پابندی ہیلمٹ ضروری ہے


حفیظ خٹک


شہر قائد میں موٹر سائکل سواروں کیلئے ہیلمٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس سے متعلق قانون پر عملدرآمد کیلئے مہم جاری ہے۔ ٹریفک سمیت سندھ پولیس اہلکار سبھی اس مہم کے دوران ان موٹر سائکل سواروں کا چالان کرنے میں سرگرم عمل ہیں جو کہ بغیر ہیلمٹ کے سڑکوں پر محو سفر ہوں۔ محکمہ ٹریفک کی جانب سے حالیہ مہم کے آغاز پر ٹریفک اہلکاروں اور موٹر سائیکل سواروں کی رائے جاننے کیلئے تفصیلی سروے کیا گیا۔ جس کے دوران درجنوں شہریوں سمیت محکمے کے اہلکاروں سے ملاقاتیں اور ان سے اس موضوع پر گفتگو کی گئی جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔
شہر قائد میں اکبر روڈ موٹر سائیکلوں کی لین دین کے حوالے سے ایک بڑی اور مستند مارکیٹ تصور کی جاتی ہے ۔نئی اور پرانی موٹر سائکلوں کی خرید و فروخت کے ساتھ ہیلمٹ اور دیگر اسی مناسبت سے اشیاء کا کاروبا ریہاں عروج پر رہتا ہے۔ اس مارکیٹ میں ہیلمٹ کا کاروبار کرنے والے متعدد دکانوں کا دورہ کیا گیا ان ہی میں سے ایک دکاندار معراج کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت کی جانب سے اس طرح کی کوئی مہم آتی ہے تو اس دوران ہیلمٹ کی قیمتیں دکاندار برقرار رکھتے ہیں تاہم ایسے دکاندارون کی تعداد بھی موجود ہے جو اس دوران قیمتیں بڑھا دیتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کاروبار سے برسوں سے وابستہ ہیں اور ان کی جانب سے کبھی ایسا نہیں کیا گیا کہ کسی مہم کے دوران زیادہ منافع کیلئے قیمتیں بھی بڑھا دی گئیں اور معیار بھی کم کیا گیا۔ اس مہم کے آغازکے بعد ان دنوں ہیلمٹ کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ ایک اور دکاندار آفتاب عالم صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تین سو سے تین ہزار روپے تک ہیلمٹ موجود ہیں ۔ان دنوں خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ان میں اکثریت سستے ہیلمٹ کا تقاضہ کرتے ہیں ۔ مصروف شاہراہ پر سڑک کے کنارے ہیلمٹ کا اسٹال لگائے عاطف محمود نے کہا کہ ان دنوں ان کا کاروبار عروج پر ہے ۔ عام شہریوں سمیت سرکاری و نیم سرکاری ملازمین جن کے پاس ہیلمٹ نہیں ہیں وہ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم سے ہیلمٹ خریدتے ہیں ۔
ہیلمٹ کی درستگی کا شعبہ اختیار کئے ہوئے راشد منہاس روڈ پر موجود نیاز کا کہنا تھا کہ ان دنوں ان کا کاروبار بھی نمایاں ہیں ۔ شہری موجود ہیلمٹ بھی اونے پونے خریدتے ہیں اس کے ساتھ ہی گھروں میں رکھے پرانے ہیلمٹ بھی مرمت کیلئے ہمارے پاس لے کر آتے ہیں ،ان کی خرابی دور کرکے ہیلمٹ اپنے سر پر رکھتے ہیں اور اپنا سفر اطمینان کے ساتھ شروع کردیتے ہیں ۔ اسی نوعیت کا کام کرنے والے عابد نے کہا کہ موٹر سائیکل پر خواتین کیلئے ہیلمٹ کی پابندی لگتا ہے پہلی بار عائد کی گئی ہے ان کے ساتھ بچوں پر بھی یہ پابندی عائد کی گئی ۔جس کے بعد اسٹال پر آنے والے بچوں اور خواتین کیلئے ہیلمٹ کا پوچھتے ہیں جس پر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ یاد رہے کہ یہ پاکستان ہے کوئی یورپ کا ملک نہیں کہ جہاں مردوں اور خواتین کے تمام حقوق یکساں ہوتے ہیں اور اس مد میں خواتین بھی وہی ہیلمٹ استعمال کرتی ہیں جو کہ مرید استعمال کرتے ہیں ۔
بچوں خصوصا خواتین پر ہیلمٹ کی پابندی کے خلاف خود ٹریفک اہلکار ہیں اور اس حوالے سے وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں ۔ موٹر سائیکل سوار متین کا کہنا تھا کہ اس مہم کے آغاز کے بعد انہوں نے اپنے گھر میں برسوں سے رکھے ہیلمٹ کو استعمال کرنا شروع کیا ۔اس کے استعمال کے بعد صحت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ ہیلمٹ کے حوالے سے مہم کو انہوں نے مثبت اقدام قرار دیا ۔ عبدالسمیع کا کہنا تھا کہ ہیلمٹ کے استعمال سے سڑکوں پر موجود گرد و غبار سے اور دھوپ سے بچت ہوجاتی ہے ۔ہیلمٹ استعمال کرنے کا فائدہ مسافر کو ہی ہوتا ہے ۔ نجف کا کہنا تھا کہ سڑک پر کوئی حادثہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں سر زمین پر لگتا ہے تو سر پر ہیلمٹ کی موجودگی کے باعث سر کسی بھی طرح کی چوٹ سے بچ جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویسے بھی انسانی جسم جس طرح سے بھی زمین گرتا ہے یا لگتا ہے یا کسی بھی صورت میں کوئی سر سمیت پورا جسم زمین سے لگتا ہے تو اس کے نتیجے میں سر کی چوٹ پورے جسم کی چوٹ سے یکسر مختلف ہوتی ہے ۔
بوائز کالج کے سامنے ون ویلنگ کرنے والے طالبعلم شہباز کا کہنا تھا کہ ون ویلنگ کرنا خلاف قانون ہے اس کے ساتھ ہیلمٹ کا نہ ہونا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ قانون پر عملدرآمد کیلئے حالیہ مہم میں تیزی کے ساتھ ہیلمٹ کا اضافہ ہواہے اور خلاف ورزی پر چالان شروع کئے گئے ہیں ، ٹریفک اہلکاروں کو اس مہم کے انداز کو عام ایام میں جاری رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے ۔
مسجد کے پیش امام عبدالغفار کا کہنا تھا کہ ہر انسان کو اپنی حفاظت کا احساس ہونا چاہئے ، اس احساس کو اجاگر کرنے کیلئے محکمہ ٹریفک ہیلمٹ مہم کے ذریعے فہم کو عام کرتی ہے تو یہ ایک مثبت اقدام ہے ۔ ہیلمٹ ہر موٹر سائیکل سوار کیلئے بنیادی ضرورت ہے ، چاہے وہ اک مسجد کا پیش امام ہے یا نمازی، مدرسے کا طالبعلم ہے یا کسی کالج کا و اسکول اور یونیورسٹی کا ، غرض ہر موٹر سائیکل مسافر جوان و بزرگ کو ہیلمٹ سے متعلق قانون پر عملدرآمد کرنا چاہئے ۔ مفتی رفیق کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مردکیلئے تو یہ قانون اچھا ہے لیکن عورت اور بچوں کیلئے اس طرح کا قانون کوئی قانون نہیں بلکہ یہ نقطہ خلاف قانون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہے اور ایک اسلامی ملک میں عورت کو برقعہ لازمی اوڑھنا چاہئے اب یہ بات تو ناممکن ہے کہ ایک عورت نے پردہ بھی کر رکھا ہو اور اس کے ساتھ اس نے سر پر ایک عدد ہیلمٹ بھی رکھا ہو۔ لہذا میں اس حوالے سے آپ کے توسط سے متعلقہ اہکاروں اور ان کے ذمہ داروں سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر سوچیں اور کوئی مناسب قدم اٹھائیں ۔
شعبہ تعلیم سے وابستہ خاتون پروفیسر صدف کا اس مہم کے حوالے سے کہنا تھا کہ خواتین کیلئے ہیلمٹ کی خبر پہلی بار سننے کو ملی جس پر حیرت ہوئی ، یہ کراچی ہے جو کہ وطن عزیز کا سب سے بڑا شہر تو ہے ہی اس دنیا کے بھی بڑے شہروں میں اس کا شمارہوتا ہے یہاں کی آبادی دو کڑور سے زائد ہوچکی ہے ٹریفک جام اب یہاں کا اک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر قائد میں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا ایک خواب ہے جبکہ لاہور میں سمیت دیگر کئی شہروں میں خواتین کے موٹر سائیکل چلانے کی خبریں سامنے آئیں ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے ڈی آئی جی کو صرف اس ایک ہیلمٹ کی مہم پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ اس کے ساتھ ٹریفک کے دیگر قوانین پر عملدرآمد کو بھی اہمیت دیتے ہوئے ان پر عملدرآمد کو اپنا معمول بنانا چاہئے، وہ اگر اس طرح کا قدم اٹھائیں گے تو اس کا سب سے بڑا مثبت اثر یہی ہوگا کہ شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ ختم ہوجائیگا۔
رہا ہیلمٹ رکھنے کا معاملہ تو یہ ازحد ضروری ہے ہیلمٹ سر پر ہوگا تو موٹر سائیکل سوار ہی کا فائدہ ہوگا اب اگر کوئی اپنے سر کو ہیلمٹ کے بغیر رکھتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اسے اپنی کوئی فھر نہیں۔
ان کے ساتھ موجود پروفیسر صائمہ نے مزید کہا کہ موٹر سائیکل سوار اگر ہیلمٹ کے بغیر ہے تو اس کا جرمانہ چالان کی صورت میں 150روپے کے بجائے1500روپے ہونا چاہئے۔ ایک بار جرمانہ دینا پڑے گا تو وہ آئندہ اپنی جیب کے ساتھ اپنے سر اور جسم کا بہتر انداز میں خیال رکھے گا۔
ٹریفک اہلکار بختیار نے کہا کہ جب سے یہ مہم شروع ہوئی ہے ہمیں تاکید کی گئی ہے کہ بغیر ہیلمٹ سواروں کے زیادہ سے زیادہ چلان کریں ۔اس حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے اب ہمارے روزمرہ کے چالانوں میں ہیلمٹ سے متعلق چالان کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ ٹریفک سارجنٹ راشد کا کہنا تھا کہ ہیلمٹ کی عدم دستیابی کے بعد ہم لوگ قانون نمبر 24پر عملدرآمد کرتے ہوئے چالان کرتے ہیں جس کی قیمت 150روپے ہوتے ہیں ۔ اب یہ رقم تو بہت کم ہے لیکن موٹر سائکل سوار اس رقم کی ادائیگی سے بچنے کیلئے تگ و دو کرتے ہیں جبکہ ہیلمٹ کا استعمال ان کے اپنے فائدے کیلئے ہی ہوتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ موٹر سائکل خرینے والوں کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ وہ ایک موٹر سائیکل ہزاروں روپے کی خریدتے ہیں اب اگر چند سو روپے کا ہیلمٹ بھی اس کے ساتھ خرید لیں تو اس میں ان کا کیا نقصان ہے ۔ ٹریفک ہی کے ایک اور افسر لقمان نے کہا کہ مہم کے بعد ہیلمٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے ، اب ہمیں 80فیصد سوار ہیلمٹ استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ جہاں تک باقی ماندہ کا تعلق ہے تو ان کا معاملہ ہی قدرے مختلف ہے کوئی اپنے آپ کو سرکاری ملازم بتاتا ہے ، تو کوئی نیم سرکاری ملازم ، کوئی پریس و میڈیا کا ذکر کرتا ہے تو کوئی بزرگ ہے اور کوئی بیماری کا بہانہ کردیتا ہے ۔ اس بات کا مقصد یہ ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد قانون کے رکھوالے ہی مشکل بناتے ہیں جس کے منفی اثرات سب کے سامنے ہیں ۔ انہی کے ساتھ کھڑے باقر نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ہونا چاہئے ، چاہے یہ قانون ٹریفک اہلکاروں کیلئے ہو یا پولیس کے، سرکاری ملازم یا کوئی بھی اور ، قانون ، قانون ہے اور یہ قانون سب کیلئے یکساں اور اس پر عملدرآمد سب ہی کیلئے یکساں ہونا چاہئے ۔
سینئر اور ممتاز صحافی نے اپنا نام نہ بتانے کی درخواست کے ساتھ کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کے لوگ اس قانون سمیت متعدد قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو کہ قابل مذمت ہے ۔ قانون پر عملدرآمد ایک فردکا کام نہیں ،پوری قوم کا کام ہے اور اس طرح سے ہی اس کے نتائج مثبت صورت میں سامنے آسکتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں دیکھیں قوانین پر کس طرح سے عمل کیا جاتا ہے ، سنسان راتوں پر بھی ٹریفک سگنلز کی پابندی کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے وہ قومیں ترقی کرتی جارہی ہیں لہذا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں پاکستان کو آگے لے جانا ہے ، ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے تو اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ اس ایک ہیلمٹ والے چھوٹے سے قانون سے لے کر ملک میں موجود قوانین پر پورا عمل کریں ، اپنے لئے اپنی قوم کیلئے اور اپنے ملک کے تابناک مستقبل کیلئے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *