کشمیر میں انسانیت کا قتل


تحریر! جمشید علی


کشمیرجیسے دنیا مین جنت کا نام دیا جاتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی خوبصورتی ،دلکش وادیاں ، دلفریب منظراور چشم نم کو اپنی خوبصورتی سے معطر کرنے کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔مگر آج یہا ں موت کا راج ہے ۔غم کے سائیوں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ ہرطرف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔فضائیں چیخ وپکار سے گونج رہی ہے۔ماؤں کی گود ا س کے سامنے اجھاڑی جا رہی ہے۔ مگر افسوس کوئی پرسان حال نہیں جو مدد کو آئے۔
میں حیران ہوں آج انٹرنیشنل سوسائٹی خاموش ہے۔ ہومین رائٹس کی بات کرنے والے کہاں ہیں۔اقوام متحدہ کیا کر رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جارحیت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ایک چھوٹے سے معصوم بچے کو قتل کر دیا گیا۔شاید اسے ابھی پتہ ہی نہیں تھا کہ زندگی کیا ہے۔ یہ قتل بھارت کی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مگر اس کے باوجود کوئی رد عمل نہیں آیابس وہی مذمتی بیان اور معاملہ ختم۔
میر ے خیال سے ایک انسان دوسرے انسان کے ہاتھوں مرتا دیکھے اور اس میں انسانیت نہ جاگے تو وہ انسان کہلانے کے قابل نہیں۔کیونکہ جانور، جانور کو مارتا ہے اور اپنی بھوک مٹاتاہے اور اگر یہی کام انسان کرے تو پھر جانور اور انسان میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا سوائے شکل کے۔
پاکستان کا آئین کی دفعات ۲۵۷ کہتی ہے کہ جب ریاست جمعوں اور کشمیر کی عوام پاکستان کے ساتھالحاق کا فیصلہ کرلیں گے تو پھرپاکستان اور ریاست کے مابین تعلقات کا فیصلہ کشمیریاں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔ آزادی حق ہر کسی کا حق ہے تو پھر یہ حق کشمیر کی عوام کو کیوں حاصل نہیں۔ان کو بھی پرامن طریقے سے زندگی کیوں گزرانے نہیں دی جاری ۔جس طرح پوری دنیا کے لوگوں کو حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی اجازت ہے تو پھر کشمیری عوام کو کیوں نہیں۔
ہر سال ۵ فروری کا دن آتاہے اور ہم بڑے جذبے سے کشمیر ڈے مناتے ہیں۔ چھوٹے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ سکول اور کالج میں چھٹی ہوتی ہے۔سیاستدان ٹی وی اور جلوسوں میں بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں جو کہ صرف تقریرکی حد تک ہی رہتی ہیں۔ پھر رات گئی اور بات ختم یہ ہے ہمارا کشمیر ڈے۔ بھائی تو رہنے دیں ایسے کشمیر ڈے کو ان کو نہیں چاہیے اس طرح کی اظہاریکجہتی۔
ہمیں کشمیرڈے والے دن دنیا کو بتانا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر لارڈماے ؤنٹ بیٹن اور انڈین نیشنل کانگرس اور نہرو کی ملی بھگت کے نتیجے میں پیدا ہوا۔کیونکہ کہ جب ریاست جونا گڑھ کے نواب نے پاکستان کے الحاق کا فیصلہ کیا تو نہرو اور لارڈماؤنٹ بیٹن نے یہ فیصلہ مسترد کر دیا اور کہا کہ اس علاقے میں ہنددؤں کی زیادہ اکثریت ہے اس لیے یہ بھارت میں شامل ہو گا۔اس طرح ریاست جموں کشمیر میں مسلمانوں کی زیادہ اکثریت تھی اور مسلمان پاکستان سے الحاق کر چکے تھے مگر مسلم لیگ کا موقف نہ سنا گیا اور مسلہ کشمیر پیدا ہو گیا جو آج تک نہیں حل ہوا۔
مگر آج کشمیری عوام جاگ چکی ہے اور وہ آزادی چاہتی ہے مگر اس کو یہ حق نہیں دیا جا رہا۔ بھارت اپنی جارحیت سے کشمیریوں کی آواز کو دبا رہاہے جس کا منہ بولتا ثبو ت سوشل میڈیا پر تصویریں اور وڈیوز ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی ٹی وی چینل اور کسی بھی رپورٹر کو نہیں جانے دیا جا رہا مگر اسے کے باوجود کشمیری عوام اپنی آواز دنیا کو پہنچ رہی ہے کہ شاید کوئی اس آواز کو سن لے۔ آج عالمی برادری کو جاگنا ہو گا اور بھارت کی اس جارحیت کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے ہوں گے ورنہ وہ وقت دور نہیں جبہرطرف یہی جارحیت کشیدگی اختیار کر جائیں گی اور کوئی اسے ختم نہیں کر سکے گا۔ امن کی زندگی ہر کسی کا حق ہے اور یہ حق کشمیر کی عوام کا بھی حاصل ہونا چاہیے ۔ امن کے بغیر زندگی کیسی لگتی ہے میر ے خیال سے اسے یورپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
اس لیے آج اقوام متحدہ کے اداروں اور ہومین رائیٹس کی ٹیموں کویہ جارحیت دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوگاکہ وہ کسی کا ساتھ دیتے ہیں انسانیت کا یہ درندگی سے بھرے انسان کاجیسے شاید انسانیت کا پتہ بھی نہیں کہ وہ کیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *