سیرت وشہادت امام عالی مقام سیدالشہداء حضرت امام حسینؓ

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل،میانوالی


0333.6828540


؂قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزیدہے اسلام زندہ ہوتاہے ہرکربلاکے بعد
ارشادباری تعالیٰ ہے ۔ترجمہ “بلاشبہ جنہوں نے کہاہمارارب اللہ ہے پھراس پرثابت قدم رہے ان پرفرشتے اترتے ہیں اور(بشارت دیتے ہیں)کہ نہ توتمہیں کسی( آنے والے خطرے)کاخوف ہوناچاہیے اورنہ ہی کسی (گذشتہ بات کا)رنج وملال اوراُس جنت کی خوشخبری سنوجس کاتم سے وعدہ کیاجاتاہے (حٰم السجدہ آیت ۲۳)
؂انسان کوبیدارتوہولینے دو ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ
محرم الحرام کامہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے دلوں میں اس واقعے کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسے تاریخ “سانحہ کربلا “کے نام سے یادکرتی ہے ۔دس محرم الحرام 61 ؁ ہجری کومیدان کربلا میں تاریخ اسلام کاانتہائی دردناک اوردلوں کوہلاکررکھ دینے والا سانحہ رونماہوا۔یزیدیوں نے نواسہ رسولﷺلخت جگرسیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاوحضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ،حضرت امام حسینؓ ،ان کی اولاد،اقرباء اوردیگرساتھیوں کوانتہائی مظلومیت کے عالم میں شہیدکیا۔تاریخ اسلام میں اوربھی بہت سی جانیں اللہ کی بارگاہ میں قربان ہوئی ہیں ہرشہادت کی اہمیت وافادیت مُسلمّ ہے مگرشہادت سیدناامام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی دوسری شہادتوں کے مقابلے میں اہمیت وشہرت اس لئے بڑھ کرہے کہ کربلاکے میدان میں شہیدہونے والوں کی آقائے دوجہاں سرورکون ومکان ﷺسے خاص نسبتیں ہیں۔یہ داستان شہادت گلشن نبوتﷺکے کسی ایک پھول پرمشتمل نہیں۔تاریخ کے کسی دورمیں بھی امت مسلمہ کربلاکی داستان کوبھول نہیں سکتی ۔ سیدناحضرت امام حسینؓ نے اپنی جان تواللہ کے نام پرقربان کردی مگرباطل کے آگے سرنہ جھکایا۔سوال پیداہوتاہے کہ سیدناحضرت امام حسینؓنے یزیدسے ٹکرکیوں لی؟آپؓ نے یزیدکی حکومت کوماننے سے انکارکیوں کیا؟حقیقت میں اس کی وجہ یہ تھی امام عالی مقام یہ جانتے تھے کہ یزیدکی حکومت ایک ظالم حکومت ہے ۔یہ اسلام کی تاریخ کومسخ کرکے ایک نئے دورکاآغازکرنے والی ہے۔بہارشریعت میں صدرالشریعہ حضرت مولاناامجدعلیؒ فرماتے ہیں۔یزیدپلیدفاسق وفاجرمرتکب کبائرتھامعاذاللہ اس کو ریحانہ رسول ﷺ سیدناحضرت امام حسینؓ سے کیانسبت!آج کل جوبعض گمراہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے مقابلہ میں کیادخل ہے۔ہمارے وہ بھی شہزادے ،وہ بھی شہزادے ایسابکنے والامردودخارجی ناصبی مستحق جہنم ہے ہاں یزیدکوکافرکہنے اوراس پرلعنت کرنے میں علمائے اہل سنت کے تین قول ہیں اورہمارے امام اعظمؓ کامسلک سکوت یعنی ہم اسے فاسق وفاجرکہنے کے سوانہ کافرکہیں نہ مسلمان۔(بہارشریعت)وجہ یہی تھی کہ حضرت امام حسینؓنے مدینہ پاک (وہ مدینہ جس کے بارے میں میرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا”کہ میراکوئی امتی مدینہ کی سختیوں اورتکلیف پرصبرکرے گاتومیں قیامت کے دن اسکاشفیع ہوں گا)کے آرام کوچھوڑکرایک مشکل اورکٹھن سفرپرچل پڑے آپؓ نے رخصت کی راہ نہیں اپنائی بلکہ اس موقع پرآپؓ نے ارشادفرمایاتھا:میں حسین ابن علیؓ ہوں جسے نبی کریمﷺنے اپنے کاندھوں کی سواری دی ہے اگرمیں بھی رخصت کی راہ پرچل پڑاتوقیامت تک ظالم اورجابروں کے سامنے کلمۂ حق اداکرنے کی رسم اورسنت ختم ہوجائے گی۔سنت مصطفیٰﷺ ختم ہوجائے گی۔ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلندکرنے کاطریقہ ختم ہوجائے گا۔جرات وآزادی کاراستہ اسلام کی تاریخ میں بندہوجائے گا۔اللہ رب العزت نے نبی کریمﷺکومَاکَانَ وَمَایَکُوْن کا علم عطافرمایا۔نبی علیہ الصّلوٰۃ والسلام نے مخلوقات کی ابتداء سے لیکرجنتیوں کے جنت میں جانے اوردوزخیوں کے دوزخ میں جانے تک کے سب حالات اپنے صحابہ کرامؓ کے سامنے بیان فرمادیے تھے۔سیدناامیرالمومنین عمرفاروقؓ فرماتے ہیں “کہ حضورﷺنے ابتداء خلق سے لیکرجنتیوں کے جنت میں داخل ہونے اوردوزخیوں کے دوزخ میں جانے تک ہمیں سب کچھ بتادیایادرکھااسکوجس نے یادرکھااوربھلادیااسکوجس نے بھلادیا۔(بخاری شریف) ایک بارنبیوں کے سردارﷺاپنے نواسے سیدالشہداء حضرت امام حسینؓ اوراپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؑ کوگودمیں لئے بیٹھے تھے کہ حضرت جبرائیل امینؑ حاضرخدمت ہوئے اورعرض کیایارسول اللہﷺ!اللہ تعالیٰ کہتاہے ان میں سے ایک کوتوُچن لے یہ دونوں آپﷺکے پاس ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔چنانچہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت امام حسینؓ کوچن لیاچنانچہ تیسرے روز آپﷺکے صاحبزادے حضرت ابراہیمؑ کاانتقال ہوگیا۔
؂حسین ابن علیؓ نے کربلامیں یہ کیاثابت رہے جاری جونیزے پرتلاوت ہوتوایسی ہو
ولادت باسعادت سیدناامام عالی مقامؓحضرت ام الفضل بنت الحارث بارگاہ نبوتﷺمیں حاضرہوتی ہیں اورعرض کرتی ہیں ۔یارسول اللہﷺ!میں نے ایک بہت بھیانک خواب دیکھاہے سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ ﷺنے فرمایااپناخواب بیان کرو۔آپؓ نے عرض کی یارسول اللہﷺ!میں نے دیکھاہے کہ آپ کے جسم اقدس کاایک ٹکڑاکاٹ کرمیری آغوش میں رکھاگیاہے توآپﷺنے ارشاد فرمایا(تونے اچھاخواب دیکھاہے انشاء اللہ تعالیٰ میری بیٹی فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاایک بیٹے کوجنم دے گی جوآپ کی آغوش میں آئے گا)چنانچہ امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی ولادت باسعادت5 شعبان ہجرت کے چوتھے سال ہوئی سرکارمدینہ ﷺکوآپؓ کی پیدائش کی اطلاع دی گئی تو آپﷺ تشریف لائے ۔ آپؓ کے کان میں اذان کہی دعافرمائی اورآپﷺنے حسین نام رکھا ۔آپؓ کے نام رکھنے کی روایت یوں ہے حضرت سیدناعلی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ جب امام حسنؓ پیداہوئے توان کانام حمزہ رکھااورجب امام حسینؓ پیداہوئے توان کانام ان کے چچاکے نام پرجعفر رکھا۔ (حضرت علی المرتضیؓ فرماتے ہیں )مجھے نبی کریمﷺنے بلاکرفرمایامجھے ان کے یہ نام تبدیل کرنے کاحکم دیاگیاہے (حضرت علیؓ فرماتے ہیں )میں نے عرض کیا “اللہ اوراس کا رسولﷺ بہترجانتے ہیں پس آپﷺنے ان نام حسنؓ وحسینؓ رکھے۔( مسنداحمدبن حنبل) حدیث مبارکہ میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ حضورﷺنے فرمایا”کہ مجھے حکم آیاہے کہ میں دونوں نام بدل دوں اس کامطلب یہ ہواکہ ولادت کے ساتھ ہی امام حسنؓ وامام حسینؓ کا معاملہ زمینی نہ رہانام تک بھی زمینی رکھنے کی اجازت نہ ہوئی بلکہ نام بھی آسمان سے بھیجے گئے امام حسینؓ کودنیاکے پیمانوں پرتولنے والوامام حسینؓ کانام بھی دنیاسے نہیں آیابلکہ آسمانوں سے بھیجاگیا۔حضرت عمران بن سلیمانؓ سے روایت ہے کہ حسن اور حسین اہل جنت کے ناموں میں سے دونام ہیں جو کہ زمانہ جاہلیت میں کسی کے نام نہیں رکھے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے حسن اورحسین کے نام چھپارکھے تھے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے نواسوں کے نام حسن اورحسینؓ رکھے تھے آپؓ سب سے زیادہ نبی کریمﷺکے مشابہ تھے ۔ حضرت علی المرتضیٰؓ سے روایت ہے کہ حضرت امام حسنؓ سینہ سے سرتک حضورﷺکی کامل شبیہہ ہیں اورامام عالی مقام حضرت امام حسینؓسینہ سے نیچے پاؤں تک حضورﷺکی کامل شبیہہ ہیں”۔ّ(جامع ترمذی)
حلیہ مبارک سیدناامام عالی مقامؓ کا
سیرت نگاروں نے امام عالی مقامؓ کاحلیہ مبارک یوں تحریرفرمایاہے ” میانہ قدنہ بہت لمبے نہ بہت چھوٹے ،گھنی داڑھی،چوڑی پیشانی ،شانے بڑے بڑے ہڈیاں موٹی ،ہاتھ مضبوط قدم وسیع ،بال گھنگریالے ،بدن چست وتوانارنگ بہت سفیدسرخی مائل،اورآوازبلندوبارعب جب آپؓ گفتگوفرماتے توآوازمترنم ہوجاتی”۔
سیدناامام عالی مقامؓ کابچپن مبارک وپرورش
امام عالی مقام حضرت سیدامام حسینؓ کواللہ رب العزت نے بہت زیادہ حسن دیاتھاجس کی دنیامیں مثال نہیں ملتی۔آپؓ کابچپنرسالت مآبﷺ،سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاوحضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ کی عظیم اورپاکیزہ گودمیں گزرا۔حضرت یعلیٰ بن مرُّہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا” حسینؓ مجھ سے ہے اورمیں حسینؓ سے ہوں جوحسینؓ کومحبوب رکھتاہے وہ اللہ کومحبوب رکھتاہے حسینؓ فرزندوں میں سے ایک فرزندہے۔(ترمذی،مشکوٰۃ)حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا “جس نے سیدناامام حسنؓ وسیدناامام حسینؓ کومحبوب رکھا اس نے درحقیت مجھے محبوب رکھاجس نے ان دونوں سے بغض رکھااس نے درحقیت مجھ سے بغض رکھا۔(المستدرک حاکم،البدایہ والنہایہ)حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺسے پوچھاگیا”آپ کے اہل بیت میں سے کون آپ کوزیادہ محبوب ہے؟آپﷺنے فرمایاسیدناامام حسنؓ وسیدناامام حسینؓ اورآپ ﷺحضرت فاطمۃ الزہراسے فرماتے میرے دونوں بیٹوں کوبلاؤتوآپ ﷺدونوں کوسونگھتے اوراپنے سینہ مبارک سے چمٹالیتے حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے کہاکہ میں مغرب کی نمازآقاﷺکے ساتھ پڑھوں گااپنے اورتمہارے لئے بخشش کاسوال کرونگا۔آپؓ فرماتے ہیں کہ پس میں نبی کریمﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوااورآپﷺکے ساتھ مغرب کی نمازپڑھی۔ یہاں تک کہ عشاء کی نمازبھی پڑھی پھرآپﷺمسجدسے نکلے میں بھی آپﷺکے پیچھے چل پڑاآپﷺنے میرے چلنے کی آوازسنی توآپﷺنے فرمایاکیاتوحذیفہؓ ہے؟میں نے عرض کیاجی ہاں یارسول اللہﷺآپﷺ نے فرمایاتجھے کیاحاجت ہے ؟اللہ پاک تجھ کواورتیری والدہ کوبخشے (پھر)فرمایایہ ایک فرشتہ ہے جواس رات سے پہلے کبھی زمین پرنازل نہیں ہوااس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اورمجھے یہ بشارت دینے کے لئے اجازت مانگی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاجنت کی عورتوں کی سردارہے اورسیدناامام حسنؓ وسیدناامام حسینؓ جنت کے جوانوں کے سردارہیں۔(ترمذی )
تربیت سیدناامام عالی مقامؓ
امام عالی مقامؓ سات سال،سات ماہ اورسات دن تک حضورﷺکے سایہ شفقت میں رہے اس تربیت نے آپ کے علم وفضل شجاعت وسخاوت تقویٰ وطہارت اورزہدوورع کی مکمل تصویربنادیاآپؓ نے آنکھیں کھولیں تورسول خداﷺکی نمازیں علی المرتضیٰ شیرخداؓ کے سجدے اورسیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاکیقرآن پاک کی تلاوتیں سامنے تھیں۔آپؓ نے ساری زندگی اسی ذوق میں گذاری اسی وجہ سے آپؓ نے ظالم کے سامنے سرنہ جھکایابلکہ خالق کائنات کی بارگاہ میں اپنے سرکانذرانہ پیش کیا۔آپؓ کی تربیت کایہ عالم تھاکہ ایک مرتبہ زکوٰۃ کی کھجوروں کاٹوکرآقاﷺکی خدمت اقدس میں حاضرکیاگیاتھاامام عالی مقامؓ کابچپن تھاایک کھجور منہ میں رکھ لی آقاﷺنے فوراََانگلی ڈال کرکھجورنکال دی اورفرمایاکَخْ کَخْ چھی چھی( یعنی نہ کھا)کیونکہ زکوٰۃ کامال سادات کرام پرحرام ہے۔ایک دفعہ آپؓ کے ہاں چندمعززمہمانوں کی دعوت تھی ایک غلام نے کھانے کاقیمتی برتن لاپرواہی میں توڑڈالاامام عالی مقامؓنے اس کی طرف غصہ سے دیکھاوہ غلام قرآن کریم کاعالم تھااس نے امام عالی مقامؓ کے سامنے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی ،وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ مومن غصہ کوپی جانے والے ہیں یہ سن کرامام عالی مقامؓ نے فرمایاکَظَمْتُ غَیْظِیْ میں نے غصہ کوپی لیاپھراس غلام نے آیت کریمہ کااگلاحصہ تلاوت کیا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ اورلوگوں کومعاف کرنے والے آپؓ نے فرمایاعَفَوْتُ عَنْکَ میں نے تجھے معاف کردیاغلام نے اس سے آگے آیت کریمہ کااگلاحصہ تلاوت کیاوَاللّٰہ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ اوراللہ پاک احسان کرنے والوں کوپسندکرتاہے آپؓ نے فرمایا میں نے تجھے اللہ پاک کے لئے آزادکیا۔حضرت زیدبن ابی زیادؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺسیدہ فاطمۃ الزہراؓ کے گھرکے دروازے کے پاس سے گزرے اورحضرت امام حسینؓ کے رونے کی آوازسنی توآپﷺنے فرمایا!بیٹی اسکورونے نہ دیاکروکیاتمہیں معلوم نہیں کہ اسکے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔(نورالابصار)
سخاوت سیدناامام عالی مقامؓ
سخاوت جوصفات انبیاء علیہم السلام میں سے ہے آپؓ کوبارگاہ نبوتﷺسے خصوصی طورپرعطاہوئی تھی حضرت زینب بن ابی رافع سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺکے مرض وفات میں سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراؓ اپنے دونوں بیٹوں کولے کربارگاہ نبویﷺمیں حاضرہوئیں اورعرض کی یہ آپ کے دونوں بیٹے ہیں انہیں کوئی چیزعنایت فرمائیں آپﷺنے فرمایاحضرت امام حسنؓ کے حصہ میں میری ہیبت اورسرداری ہے امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کے لئے میری جراء ت اورسخاوت ہے یہی وجہ تھی کہ آپؓ نے کائنات میں سخاوت کی وہ عظیم الشان مثال پیش کی جس نے سب کوحیرت میں ڈال دیا۔جب حضرت اسامہؓ کی رحلت کاوقت آیاتووہ بڑے پریشان تھے آپؓ تشریف لے گئے اورپریشانی کاسبب پوچھاانہوں نے عرض کی میں ساٹھ ہزارکامقروض ہوں اورموت کاوقت قریب ہے امام عالی مقامؓ نے فرمایاآپؓ کاقرض میں اداکروں گاانہوں نے عرض کی میں چاہتاہوں کہ موت سے پہلے میراقرض اداہوجائے امام عالی مقامؓ نے اسی وقت حضرت اسامہؓ کاقرض ادا کردیا۔حضرت انس بن مالکؓکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام حسینؓکی خدمت اقدس میں حاضرتھااتنے میں ایک کنیزآئی اوراس نے تبسم کے ساتھ ایک پھول امام حسینؓ کی خدمت اقدس میں پیش کیاامام عالی مقامؓ نے وہ پھول لیااسے سونگھااورارشادفرمایاجامیں نے تجھے اللہ پاک کے نام پرآزادکیاہے ۔حضرت انسؓ نے عرض کیاآپؓ نے ایک معمولی پھول کے عوض اس کنیزکوآزادکردیاامام عالی مقامؓ نے فرمایااے انسؓ اللہ پاک کاقانون یہی ہے کہ اگرکوئی تمہیں تحفہ دے توتم اسے بہترتحفہ دواوراس کنیزکے لئے آزادی سے بڑھ کرکوئی تحفہ نہیں تھامیں نے اس لئے اسے آزادکردیا۔ایک مرتبہ آپؓ کاگزرایک ایسے مقام سے ہواجہاں پرکچھ غریب لوگ کھاناکھارہے تھے ان لوگوں کی نظرآپؓ پرپڑھی تواٹھ کرسلام کیااورانہوں نے امام عالی مقامؓ کوکھاناکھانے کی دعوت دی آپؓ ان کے درمیان بیٹھ گئے اورارشاد فرمایا اگریہ صدقہ نہ ہوتاتومیں ضرورتمہارے ساتھ کھاتاچنانچہ آپؓ نے ان تما م کواپنے ساتھ اپنے گھرلایاخوب کھلایاپلایالباس عطاکیااور انہیں درہم دینے کاحکم دیا۔شعیب بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ امام عالی مقامؓ کی شہادت کے بعدجب آپؓ کے بدن اقدس سے کپڑے اتارے گئے توآپؓ کی پشت مبارک پرنشانات پائے گئے جب امام زین العابدینؓ سے ان نشانات کے بارے میں پوچھاگیاتوامام زین العابدین نے فرمایاکہ یہ بیواؤں ،یتیموں اورمساکین مدینہ کے گھروں میں کھانے پینے کے سامان کی باربرداری کے نشان ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اگرزاہدواتقاء و پرہیزگاری ،عبادت وریاضت صبروشکرتسلیم ورضاوخشیت الٰہی جیسی اعلیٰ صفات مجسم کی جائیں توحضرت امام حسینؓ کی ذات پاک کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں
عبادت سیدناامام عالی مقامؓ
آپؓ بہت متقی پرہیزگاراورذوق عبادت کے مالک تھے کیوں نہ ہوجس کی والدہ سیدۃ النساء سیدہ کائنات اورخاتون جنت ہوں اوروالد گرامی علی المرتضیٰ شیرخداؓ ہوں ۔ ناناخاتم النبین رحمت العالمین حضرت محمدمصطفیﷺ ہوں مستندروایات اورکتب میں درج ہے علامہ جزری لکھتے ہیں “کہ امام عالی مقامؓ بکثرت نمازیں پڑھنے والے روزے رکھنے والے حج کرنے والے،صدقہ دینے والے اورنیکی کے کاموں میں بہت زیادہ سبقت لے جانے والے تھے ۔آپؓ نے تقریباََ25حج پیدل کئے اسکے علاوہ ساری رات قیام اورسال کے اکثرایام میں روزہ رکھناآپ کی مبارک زندگی کامعمول رہانبی علیہ الصلوٰۃ والسلام امام عالی مقام سیدنا امام حسینؓ سے بہت پیارکرتے تھے۔آپؓ ہرروزایک ہزاررکعت نمازنفل اداکرتے آپؓ کی زندگی قرآن پاک کی عملی تفسیرتھی ۔آپؓ قرآن پاک کی تلاوت دن رات کرتے تھے ایک دفعہسیدنا حضرت امام حسنؓ اورسیدناامام حسینؓ پیدل حج کے لئے جارہے تھے آپؓ کے ساتھ حاجیوں کی ایک اورجماعت شامل ہوگئی لوگوں نے جب آپؓ کوپیدل چلتے ہوئے دیکھاتواحتراماََوہ لوگ بھی اپنی سواریوں سے اترکرآپؓ کے ساتھ پیدل چلنے لگے ۔کچھ دورتک تووہ لوگ پیدل چلے مگرکچھ دورتک چل کرتھکن سے نڈھال ہوگئے اورپیدل چلنے میں مشکلات پیش آنے لگیں ان میں سے چندلوگ اس قافلے میں شامل بزرگ حضرت سعدبن ابی وقاصؓ کے پاس گئے اورعرض کرنے لگے اب ہمارے لئے پیدل چلنادشوراہورہاہے لہذا!آپ حسنین کریمینؓ سے درخواست کریں کہ وہ سواری پرسوارہوجائیں ۔یہ سن کرحضرت امام حسینؓ نے ارشادفرمایا۔یہ توممکن نہیں کہ ہم سوارہوجائیں کیونکہ ہم نے اپنے اوپریہی فرض قراردیاہے لیکن لوگوں کوتکلیف دینابھی گوارہ نہیں لہذاہم یہ راستہ چھوڑدیتے ہیں اوردوسراراستہ اختیارکرلیتے ہیں ۔روایات میں آتاہے کہ آپؓ کوبہت زیادہ لوگوں نے دیکھاتھاکہ جب آپؓ نمازاداکرتے توآپؓ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوجاتے آپ کی عبادت میں بڑاخشوع خضوع تھا۔
شہادت سیدناامام عالی مقامؓ
ارشادباری تعالیٰ ہے اورہم ضرورتمہیں آزمائیں گے (کبھی)خوف اور(کبھی)بھوک (کبھی)جان مال وثمرات (دنیاوی نعمتوں اور اولاد) کی کمی کے ذریعے اور(ایسے حالات میں) صبرکرنے والوں کو(جنت کی بشارت)دے دیجیے۔(سورۃ البقرہ آیت ۱۵۵)آپؓ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپؓ کی شہادت کی خبرمشہورہوچکی تھی حضرت ام سلمہّ فرماتی ہیں کہ آپﷺ نے ارشادفرمایاکہ جبرائیل امین ؑ نے مجھے خبردی ہے کہ میرافرزندفرات میں شہیدکیاجائے گامیں نے جبریل امین سے کہاکہ ان کے مقتل کی مٹی لاکردکھاؤپس یہ مٹی وہاں سے لائے ہیں وہ مٹی آپ ﷺنے حضرت ام سلمہؓ کودے دی اورفرمایاجب یہ مٹی خون بن جائے گی تووہ میرے بیٹے کے قتل کادن ہوگا۔ترمذی شریف کی جلدثانی میں ہے ایک عورت کہتی ہے محرم کی دسویں تاریخ کومدینہ طیبہ میں حضرت ام سلمہؓ کی خدمت اقدس میں حاضرہوئی میں نے دیکھاآپؓ رورہی ہیں میں نے رونے کی وجہ پوچھی توام المومنین نے فرمایامیں نے ابھی ابھی خواب دیکھاہے کہ رسول انورﷺکے سرانورمبارک اورریش مبارک میں گردوغبارہے میں نے عرض کیایارسول اللہﷺیہ کیابات ہے توآپﷺنے فرمایا!میں ابھی کربلاسے آرہاہوں آج میراحسین قتل کردیاگیاہے.حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے وہی مٹی یادآگئی جونواسۂ رسول ﷺکی پیدائش کے وقت جبرائیلؑ نے میدان کربلاسے لاکرحضورﷺکودی تھی اورنبی کریمﷺنے وہ مٹی مجھے دے کرفرمایااس مٹی کواپنے پاس رکھوجس دن میراحسین قتل ہوگایہ مٹی خون بن جائے گی ۔حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے وہ مٹی دیکھی توخون بن چکی تھی اس مٹی کومیں نے شیشی میں سنبھال کررکھاہواتھا۔میدان کربلامیں عظیم مصائب کے وقت بھی آپؓ نے دن اللہ کے کلام کی تلاوت میں بسرکیے اورراتیں رکوع وسجودمیں گزاریں انتہایہ ہے کہ جب آپؓ کوشہیدکیاگیااس وقت بھی آپؓ اللہ پاک کے حضورسجدہ میں تھے ۔آپؓ اورآپ کے ساتھیوں کودس ۱۰محرم ۶۱ہجری مطابق ۱۰اکتوبربروزجمعہ ۵۶سال ۵ماہ اور۵دن کی عمرمیں شہیدکردیاگیا۔اناللّٰہ واناالیہ رٰجعونآپؓ ؓکی شہادت سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ انسان پرجتنی مصیبتیں آجائیں صبرسے کام لیں اورظالم جابرکے سامنے نہ جھکیں۔ہروقت اللہ کی عبادت کریں آپؓ کی سیرت سے یہ معلوم ہواہے کہ آپؓ نے شہادت کے وقت بھی سرسجدہ میں رکھ کریہ ثابت کردیاکہ سیدناامام حسینؓکل کربلاکے میدان میں بھی سجدہ میں تھے اورآج تک سجدہ میں ہیں آپؓ کوسجدہ کرتے وقت تولوگوں نے دیکھاتھاپرسجدہ سے سراٹھاناکسی نے دیکھااس کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ جھکناہے تواللہ پاک کی بارگاہ میں ہے ظالم جابرکے سامنے نہیں ۔اللہ پاک نواسہ رسول ﷺکے صدقے ہماری بخش ومغفرت فرمائے سرکاردوعالم ﷺکی بروزقیامت شفاعت نصیب فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *