سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان مؤثر ترین شخصیت


تحریر:محمد شاہد محمود
03214095391
shahidg75@gmail.com


امریکی نیوز ایجنسی ’بلومبرگ‘ کی جانب سے دنیا کی 50 موثرترین شخصیات کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی بالخصوص اخبارات کے ایڈیٹروں، صحافیوں، معیشت کے شعبے سے وابستہ شخصیات، تاجروں اور سیاست دانوں کو شامل کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 100 عالمی موثر شخصیات کی ایک فہرست مرتب کی گئی تھی جن میں چھان پھٹک کے بعد 50 شخصیات کی حتمی فہرست جاری کی گئی۔ ان میں شہزادہ محمد بن سلمان 42 ویں موثر ترین عالمی شخصیت قرار دیے گئے ہیں۔ یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد بے چینی کے دور سے گذرنے والے برطانیہ کی وزیراعظم تھریسا مے اس فہرست میں سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن بھی شامل ہیں کیونکہ دونوں دنیا کی سپر پاور کا صدر بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ مشرق میں چین کے صدر کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔ عالمی بحرانوں کا سامنا کرنے کے باوجود چینی قیادت نے اپنے ملک کو اقتصادی طور پرمتاثر ہونے سے بچالیا۔ پوری عرب دنیا سے شہزادہ محمد بن سلمان اس فہرست کا حصہ بنے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا “اکنامک ویڑن” دنیا بھر میں پسند کیا گیا اور اس کے سعودی عرب، خطے اور پوری دنیا پر گہرے اور دور رس سیاسی، اقتصیادی اور تجارتی اثرات مرتب ہوں گے۔ فہرست میں گیارہ خواتین میں جرمن چانلسر انجیلا میرکل کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ میرکل نے دو صدیوں کے بدترین بحرانوں اور پناہ گزینوں کے قضیے کے حل کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنے پر اس فہرست میں شامل کیا گیا۔ حسب معمول روس کے صدر ولادی میرپوتن کو بھی اپنے ملک کو سیاسی اور اقتصادی استحکام سے ہم کنار کرنے پر پچاس موثر ترین شخصیات میں شامل کیا گیا۔ دیگر موثر شخصیات میں چین اور برطانیہ کے مرکزی بنکوں کے گورنر اور امازون کمپنی سمیت کئی دوسری عالمی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہیں۔سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 28 اپریل 2015ء کو اپنے نئے شاہی فرمان کے ذریعے شہزادہ محمد بن نایف کو ولی عہد اور اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقررکیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نائب ولی عہد کے ساتھ نائب وزیراعظم، وزیردفاع اور اقتصادی ترقی کونسل کے صدر بھی ہیں۔محمد بن سلمان نے ریاض میں اسکولی تعلیم حاصل کی۔ وہ اسکولی سطح پر میں سعودی عرب بھرمیں سرفہرست 10 مقامات حاصل کرنے والے طلباء میں رہا۔ دوران تعلیم انہوں نے مختلف پروگراموں کے اضافی کورسز بھی کئے اور قانون میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جامعہ الریاض کے لاء کالج میں گریجوایشن میں قانون اور سیاسیات میں ان کا دوسرا مقام تھا۔عملی زندگی10 اپریل 2007ء کو شاہی فرمان کے تحت محمد بن سلمان کو سعودی کابینہ میں ماہرین کونسل کا مشیر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 16 دسمبر 2009ء تک اس عہدے پر کام کیا۔ 16 دسمبر 2009ء کو انہیں شاہی فرمان کے تحت امیر ریاض کا خصوصی مشیر مقرر کردیا گیا۔ 3 مارچ 2013ء انہوں نے ریاض کے مسابقتی مرکز کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی ذمہ داریاں سنھبالیں اور ساتھ ہی ساتھ شاہ عبدالعزیز دفاعی ترقی کی اعلٰی کمیٹی کے بھی رکن رہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو شاہ سلمان کا اس وقت مشیر مقرر کیا گیا جب وہ امیر ریاض کے عہدے پرتھے۔ ولی عہد کے دفتر کے انچارج اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کے طورپربھی خدمات انجام دیں۔ 3 مارچ 2013ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں ولی عہد کے شاہی دیوان کا منتظم مقرر کیا گیا اورانہیں ایک وزیر کے برابر رتبہ دے دیا گیا۔13 جولائی 2013ء کو انہیں وزیردفاع کے دفتر کا سپروائزرمقرر کیا گیا۔ 25 اپریل 2014ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں وزیر مملکت، پارلیمنٹ کارکن، 18 ستمبر 2014ء کو شاہ عبدالعزیز بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین کا اضافی چارج بھی سونپا گیا۔23 جنوری 2015ء کو شاہی فرمان کے تحت شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو خادم الحرمین الشریفین کا مشیر خاص اور شاہی دیوان کا منتظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔جب محمد بن سلمان کی عمر صرف 12 سال تھی تو وہ اپنے والد سلمان بن عبد العزیز کی زیر قیادت ہونے والے اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے، جب وہ سعودی عرب کے صوبہ ریاض کے گورنر تھے۔ 17 سال بعد، 29 سال کی عمر میں وہ دنیا کے نوجوان ترین وزیر دفاع کی حیثیت سے یمن میں ایک جنگ میں ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔مملکت سعودی عرب اپنے علاقائی رقیب ایران کے ساتھ کشیدگی کا حصہ بنا ہوا ہے، اور اس معاملے میں سعودی عرب کا علم ایک ایسے شخص کے پاس ہے جسے مشرق وسطیٰ کا طاقتور ترین رہنما بننا ہے، محمد بن سلمان بن عبد العزیز! شہزادہ محمد بن سلمان اس وقت بالکل نوعمر تھے جب انہوں نے حصص و املاک کی تجارت کا آغاز کیا۔ اپنے بڑے بھائی کی طرح وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں گئے، بلکہ ریاض ہی میں مقیم رہے اور شاہ سعود یونیورسٹی سے قانون میں گریجویشن کیا۔ ان کے تعلیمی ساتھی انہیں ایک سنجیدہ نوجوان قرار دیتے ہیں جو نہ ہی تمباکو نوشی کرتے اور شراب پیتے تھے اور نہ ہی انہیں پارٹیوں سے کوئی دلچسپی تھی۔2011ء میں ان کے والد نائب ولی عہد بنے اور وزارت دفاع حاصل کی اور 2012ء میں ان کے ولی عہد بننے کے بعد نجی مشیر کی حیثیت سے محمد بن سلمان شاہی دربار میں فیصلہ کن کردار بن گئے۔ راستے کے ہر ہر قدم پر شہزادہ محمد اپنے والدکے ساتھ ہوتے ہیں جو خاندان سعود میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے چہیتے بیٹے کو ساتھ رکھنے لگے تھے۔ جب شاہ سلمان جنوری 2015ء میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تو وہ پہلے ہی سے بیمار تھے اور ان کا زیادہ تر انحصار اپنے بیٹے پر تھا۔ اپنے والد کے نگہبان کی حیثیت سے محمد بن سلمان اس وقت مملکت کے سب سے طاقتور آدمی بن چکے ہیں۔ شاہ سلمان کے عہد کے ابتدائی چند ماہ ہی محمد بن سلمان کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ شہزادے کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا؛ قومی توانائی کمپنی ارامکو کا سربراہ بنایا گیا؛ نئی اور طاقتور مجلس کونسل برائے اقتصادی و ترقیاتی امور کا سربراہ مقرر کیا گیا جو ہر وزارت کی نگرانی کرتی ہے؛ اور مملکت سعودی عرب کے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ انہیں نائب ولی عہد بنایا گیا اور یقین دہانی کروائی گئی کہ ولی عہد و وزیر داخلہ اور اپنے حریف محمد بن نائب پر فوقیت دی جائے گی۔سعودی عرب میں ایک کاروباری شخص کا کہنا ہے کہ “وہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ وہ محنت کرتے ہیں، ان کے پاس اقتصادی اصلاحات کے لیے ایک منصوبہ ہے۔ وہ کھلے دل کے ہیں اور عوام کو سمجھتے بھی ہیں۔” نوجوانوں میں محمد کی مقبولیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ سعودی عرب کی 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے ۔ جب محمد بن سلمان نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے 34 ملکی اتحاد کا اعلان کیا، تو ان کے ذہن میں واضح طور پر ایران موجود تھا۔ ایران نے بڑی خوبی سے، براہ راست اور حزب اللہ کے ذریعے، شام کے صدر بشار الاسد کی پشت پناہی کی ہے۔ سعودی عرب شام کے لیے امن مذاکرات کے آغاز سے پہلے پہلے بشار کو اقتدار سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب جبکہ سعودی عرب نے معروف شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو سزائے موت دے دی ہے، بدلے کی جنگ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایران نے بھی مظاہرین کو کھلی چھوٹی دی کہ وہ تہران میں سعودی سفارت خانے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں، اور سعودی عرب نے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ مل کر کئی ملکوں کے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کروا دیے ہیں۔ ساتھ ہی صنعاء میں ایرانی سفارت خانے پر بمباری کی خبریں بھی مل رہی ہے، اس لیے معاملات مزید بگڑ چکے ہیں۔ لیکن محمد بن سلمان اب بھی سعودی عرب میں زبردست عوامی حمایت رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *