نیشنل کوچنگ سینٹرمیں کتے۔۔۔کیوں؟

 


حفیظ خٹک:hafikht@gmail.com


شہر قائد میں اسٹیڈیم روڈ پر بین الاقوامی نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم موجود ہے۔اس کے مدمقابل نیشنل کوچنگ سینٹر واقع ہے ۔ جہاں آوٹ ڈور، انڈور کھیلوں ، جسمانی تربیت کیلئے کھلا میدان اور چہل قدمی کیلئے واکنگ ٹریک کے وسیع و رعریض انتظامات موجود ہیں۔ عارضی رہائش کیلئے ہاسٹل بھی قائم ہیں۔ کھیلوں میں سرپرستی کیلئے قومی اور عالمی سطح پر ملک کیلئے خدمات سرانجام دینے والے کوچز کی خدمات بھی کھلاڑیوں اور عام شہریوں کو حاصل ہوتی ہیں ۔ ان قومی و بین الاقوامی سطحوں پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے والوں کو یہاں خدمات کے عیوض جو معاوضہ دیا دیا جاتاہے وہ اس وقت ایک الگ اور ا ک تلخ حققیت پر مبنی موضوع ہے ۔ جاگنگ ٹریک پر صبح و شام پیدل چہل قدمی کرنے والوں سمیت دوڑ لگانے والوں کا رش ہوتا ہے۔ وسیع و عریض پارکنگ ان اوقات میں بھری ہوتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ شہر قائدکے باسیوں کو اپنی صحت کا اس قدر خیال ہے کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود وہ صحت کا خیال رکھنے کیلئے نیشل کوچنگ سینٹر کا رخ کرتے ہیں ۔
اک وقت اسی نیشنل کوچنگ سینٹر میں ایسا بھی گذرا ہے کہ جب اس کے میدان میں شادی ہالوں کی تقریبات عروج پر تھیں ، آئے روز وہاں ان تقریبات سے انتظامیہ کو معاشی فائدہ ہواکرتا تھا تاہم اس کے باعث کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہوجایاکرتی تھی۔ اس وقت نیشنل کوچنگ سینٹر کے ڈائریکٹر رفیق پیرزادہ ہیں جنہوں نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد شادی و تقریبات کانہ صرف خاتمہ کیا بلکہ تاحال کوچنگ سینٹر کے وسیع تر مفاد میں انکی کاوشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہی کی کاوشوں کے باعث اب فٹبال گراؤنڈ کی جگہ جہاں پارکنگ ہواکرتی تھی وہاں پر اب نئے انداز میں پارکنگ کو اس کے اصل مقام پر منتقل کرتے ہوئے فٹبال گراؤنڈ تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ واکنگ ٹریک کو زیادہ بہتر بنانے سمیت انڈور و آوٹ دور گیمز کیلئے جمنازیم کو مزید بہتر بنانے اور عوام کیلئے آسانیوں کے ساتھ سہولیات کی فراہمی کیلئے وہ کوشاں ہیں ۔
اسی نیشنل اسٹیڈیم میں ایک روز صبح کی وقت چہل قدمی کے دوران اک صحتمند جوان زاہدپر متعدد کتوں نے حملہ کیا ، زاہدکی جسامت اور مستعدی کو دیکھتے ہوئے کتوں نے براہ راست حملہ کرنے سے گریز کیا ۔اس دوران چہل قدمی کرنے والے دیگر بھی موجود تھے جنہوں نے اک شہری کو کتوں کے متوقع حملے سے بچانے کیلئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا ۔ نیشنل کوچنگ سینٹر کا کچھ عملہ بھی اس وقت موجود تھا لیکن وہ اس وقت منظم تماشائیوں کا کردار ادا کرتے رہے۔ زاہد نے اپنی چہل قدمی کو ادھورا چھوڑدیا اور جاتے ہوئے انہوں نے عملے کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کل وہ دوبارہ آئیں گے اور ان کتوں سے بچوں اور بڑوں کو بچانے کیلئے اپنے طور ہی انتظامات کریں گے۔ اس کاروائی کے بعد وہ نیشنل کوچنگ سینٹر کی انتظامیہ کے خلاف بھی کاروائی کریں گے۔ زاہد کی یہ باتیں سن کر موجود عملے کے چند افراد نے ان سے کہا کہ کسی بھی کتے کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری ان کے اوپر ہوگی اور یہ بھی کہ وہ کتوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ۔ اس کے ساتھ انہوں نے چہل قدمی کرنے والے زاہد کو مزید ذہنی اذیت سے بھی دوچار کیا ۔
یہاں عرض ضروری ہے کہ زاہد سمیت متعدد افراد اس نوعیت کے جذبات کا اظہار کرچکے ہیں ۔ راقم نے اک اور صحافی سید جعفر عباس جعفری کے ساتھ نیشنل کوچنگ سینٹر کامکمل جائزہ لیا، جس کے آغاز سے اختتام تک کتوں کو نہ صرف دیکھا گیا بلکہ ان کے کاٹنے کے متعدد قصے بھی وہیں کے مکینوں نے سنائے۔ نیشنل کوچنگ سینٹر میں قائم مسجد کے امام تک نے اس بات کی تصدیق کی کوچنگ سینٹر میں کتے موجود ہیں جو پہلے زیادہ تعداد میں تھے اور اب قدرے کم ہئے ہیں ۔ مختلف اہلکاروں ،مکینوں ، کھلاڑیوں سے گفتگو کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس وقت بھی نیشنل کوچنگ سینٹر میں 20سے زائد کتے موجود ہیں ۔ جو کہ موقع ملتے ہیں حملہ آور ہوتے ہیں ان سے بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ،کتوں کے کاٹنے کے بعد کتوں کو تو کچھ نہیں ہوتا لیکن جن کو انہوں نے کاٹا ہوتا ہے انہیں اپنے جسموں میں 14ٹیکے ناف کے اطراف لگانے پڑتے ہیں ۔ شعبہ طب میں ترقی کے باعث اب ان ٹیکوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگئی ہے تاہم اس مرحلے سے جو گذر تا اس کی تکلیف کا احساس جہاں ان کتوں کو نہیں ہوسکتا وہیں پر ان کتوں کو پالنے والوں کے بھی نہیں ہوتا ہے۔ 14ٹیکے لگانے کے بعد وہ فرد ، وہ بچہ جب ٹھیک ہوجاتا ہے تو وہ نیشنل کوچنگ سینٹر سے کوسوں دور چلا جاتا ہے ۔ اپنے کھیل کو اپنی صحت کو ملک و قوم کیلئے خدمات کو پس وپشت رکھ کر وہ نیشنل کوچنگ سینٹر کے قریب تک سے گذرنا بند کردیتا ہے ۔ اس عمل سے انسانی زندگی کو جو نقصان پہنچنے کے ساتھ شہر قائد کا ، ملک و قوم کا بھی نقصان ہوجاتا ہے لیکن اس نقطے کو سمجھا نہیں جاتا اور نہ ہی اس جانب سوچا جاتا ہے ۔
زاہد سمیت دیگر کتوں کو مارنے کی باتیں کرنے والوں کو سینٹر کے عملے نے جہاں سختی سے منع کیا وہیں پر سنگین نتائج کی بھی دھمکیاں دیتے ہوئے کتوں کو ہاتھ تک لگانے سے اپنے سخت اندازمیں منع کیا ، ان کا یہ رویہ قابل مذمت تھا اور ہے ،اور یہ مذمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک نیشنل کوچنگ سینٹر سے کتوں کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔ مسجد کے آگے کی جانب جگہ پر متعدد مکانات ہیں اور اس کے آگے آغاخان ہسپتا ل ہے ، ہسپتال و کوچنگ سینٹر میں دیوار موجود ہے ۔ان چند مکانات میں مقیم افراد نے اور ان کے ساتھ امام مسجد نے بھی کتوں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شام کے اوقات میں ان کتوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے ، جس کے باعث انہیں اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے بھی اپنے ساتھ ڈنڈا ، لکڑی و لاٹھی ساتھ رکھنی پڑتی ہے۔ اک مکین نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل عید قربان کے موقع پر یہی کتے اک بکری تک کو کھاگئے تھے ، جبکہ بچوں کو بڑی تعداد میں یہی کتے کاٹ چکے ہیں ۔
کوچنگ سینٹر کی مرکزی سیڑھیوں پر جہاں تماشائیوں کیلئے بیٹھنے کی جگہ بنائی جاتی ہے اس کے اطراف کی جگہوں کا جائزہ جاری تھا کہ اس دوران ڈائریکٹر رفیق پیرزادہ سامنے سے آئے۔ان سے کئی موضوعات پر گفتگو جاری تھی کہ اس دوران تین کتے گراؤنڈ اور دو ہمارے قریب ہی کی جہگوں پر آکر بیٹھ گئے۔ رفیق پیرزادہ سے جب ان کتوں کے حوالے سے سوالات کئے تو انہوں نے کہا کہ کوچنگ سینٹر کی ذمہ داریوں سنبھالنے کے وقت 80سے زائد کتے سینٹر میں پائے جاتے تھے۔ اس کتوں کے ہجوم سے ہونے والے نقصانات کاانہیں اندازہ تھا لہذا انہوں ان کتوں سے سینٹر کو صاف رکھنے کیلئے مہمات کا آغاز کیا ، کتوں کو براہ راست مارنے کے ساتھ دواؤں کے ذریعے بھی انہیں ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں ، اس محنت کے بعد اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ 80کتوں کی تعداد کم ہوتے ہوئے اب ڈیڑھ درجن رہ گئے ہیں ۔ ان رہ جانے والے کتوں کا خاتمہ اس وقت ہمارے لئے قریبا ناممکن ہوگیا ہے ۔ یہ رہ جانے والے کتے سینٹر کے ہی ملازمین کے کتے ہیں جنہیں انہوں نے پال رکھا ہے ۔ ان ملازمین کو یہ قطعی برداشت نہیں کہ انتظامیہ ان کے کتوں کو ختم کر دے۔ اس غرض کیلئے وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اپنے ساتھ ملالیتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جو چند کتے جو اس وقت نظر آرہے ہیں یہ مالی اور چوکیدار کے کتے ہیں جو کہ ان کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان سے ان کتوں کو ختم کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ اپنے بھرپور غصے کااظہار کرتے ہیں ، اپنے رہائشی مکانات میں اپنے گاؤں کے عزیزوں تک کو انہوں نے رکھا ہوا ہے ان سب کو ساتھ ملا کر وہ انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں جس سے نیشنل کوچنگ سینٹر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی روزانہ آنے والوں کھلاڑیوں اور سینٹرز کے ممبرز بھی اس صورتحال سے بے چین ہوجاتے ہیں ۔
رفیق پیرزادہ نے کہا کہ ابھی تک ان کے پاس کسی نے ان کتوں کے حوالے سے کوئی تحریری شکایت نہیں کی ہے ، انہوں نے اپنی ذاتی کاوشوں کے نتیجے میں کتوں کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جن کے باعث بڑی تعداد میں کتوں کو نیشنل کوچنگ سینٹر سے تو ختم کر دیا گیا ہے ، تاہم اب جو رہ گئے ہیں انہیں بھی جلد ہی ختم کر دیا جائیگا ۔ انہوں اس امید کا اظہارکا کیا کہ نیشنل کوچنگ سینٹر سے جلدہی ان کتوں کو بھی ختم کر دیا جائے گااورکھلاڑیوں، عام شہریوں کو بہتر ماحول میں کھیل و ورزش کے مواقع مہیا کئے جائینگے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مرکزی انتظامیہ اپنے قیمتی اثاثے کو محفوظ رکھنے کیلئے فوری اقدامات کرئے ۔ ان کی اس ضمن میں جلد بازی سے مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔نیشنل اسٹیڈیم کا حال انتظامیہ کے سامنے ہے ، ایسے حال سے کوچنگ سینٹر کو بچانے کیلئے ان کے پاس یہ بہترین وقت ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ان کتوں سمیت ہر حل طلب مسئلے کو حل کردیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *