بھارتی دھمکی اورقومی مفاہمت کی ضرورت


میر افسرامان

کنوینر کالمسٹ کونسل آف پاکستان


بھارت کی فوج نے حکومت کو کہا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے کی اجازت دی جائے۔ بھارت کے سابق فوجیوں نے بھی پاکستان پر حملہ کرنے کی بات کی ہے۔ خود بھارت کے سیاسی لیڈر بھی آئے روز بھارتی حکومت کو کہتے رہتے ہیں کہ پاکستان پر حملہ کر کے اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہیے جیسے مشرقی پاکستان کو بھارتی فوجوں نے حملہ کر کے مغربی پاکستان سے علیحدہ کیا تھا ۔پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے شروع دن سے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ اسے توڑ کر واپس بھارت میں شامل کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے ۔اکھنڈ بھارت کے خواب میں مبتلا بھارت اب جنونی ہو گیا ہے ۔ اس میں صلیبی انگریز کی حکومت بھی شامل ہے جس نے ایک سازش کے تحت بھارت کو کشمیر جانے کے لیے گرداس پور کا علاقہ زمینی راستہ مہیا کیا تھا جو مسلم اکثریتی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا حصہ تھا۔ اب غدار پاکستان لندن میں بیٹھ ر کر پاکستان توڑنے کے لیے بھارت، اسرائیل ایران اور دوسرے ملکوں سے مداخلت کا کہہ رہا ہے۔ پہلے بھارت کے خفیہ ایجنسی کے چیف نے الطاف حسین کو ایم آئی سیکس کا مہمان قرار دیا تھا اور اب کل ہی لندن کے ایک صحافی نے الطاف حسین کو برطانیہ اور امریکا کاا ثاثہ قرار دیا ہے۔ صاحبو! بانی پاکستا ن قائد اعظم ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کیا کوئی جسم شہ رگ کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں! قائد اعظم ؒ کو معلوم تھا کہ سارے دریا کشمیر سے پاکستان ک طرف بہتے ہیں۔ ان کا پانی پاکستان کی زندگی ہے۔ آج بھارت نے پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاستدانوں کی وجہ سے ایک ایک کر کے کشمیر کے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنا کر پاکستان کے پانیوں کو روک دیا ہے۔ یہی پانی بھارت کے مختلف علاقوں میں پہنچانے کے لیے انتظامات کر لیے ہیں۔کشمیر جسے ہر حالت میں پاکستان میں شامل ہونا تھا بھارت نے اپنے آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے غلام بنایا ہوا ہے۔کشمیریوں نے برہان وانی شہید کی
شہادت کے بعد ایک نئے سرے سے آزادی کی تحریک بر پا کی ہوئی ہے ۱۰۷ ؍سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں ۱۰۰؍ سے زائد کو بلیٹ گن(چھروں والی گن) کے استعمال ذریعے بینائی سے محروم کر دیا گیا ہے ۱۰؍ ہزار زائدزخمی ہو چکے ہیں۔ دو ماہ سے کرفیو لگا ہوا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم کو کشمیر جانے سے روک دیا ہے۔ اب تو وکی لیکس نے بھی بھارت کے مظالم کی تفصیل جاری کر دی ہے۔ دہشت گرد مودی نے پہلے کہا کہ کشمیر کو بھول جاؤ کراچی کی فکر کرو۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقہ پربلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مداخلت کی باتیں کی ہیں۔ جس کا ثبوت بلوچستان میں نیوی کے حاضر سروس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور کراچی میں آئے دن پکڑے جانے والے متحدہ قومی موومنٹ، را کے مقامی ایجنٹ، جو را سے ٹرنینگ کا اعتراف کرتے ہیں۔ لندن میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے را سے فنڈ لینے کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ نواز شریف صاحب نے کشمیر کے مسئلہ پر پہلے بھی اور اب بھی سیکورٹی کونسل کے مستقل پانچ ممبروں کو بھارت کے پاکستان میں مداخلت کے ثبوتوں کے ساتھ خط لکھے ہیں۔ برطانیہ، جاپان اور ترکی کے وزیر اعظم صاحبان کو بھی ثبوت پیش ہیں ۔ان میں امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری کو بھی ثبوت پیش کیے ہیں۔ جنہوں نے بھارت سے بات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر پر بھارتی ظالم کے بارے میں زور دار تقریر بھی کریں گے۔ بھارت نے حسب عادت ایک تازہ سازش کی ہے۔خود اوڑی سیکٹر میں اپنی ایک فوجی چوکی پر حملہ کرا کے جس میں بیس فوجی ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔تاکہ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں کشمیر کے مسئلہ کو پاکستان کی دہشت گردی سے جوڑ کر دبا دیا دے۔۹؍۱۱ کے بعد صلیبیوں نے صلیبی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اسلام کو پوری دنیا میں دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ گریٹ گیم کے تحت ایٹمی پاکستان کو نشانہ بنا یا ہوا ہے۔ امریکا، بھارت اسرائیل کے اتحادِ خبیثہ کی وجہ سے مقامی ایجنٹوں کو ملا کرپاکستان میں دہشت گردی کے اتنے واقعات کرائے گئے ہیں کہ کوئی اور ملک ہوتا تو کبھی کا ختم ہو گیا ہوتا۔ کیا پاکستانی فوج کے ہیڈ کواٹر، ایر فورس،نیوی،انٹیلی ایجنسیوں، پولیس، سیکورٹی اداروں، حتہ کہ پاکستان کے بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں، چرچوں، بزرگوں کے مزاروں، اسکولوں اور عدلیہ کے وکیلوں، کون سی جگہ چھوڑی گئی ہے جس پر حملہ نہ کیا گیا ہو۔ ان حالات میں ہماری بہادر فوج نے ضر ب عضب شروع کیا ہوا ہے۔ جس کے ذریعے چن چن کر ایک ایک مقامی ایجنٹوں کو کیف کردار تک پہنچایا جا رہا ہے۔ کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے ذریعے را کے مقامی ایجنٹوں، بھتہ خوری، ٹھپہ اور لینڈ مافیا ،بوری بند لاشوں اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے والوں کوقانون کے حواے کیا جارہا ہے۔ رینجرز نے کاروائی کر کے ان کے غیرقانونی دفتروں جن میں بیٹھ کرپاکستان کے خلاف سوچ بچار کرتے تھے مسمار کیا جا رہا ہے۔ رینجرز نے کراچی کی رونقیں بحال کردی گئی۔ فوجی ذرائع کے مطابق ضرب عضب سے دہشت گرووں کا نوے فی صد خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کی اس لہر میں دنیا کے سب قوموں سے زیادہ نقصان برداشت کیا ہے۔ پوری دنیا نے ان اقدام کی تعریف کی ہے۔ مگربھارت نے حسب عادت ان علاقوں کے لوگوں کو اُکسانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ مقامی قوم پرستوں کے بیانات سے بھارت کی مدد ہو رہی ہے۔ کبھی کوئی قوم پرست فوج کی یجنسیوں کے خلاف بیان دیتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ خیبرپختونخواہ افغانستان کا حصہ تھا۔،کبھی کہتا ہے میں افغانی تھا ہوں اور رہوں گا ۔ دوسرا قوم پرست کہتا ہے میں بھی افغانی تھا ہوں اور رہوں گا یہ بے وقت کی راگنی کیوں شروع کی گئی ہے؟ قائد اعظم نے ایک کے برزگ بلوچی گاندھی اور دوسرے کے سرحدی گاندھی کو تحریک پاکستان کے دروران شکست دی تھی۔ضرورت تو اس امر کی تھی کہ یہ لوگ پاکستان کے گیت گاتے۔یہ لوگ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کا کھا رہے ہیں اور گیت کہیں اور کے گاتے ہیں۔اس طرح یہ دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں جس پر فوج کے سپہ سالار نے بھی سیاسی حکومت کو خبردار کیا تھا۔ بین ا لاقوامی اور اور پاکستان کے اندرونی حالت سے فاہدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت پاکستان پر حملے کی سوچ رہا ہے۔ اشہد ضرورت ہے کہ اس وقت پاکستان کے محب وطن سیاستدانوں کو اپنی اپنی حکومت خلاف تحریکوں کو وقتی طور پر روک کر ایک نکتے یعنی پاکستان بچانے کے نکتے پر جمع ہو جانا چاہیے۔ جیسے پشاور آرمی پبلک اسکول کے واقعہ پر سب قوم اکٹھی ہو گئی تھی۔پاکستان ہے تو ہمارے آپس کے اختلافات ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سینیٹ کامشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ ٹی ای او آر کے لیے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنا کر وقتی طور اُس کے حوالے کر دیا جائے۔ آ ل پارٹی یعنی تمام سیاسی مذہبی پارٹیوں اور فوج کے نمائندوں کا اجلاس منعقد کیا جائے۔ اس میں بیٹھ کر بھارت کے اعلان جنگ کے توڑ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ بھارتی دھمکی اورقومی مفاہمت کی ضرورت جتنی آج ہے کبھی نہیں تھی۔ اللہ پاکستان کی حافظت فرمائے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *