکار ڈیوٹی پر تھے جو خوش گپیوں میں مصروف تھے ، ان کی نااہلی کے باعث افسوسناک واقعہ پیش آیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سی ون 130 طیارے اورپاکستان نیوی کے ہیلی کاپٹر نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا،جنہوں نے نوابشاہ ایئرپورٹ سے زخمیوں کوکراچی منتقل کیا۔ایک عینی شاہد کا کہنا تھا دھماکے کے بعد اندھیرا چھا گیا اور بھگدڑ مچ گئی جس سے متعدد افراد پیروں تلے دب گئے ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ اب کسی سے کوئی رعایت نہیں ہوگی،قوم کے خون کے ہر قطرے کا فوری بدلہ لیں گے۔ اب کسی کے لیے تحمل کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی۔ کسی دہشت گرد کے لیے کوئی معافی نہیں۔ فوج مشکل کی اس گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔آرمی چیف نے قوم سے اپیل کی کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں تحمل کا مظاہرہ کرے۔ ملک کی مسلح افواج قوم کے ساتھ کھڑی ہیں۔ وہ دہشت گرد عناصر کو ان کے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دینگی۔اس سے قبل مہمند ایجنسی اور باجوڑ میں جوانوں اور عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پاک فوج نے کہا کہ ملک دشمن ایجنسیز علاقائی امن و استحکام سے کھیلنا بند کردیں ہم اپنی موجودہ برداشت کی پالیسی کے باوجود جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔پاک فوج نے ملک میں دہشتگردی کی نئی لہرکے باعث پاک افغان بارڈر پوائنٹ طورخم کو بند کردیا، آئی ایس پی آر کے مطابق بندش کا فیصلہ آئندہ احکامات تک برقرار رہے گا۔پیدل اور ہر قسم کی ٹریفک کا داخلہ بھی بند رہے گا۔ پاک افغان بارڈر پوائنٹ چمن بھی غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا۔کراچی سے خیبرتک سیکورٹی فورسز اِن ایکشن ، 33 دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا ، کراچی میں ایک گھنٹے کے دوران رینجرز کے دو مقابلے ہوئے ، اٹھارہ دہشتگرد ہلاک ہو گئے ، کوئٹہ ، ڈیرہ اسماعیل خان ، ہنگو ، بنوں اور پشاور میں بھی 15 دہشت گرد مارے گئے۔ کراچی سے خیبرتک سیکورٹی فورسز دہشتگردوں پر ٹوٹ پڑی ، درجنوں شدت پسندوں کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ کراچی میں رینجرز نے دو کارروائیوں میں اٹھارہ دہشتگردوں کو ٹھکانے لگایا۔ ترجمان رینجرز کے مطابق منگھو پیر میں رینجرز کے سرچ آپریشن کے دوران دہشتگردوں نے فائرنگ کی ، فائرنگ کے تبادلے میں 11 دہشت گردوں مارے گئے ، سپر ہائی وے پر کاٹھور کیقریب رینجرز کے قافلے پر دہشتگردوں نے حملہ کیا ، رینجرز کی جوابی کارروائی میں سات دہشت گرد انجام کو پہنچے ، دونوں کارروائیوں میں تین رینجرز اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ بنوں بکا خیل میں مروت کینال کے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کی جس میں 4 شدت پسندوں کا خاتمہ کیا گیا۔ پشاور کے علاقے ریگی میں پولیس اور پاک فوج کے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں تین دہشتگردوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔ ڈی آئی خان میں کولاچی کے قریب ناکہ بندی کے دوران پولیس کا دہشتگردوں سے مقابلہ ہوا جس میں پولیس وین پر حملہ کرنے والے 4 میں سے 2 دہشتگرد مارے گئے ، ہنگو میں اورکزئی ایجنسی کیقریب غلوچینہ کے مقام پر سیکورٹی فورسز پردہشتگردوں نے حملہ کیا ، فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ کوئٹہ سریاب روڈ پر ایف سی نےکارروائی کی جس میں دو دہشتگرد ہلاک ہوئے ، ہلاک دہشتگرد کالعدم تنظیم کے کارندے تھے۔ دہشتگرد عبدالغفور ڑوب ، اور جان محمد عرف ہجرت اللہ کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا۔ جھڑپ کے دوران دو ایف سی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ فیصل آباد بائی پاس پر سیکورٹی اداروں اور دہشتگردوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں دو دہشتگرد ہلاک ہوئے جن کی شناخت نہ ہوسکی۔ پاکستان میں پچھلے بارہ سال کے دوران صوفی بزرگوں کے متعدد مزارات اور درگاہیں دہشتگردوں کا نشانہ بنیں ، حب میں سیکڑوں افراد شہید ہوئے لیکن ان حملوں کے باوجود زائرین کی تعداد میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ بارہ سال کے دوران چاروں صوبوں میں مزار اور درگاہیں دہشتگردوں کا نشانہ بنیں۔ فاٹا بھی محفوظ نہ رہا ، بلوچستان کے ضلع خضدار میں 13 نومبر 2016 کو دربار شاہ نورانی میں خودکش دھماکہ ہوا جس میں 54 افراد جاں بحق ہوئے۔ڈیرہ غازی خان میں چار اپریل 2011 کو حضرت سخی سرور کے مزار پر دو خود کش حملوں میں 43 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کراچی میں صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر آٹھ اکتوبر 2010 کو دو خودکش حملوں میں دس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے 55 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ لاہور میں دہشتگردوں نے دو جولائی 2010 کو داتا دربار کو نشانہ بنایا۔ خود کش حملوں میں کم سے کم 35 افراد جاں بحق ہوئے۔ نوشہرہ میں بہادر بابا کے مزار کو نامعلوم افراد نے چھ مارچ 2009 کو بموں سے نقصان پہنچایا۔پشاور کے نواحی علاقے چمکنی میں پانچ مارچ 2009 کو نامعلوم افراد نے مشہور صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار کو تباہ کر دیا۔ لنڈی کوتل میں 11 مئی 2009 کو مقبول پشتو شاعر امیر حمزہ خان شنواری کے مزار کی بیرونی دیوار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔ اسلام آباد میں مارچ 2005 میں بری امام کے مزار پر خودکش حملے میں 20 افراد جاں بحق جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔ ضلع جھل مگسی میں فتح پور کے مقام پر مزار پر ہونے والے حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔سیاسی و سماجی رہنماؤں نیبلوچستان کے علاقے آواران میں فوجی قافلے کے قریب دھماکے اور سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے دربار کے احاطے میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اورکیپٹن طہ اور فوجی جوانوں کی شہادت اور زائرین کے جاں بحق و زخمی ہونے پر پر دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کو ملک بھر میں پھیلایا جائے۔پاکستانی قوم کب تک شہداء کی لاشیں اٹھاتی رہے گی۔ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں۔پانچ دنوں میں سات دھماکے ہو چکے ہیں۔مصلحت پسندی کا دور ختم ہو چکا،دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کی جا ئے ۔ہدیۃ الھادی پاکستان کے چیئرمین پیر سید ہارون علی گیلانی،ہیومین رائٹس موومنٹ کے مرکزی صدر ناصر اقبال خان،رائٹرز گلڈ آف اسلام کے معاون حکیم منصور العزیز،تحریک جوانان پاکستان و کشمیر کے چیئرمین عبداللہ حمید گل،ورلڈ کالمسٹ کلب پنجاب کے نائب صدر محمد شاہد محمود،سیکرٹری اطلاعات نسیم الحق زاہدی،انجمن اتحاد المسلمین پاکستان کے صدر شبیر احمد ہاشمی،پاکستان فیڈرل کالمسٹ لاہور کے رہنما محمد راشد تبسم و دیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ لاہور کے بعد کوئٹہ،پھر پشاور اور اب آواران اور سیہون شریف ،ہر روز دھماکے ہو رہے ہیں ۔دہشتگردی کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ انتہائی تشویش ناک اور لمحہ فکریہ ہے۔ملک دشمن بیرونی قوتیں پاکستان کاامن خراب کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔جب تک ان عناصر کاقلع قمع کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدمات نہیں کیے جاتے ملکی حالات بہترنہیں ہوسکتے۔دھماکوں میں قیمتی جانوں کاضیاع انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔دہشتگردوں کی بزدلانہ کاروائیاں ملت اسلامیان پاکستان کے عزم وحوصلے کو ختم نہیں کرسکتیں۔سیاسی وعسکری قیادت معصوم اور بے گناہ جانوں کے ساتھ کھیلنے والوں کو مقام عبرت تک پہنچائے۔انہوں نے سوگوار خاندانوں سے ہمدرد ی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ رہنماؤں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی بھی دعاکی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *