سائکل ریلی ،مثبت اقدام رہا۔۔

۔

(حفیظ خٹک:hafikht@gmail.com)


دوسری پی سی جی سائکل ریلی کے دوران پی سی جی بٹالین 3کے کرنل معاذ سے لیا گیا خصوصی انٹرویو
دوسری پی سی جی سائکل ریلی کے متعلق کرنل معاذ کا کہنا تھا کہ اس ریلی سے قبل پہلی ریلی 2011میں منعقد ہوئی تھی ، 5برس بعد دوسری ریلی منعقد کی گئی جس میں سائکل سواروں نے بھرپور انداز میں شرکت کی ۔ عوام پر اس ریلی کامثبت اثر ہوا۔ ریلی کے پہلے مرحلے سے تیسرے مرحلے تک اور اس کے بعد اختتامی تقریب تک ریلی پرامن اندا ز میں اختتام پذیر ہوئی ۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ڈی جی پی سی جی تھے جبکہ اختتامی تقریب میں بھی انہوں نے ہی کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔
سائکل ریلی کے دوران کوسٹل ہائیوے کے حفاطتی انتظامات کے متعلق انہوں نے کہا کہ پی سی جی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ریلی میں شریک سائکل سواروں ، انتظامی افراد و گاڑیوں ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سمیت مختلف مقامات پر عوامی استقبالیوں کیلئے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے، جس کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ ریلی کیلئے حفاظتی انتظامات کا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے افراد نے خود جائزہ لیا ہوگا۔ریلی کا انعقاد ایک مثبت اقدام تھا جس میں کھلاڑیوں کا جذبہ عروج پر تھا ان کے ساتھ بلوچستان کی عوام نے بھی ہر شہر میں سائکل سواروں کا پرجوش استقبال کیا ۔ کوسٹل ہائیوے سمیت دیگر متعدد مقامات پر ریلی کے حوالے سے بینرز آویزاں کئے گئے، اختتامی تقریب بزنجو اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جسے بھر پور انداز میں سجایا گیا ۔
پسنی و گوادر سمیت اک طویل ساحلی پٹی موجود ہے اس کیلئے حفاظت سے متعلق ان کاکہنا تھا پسنی کے ساحل پر ہماری یونٹ موجود ہوئی ، جہاں ساحل کو خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے اس کے علاوہ دیگر ساحلی پٹی طویل پر بھی سحت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ان اقدامات کے باعث عوام کو سکون حاصل ہے اور مچھلی پکڑنے والے پیشہ ور بڑی مقدار میں اپنے کاموں کو سرانجام دیتے ہیں ۔سمندری حدود کی حفاظتی ذمہ داریاں بھی پی سی جی کے اہلکار احسن انداز میں سرانجام دے رہیں ۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو پسنی کا ساحل بہت پسند آیا جس کا اظہار انہوں نے اپنے میزبانوں سے بارہا کیا اسی ساحل کو مدنظر رکھتے ہوئے گوادر و دیگر ساحلی علاقوں کے متعلق کرنل ماذ نے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گوادر زیر تعمیر بندرگاہ ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔اس بندرگاہ کے دورس مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔وقت کی کمی کی باعث ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو گوادر بندرگاہ کا دورہ نہیں کرایا جاسکاتاہم پسنی کے ساحل پر نمائندوں کو کشتی رانی کرائی گئی ہے اس کے ساتھ ہی انہیں سمندر میں نہانے کی سہولت فراہم کی گئی جس سے وہ محظوظ ہوئے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ شہر قائد بھی ساحل ہر واقع ہے تاہم شہر قائد کی آبادی دو کڑور سے زائد ہے اس لحاظ سے پسنی و گوادر کے ساحلوں کا کراچی سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔پی سی جی منظم انداز میں سمندری حدود کی محافظت کر رہی ہے۔
کوسٹل ہائیوے سمیت دوسری زیر تعمیر راہدری کی تعمیرات اور اس کے لئے حفاظتی اقدامات سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیر تعمیر شاہراہ نہایت اہمیت کی حامل ہے اس کی تعمیر پر خصوصی توجہ کے ساتھ کام جاری ہے ۔ مذکورہ شاہراہ کی حفاظت فوج کی ذمہ داری ہے ۔ اسی شاہراہ کی حفاظت کے لئے جلد ہی ایک ڈویژن فوج تعینات کی جائے گی۔کوسٹل ہائیوے پر پی سی جی کی ذمہ داری ہے جس کے مثبت اثرات آپ کے سامنے ہیں ۔ گوادر سے خضدار کے راستے کوئٹہ شہر تک اس اور کے بعدملک کے دیگر شہروں سے پڑوسی ممالک تک نئی شاہراہ پر تیزی سے کام جاری ہے ، اس شاہراہ کے بلوچستان سمیت پورے ملک پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
طویل ترین سائکل ریلی کے حوالے سے انہوں نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوسری پی سی جی ریلی کے تمام کھلاڑیوں نے سخت محنت اور جذبے سے 550کلومیٹر طویل سفر طے کیا ، ان کی اس کاکردگی کوعوام نے بھرپور داد دی ، اس ریلی سے بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ منفی سرگرمیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سائکل سواری سمیت دیگر مثبت سرگرمیوں کی جانب بڑھیں ، اس قدم سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام مزید بہتر ہوگا ۔ ریلی سے یہ بات بھی سب کے سامنے آئی ہے کہ ملک میں باصلاحیت نوجوانوں کی کمی نہیں ، اسی محنت و مشقت سے یہ نوجوان آگے بڑھیں گے تو یہی نوجوان ملک کے مستقبل سمیت پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *