حُسنِ لازوال


بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل: help@noorekhuda.org فون: 03004352956
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org فیس بک آفیشل پیج:www.fb.com/noorekhuda.org


میں سیدالانبیاء ﷺ کے روضہ مبارک کے سامنے رشک بھری نظروں سے روضہ رسول ﷺ جو اماں عائشہؓ کا حجرہ تھا دیکھ رہا تھا یہی وہ حجرہ تھا جہاں سرور دو جہاں ﷺ نے بہت سارے شب و روز گزارے اِن درو دیوار نے پیا رے آقا ﷺ کی ہزاروں دلنواز ادائیں دیکھیں ہو نگی آپ ﷺ کا چلنا بیٹھنا سونا عبا دت کر نا یہاں سے نکل کر مسجدمیں جانا ، مشکبو ہوا ئیں فضائیں نسلِ انسانی کے سب سے بڑے انسان کو دیکھتی ہو نگی اور اپنی قسمت پر رشک کر تی ہو نگی میں سنہری جالیوں کے اندر سرخ سبز چادر کے آگے دیکھنے کی کو شش کر رہا تھااچانک چشمِ تصور میں ایک خیال ہزاروں چاند ستا روں کی طرح چمکتا ہے اور میں اندر تک برفیلی خو شبوؤں سے مہکتا چلا جا تا ہوں تجسس خو شگوار حیرت احترام آخری حدوں کو چھو نے لگا مجھے اچانک لگا کہ میں سرتاج الانبیاء ﷺ شاہِ دوجہاں ﷺ کے اتنا قریب ہوں، پیا رے آقا ﷺ پاک کا جسم اطہر اُسی طرح کر ہ ارض کو مہکا رہا ہے اور قیا مت تک اِسی طرح مہکاتا رہے گا اِس خیال کے ساتھ میری روح سر شاری سے جھوم رہی تھی کہ میں محبوب خدا ﷺ کے اتنا قریب ہوں آپ ﷺ کا چہرہ مبا رک اور دڑھی مبا رک پر غسل کے بعد پا نی کے قطرات ابھی بھی مو تیوں کی طرح رو شنی بکھیر رہے ہونگے جنت کے مہکتے جھونکے آپ ﷺ کے قدموں سے لپٹ لپٹ جا رہے ہوں گے میں اِسی خو شی سر شاری نشے اورمستی سے دو چار تھا کہ بیان سے با ہر ہے میرے انگ انگ نس نس سے سر شاری و مستی کے جھرنے پھو ٹ پڑتے تھے اورمیں اپنی قسمت پر ناز اں کہ کہاں میں سیا ہ کا ر اور کہاں پیارے آقا ﷺ کا در میں حجرہ پاک اورمسجدِ نبوی ﷺ کے درو دیوار کی قسمت پر رشک کر رہا تھا جنہوں نے شہنشاہِ دو عالم ﷺ کے لا فانی حسن کا بار بار نظا رہ کیا ہو گا بلا شبہ شہنشاہِ مدینہ ﷺ کو خا لق کا ئنات نے اپنے ہی نور سے خلق کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے بعد اُن تمام نبیوں کے حسن کو اکٹھا کر کے اُس حسن میں اپنے خا ص نو ر کو شامل کر کے سرور کو نین ﷺ کو بنایا ہو گا آپ ﷺ کے حسن لا زوال کے سامنے پو ری کا ئنات کے حسن ماند پڑ گئے تھے ۔ جس نے بھی آپ ﷺ کو دیکھا وہ آپ ﷺ پر فدا ہو گیا کیونکہ تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کے خالق کا ئنا ت کے پو ری کا ئنات میں آپ ﷺ جیسا اور کو ئی نہ بنایا، سیرت کے بے شمار کتا بوں میں ہزاروں سیرت نگا روں نے پیا رے آقا ﷺ کے حسن کو بیان کر نے کی کو شش کی ہے لیکن سمندر کے ایک قطرے یا صحرا کے ایک ذرے سے آگے کو ئی بھی نہ جا سکا اور نہ کو ئی قیا مت تک بیان کر سکے گا آج چودہ صدیوں سے بے شمار عشاق نے آپ ﷺ کے حسن کو بیان کر نے کی کو شش کی ہے جب کہ سچ تو یہ ہے کہ یہ تمام سرور کو نین ﷺ کی صفات کی صرف ایک جھلک کا ہی ادارک کر سکے ہیں اِن کے قلم عاجزی اور بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ شاہِ مدینہ کی اصل حسن اور وصف سے خالق ہی آگا ہ ہو سکتا ہے اور کو ئی نہیں امام بو صیری ؒ نے کیا خو ب کہا ہے ۔ انہوں نے صرف صورت دکھا ئی ہے تیری صفات کی لوگوں کو جیسا پا نی صورت دکھا دیتا ہے ستاروں کی ۔ امام قرطبی ؒ نے کسی عارف کا قول کیا اچھے طریقے سے لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا کامل حسن ہما رے لیے ظا ہر نہیں ہوا کیونکہ اگر ہو جا تا تو ہما ری آنکھیں آپ ﷺکے دیدار کی تاب نہ لا سکتیں ۔ اِس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ سیرت نگا ر نے آپ ﷺ کے حسن کے بیان کے لیے جو بھی تشبیہات بیان کی ہیں وہ صرف لوگوں کو سمجھا نے کے لیے ورنہ اِس کائنات میں آپ ﷺ کا لا زوال حسن کو بیان کر نے کے مثل کو ئی بھی مثال یا چیز نہیں ہے ۔ پیا رے آقا ﷺ نو رِ مجسم ﷺ کا روئے مبا رک جو جمال الہی کا آئنیہ اور انوار تجلی کا مظہر تھا ہر گو شت اور کسی قدر گو ل تھا آپ ﷺ کے روئے مبا رک کو دیکھتے ہی تو یہودی عالم عبداللہ بن سلام پکا رتا تھا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے انسان کا ہو ہی نہیں سکتا اور آپ ﷺ کے چہرہ مبا رک کے لا فانی حسن کو دیکھ کر ہی ایمان لے آتے حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تمام لوگوں سے زیا دہ خوبرو اور خوش خو تھے ۔ حضرت جابر بن سمرہ ؓ کا بیان ہے کہ نے شہنشاہِ دوعالم ﷺ کا چاندنی رات کو میں دیکھا آپ ﷺ سرخ دھا ری دار حلہ پہنے ہو ئے تھے میں کبھی چاند کو اور کبھی آپ ﷺ کو دیکھتا تو آخر یہ نتیجہ نکلاکہ بلا شبہ آپ ﷺ چاند سے زیا دہ خو بصورت ہیں ابن عا کرنے اما ں عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں سحر کے وقت سی رہی تھی مجھ سے سوئی گر پڑی میں نے بہت کو شش کی مگر سوئی نہ ملی تو اچانک آقا پا ک ﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ کے چہرہ انوار کے نور سے چاروں طرف روشنی پھیل گئی اور مجھے اُس روشنی میں سوئی نظر آگئی تو میں یہ ما جرا آقا کریم ﷺ کے گو ش گزار کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے حمیرا سختی و عذاب ہے ( تین مرتبہ فرمایا) اِس شخص کے لیے جو میرے چہرے کے طرف دیکھنے سے محروم کیا گیا ۔ حا فظ ابو نعیم نے بروایت عبا دبن عبدالصمدؓ بیان کیا ہے کہ اس نے کہا ہم حضرت انس بن مالک ؓ کے ہاں تشریف لا ئے آپؓ نے کنیز سے کہا کہ دستر خوان لا ؤ تا کہ ہم چاشت کا کھا نا کھائیں وہ لے آئیں آپؓ نے فرمایا رومال لا وہ میلا رومال لا ئی آپ ؓ نے فرمایا کہ تنو رگرم کر اس نے تنو رگرم کیا پھر آپؓ کے حکم سے رومال اس میں ڈال دیا گیا وہ ایسا سفید نکلاگو یا کہ دودھ ہے ہم نے حضرت انسؓ سے پو چھا کہ یہ کیا ہے انہوں نے فرمایا یہ وہ رومال ہے جس سے ہم رسول کریم ﷺ اپنے روئے مبارک کو مسح فرمایا کر تے تھے جب یہ میلا ہو جا تا ہے تو اِسے ہم یوں صاف کر لیتے ہیں کیونکہ آگ اِس شے پر اثر نہیں کر تی جو انبیاء ؑ کے روئے مبا رک پر سے گزری ہو ۔ آپ ﷺ بے شک لا زوال حسن کے مالک تھے آپ ﷺ کے جسم کے ہر اعضا ء سے نو ر کے چشمے پو ٹھتے تھے آپ ﷺ آنکھیں بڑی اور قدرت الہی سے سرمگیں اور پلکیں دراز تھیں آنکھوں کی سفیدی میں سرخ ڈورے تھے جب آپ ﷺ نے 25سال کی عمر میں حضرت خدیجہؓ کے کہنے پر ملک شام کا سفرکیا تھا اور حضرت خدیجہ ؓ کا غلام میسرہ آپ ﷺ کے ساتھ تھا جب آپ ﷺ کا قافلہ بصے میں پہنچا تو وہاں پر نسطوار راہب نے میسرہ سے حضور ﷺ کے متعلق سوال کیا کہ کیا اُن کی دونوں آنکھوں میں سرخی ہے تو میسرہ نے جواب دیا ہاں یہ سرخ ہے اور کبھی بھی ختم یا جدا نہیں ہو تی ابن عبا سؓ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ دوعالم ﷺ اندھیری رات میں روشن دن کی طرح دیکھتے تھے حدیث شریف میں بھی آیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے تمہا را رکوع اور خشوع پو شیدہ نہیں ہے میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھتا ہوں امام مجاہد ؒ نے تفسیر میں بیان کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نماز میں پچھلی صفوں کو یو ں دیکھتے تھے جیسا کہ اپنے سامنے والوں کو اِسطرح آپ ﷺ فرشتوں اور شیاطین کو واضح طو رپر دیکھ لیا کر تے تھے ۔شبِ معراج صبح کو قریش مکہ کے سامنے بیت المقدس کا حال اسطرح بتا یا جیسے سب کچھ آپ ﷺ کی نظروں کے سامنے حضرت جعفر طیا رؓ کو شہا دت کے بعد جنت میں ملا ئکہ قدسی کے ساتھ اڑتے ہو ئے دیکھنا زمین کے مشرق و مغرب کو آسانی سے دیکھ لیتے تھے غزوہ خندق کھو دتے وقت جب ایک سخت پتھر حا ئل ہو گیا تو رسول اکرم ﷺ نے تین طاقت ور ضربوؓ سے اُس پتھر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے آپ ﷺ نے پہلی ضرب پر فرمایا کہ میں یہاں سے شام کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں دوسری ضرب پر فرمایا کہ میں یہاں سے کسرٰی کا سفید محل دیکھ رہا ہوں تیسری ضرب پر فرمایا میں اِس وقت یہا ں سے ابواب صنعا کو دیکھ رہا ہو اور اِسی طرح غزوہ مو تہ میں حضرت زید بن حا رثؓ و جعفر بن ابی طالب ؓ و عبداللہ بن رواحہ ؓ جب یکے بعد دیگرے شجا عت و بہا دری سے لڑتے ہو ئے شہید ہو رہے تھے تو مالک دو جہاں ﷺ مدینہ منورہ میں اُن کی شہا دت کو اِس طرح بیان فرما رہے تھے جس طرح اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہوں درج بالا تمام واقعات و امور اِس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سر تاج الانبیا محبوب خدا ﷺ کی بے پنا ہ قوت بینا ئی تھی جس کی بنا پر آپ ﷺ کر ہ ارض کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک اور قیا مت تک ہو نے والے تمام واقعات کو دیکھ لیتے تھے آپ ﷺ کن فیکون کے مقام پر تھے جو لفظ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکل گیا وہ ہو گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *