پہاڑ،زمین کا قدرتی حسن

پہاڑوں کے عالمی دن 11 دسمبر 2016ء کے موقع پر ایک خصوصی تحریر


اختر سردار چودھری،کسووال


پہاڑوں کاعالمی دن (Day Mountain) پاکستان سمیت دنیا میں ہر سال 11 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔پہاڑوں کا عالمی دن منانے کا آغاز11 دسمبر 2002ء میں کیا گیا۔اس دن دنیا بھر میں پہاڑوں کی اہمیت،ان کی حالت بہتر بنانے،قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے،آلودگی سے بچاؤ جیسے خصوصی اقدامات پر زور دیا جاتا ہے۔ یعنی عوام میں پہاڑوں کا قدرتی حسن برقرار رکھنے کے لئے اقدامات کا شعور اجاگرکرنا اس دن کو منانے کا مقصد ہے۔ پہاڑ دنیا میں زمین کی خشک سطح کا پانچواں حصہ ہیں۔یہ دنیا کی آبادی کے تقریباً 1/10 حصے کو گھر مہیا کرنے کا ذریعہ ہیں۔اوردنیا میں 80%تازہ پانی انہی پہاڑوں میں سے نکلتاہے۔
ارشاد ربانی ہے (ترجمہ)اور کیا ہم نے پہاڑوں کو (زمین کی) میخیں نہیں بنایا؟ (سورۃ النبا آیت 7) کل رات میں سوچتے ہوئے انہی خیالوں میں سو گیا کہ پہاڑوں کے متعلق صبح کالم لکھنا ہے۔خواب میں دیکھا کہ میں بہت سے پہاڑوں کی سیر کر رہا ہوں۔کوئی مجھے ان پہاڑوں کے نام بتاتا رہا۔میرے دل میں خیال پیدا ہوا اللہ تعالی نے قرآن میں پہاڑوں کو زمین کی میخیں قرار دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی خواب کا منظر بدل گیا۔اب میں زمین کے اندر سفر کر رہا تھا۔ آخر زمین کی تہہ میں پہنچ گیا۔میں نے حیرت انگیز منظر دیکھا۔جس جگہ زمین میں سمندروں کی ابتدا ہوتی ہے، اسی جگہ سے پہاڑ وں کی ابتدا ہوتی ہے۔سمندر اور پہاڑایک ہی جگہ سے شروع ہوتے ہیں۔اب اوپر کی طرف سفر شروع ہوا تو پتہ چلا پہاڑ اور سمندر کی درمیانی جگہ میں مٹی ہے۔اس طرح پہاڑ میخ کی طرح سمندر وں اور مٹی کو یعنی زمین کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ جوڑے ہوئے ہیں۔
وان انگلن(Anglin Van) نے اپنی تصنیف (Geomorphology) میں لکھا ہے کہ ”اب یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رو ئے زمین کے اوپر پہاڑ میں ایک جڑ کی طرح پایا جاتا ہے۔زمینی پرت کے جمانے میں پہاڑوں کا کوئی نا کوئی کردار ہے۔ جدید ماہرین ارضیات ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین کا نصف قطر 6378کلو میٹر ہے،زمین کی سب سے باہری سطح ٹھنڈی ہے،لیکن اندرونی پرتیں ا نتہائیگرم اور پگھلی ہوئی حالت میں ہیں،جہاں پر زندگی کا کوئی امکان موجود نہیں اوریہ کہ زمین کی سب سے بیرونی پرت جس پر (دنیا)ہم آباد ہیں،نسبتاً انتہائی باریک ہے۔ اس پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنا دیا گیا تاکہ زمین کاتوازن برقراررہے اوریہ اپنی جگہ سے لڑھک نہ جائے۔ابھی حال ہی میں ماہرین ارضیات نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر موجود پہاڑوں کی ایک خاص اہمیت ہے۔(اللہ نے انہیں یوں ہی نہیں بنا دیا)پہاڑ زمین کی سطح میں بالکل میخوں یعنی کیلوں کی طرح گھڑے ہوئے ہیں۔
مفسرین کرام کے مطابق جب زمین پیداکی گئی تو ابتدا میں لرزتی تھی،ڈولتی تھی،جھولتی تھی اور ادھر ادھر ہچکولے کھاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے زمیں پر پہاڑوں کے طویل سلسلے بنا دیے اور انہیں اس تناسب سے (حساب سے)جابجا مقامات پر پیداکیا،جس سے زمین پر لرزش اور جھول بند ہوگئی۔ (وہ باریک بیں (اور) پورا باخبرہے (القرآن)۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈْھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنادیں،شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کرلیں (الانبیا ء)“۔پروفیسر سیاویدا نے سمندروں یا زمین کے اوپر پائے جانے والے تمام پہاڑوں کی شکل اورساخت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میخ یا فانہ کی طرح کی ہوتی ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر فرینک پریس امریکہ کے ایک ماہر ارضیات ہیں۔انہوں نے ایک کتاب ”زمین ” لکھی ہے جو یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں، کہ پہاڑ مثلث نما ہوتے ہیں،زمین کے اندر گہرائی تک ان کی جڑیں ہوتی ہیں اور یہ کہ پہاڑ زمین کواستحکام فراہم کرتے ہیں۔
زمین پر پہاڑوں کو کسی خاص ترتیب اورحکمت سے پیدا کیا گیا ہے۔ کہیں اونچے پہاڑ ہیں۔ کہیں بلندی کم ہے،کہیں سیدھے لمبے پہاڑ ہیں، ان کا پھیلاؤ کم ہے، کہیں پھیلاؤزیادہ ہے۔ کہیں دور دور تک پہا ڑوں کا نام ونشان ہی نہیں ملتا اور کہیں طویل ترین سلسلے پائے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ مالک و خالق نے زمین کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے کیا ہے۔
قرآ ن مجید میں اللہ تعالیٰ قیامت کے روز پہاڑوں کا بادلوں کی طرح اڑنے کا ذکر درج ذیل آیت کریمہ میں کرتے ہیں،جس سے ان کی حرکت کا اشارہ ملتاہے ”آج تو پہاڑوں کو دیکھتاہے اورسمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں مگر اْس وقت یہ بادلوں کی طرح اْڑ رہے ہوں گے“ جد ید سائنس نے حا ل ہی میں معلوم کیا ہے کہ پہاڑ جامد اور بے حرکت نہیں ہیں، جیسا کہ دکھائی دیتے ہیں۔پہاڑ جگہ بدلتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *