بھارت کے ساتھ معا ملہ ،بات پر یزنٹیشن پر مکے گی 


( لا حا صل )
ضیغم سہیل وارثی


بات سمجھ کی اب ، معاملہ ایسا کہ جو با قی اقوام کے سامنے اپنے مسا ئل کو بہتر اور حقائق کے ساتھ اجاگر کر سکے گا پلہ اسی کا بھا ری رہے گا ،اس کے لیے ثبو ت پر زیا دہ فو کس کیا جاتا ، کیا ایسی پلا ننگی تو نہیں ، اگر ہے تو ہم کی تیا ری کیا ۔
پا ک بھا رت تعلقات کب کس مو ڑ پر آ جا ئیں اس کا انداز ہ کیے رکھنا چا ہیے ، اور کیا شکل اختیار کر جا ئیں اس طر ٖف ریا ستی لیو ل کی تیا ری مکمل ہو نی چا ہیے ،ہما ری ہے بھی ، شا ہد اسی لیے اب تک بھا رت اس پر یشا نی میں مبتلا ہے کہ وہ جو بھی کو ئی حر بہ استعمال کر کہ پا کستا ن کے خلا ف گر فت مضبو ط کر نا چا ہتا تب حا لا ت اس کے لیے نا ساز گار اس کے لیے نہیں بنتے ، یہاں اس کے حر بے استعمال کر نے والوں کی خامیاں یا پھر ہما ری طر ف سے بہتر پلا ننگی یا بہتر انداز سے دفا ع ہو سکتا ، یا پھر اصل حقیقت ہی ہما را سا تھ دے رہی ہو تی ہے ۔ بھا رت کی طر ف سے جب بھی پا کستان کے خلا ف کہا گیا تو ان کی انتہا ء یہاں پر ہی ہو تی ہے کہ کسی طر ح پا کستان کو با قی دنیا سے الگ کیا جا ئے اور اس پر اس لیو ل کی پا بند یا ں عا ئد کی جا ئیں کہ پھر ہم جیسا مر ض سلوک کر یں ان کے پا س کو ئی تو ڑ نہ ہو ، اس کے بر عکس پا کستان کی جانب سے کیا تر کیب اپنا ئی جا تی ہے کہ ہما رے ملک میں امن امان قا ئم رہے ہم کسی دوسرے کو تنگ نہیں کر یں گے اور جو ہما رے ہاں خرا بی پیدا کر ئے گا تو اس کا ہم ڈٹ کر مقا بلہ کر یں اور پھر یہ نہیں دیکھا جا ئے گا کہ اس میں کتنا نقصان اور جہاں تک بات کہ با قی دنیا کتنا ساتھ دیتی تو ہمیشہ جیت سچ کی ہو تی گو کہ ڈرامہ با زی کر کہ سچ کو چھپا یا جا سکتا ہے ، اور ایسا ایک بار نہیں ، بہت بار ایسے کیا گیا ہے ، اقوام متحد ہ میں اجلا س کا ٹا ئم ، اس سے پہلے بھا رت کی طر ف سے یہ اشا رہ دیا گیا کہ بلو چستان والے اپنے وفا ق سے خو ش نہیں اور آ زادی چا ہتے ہیں ، ایسا کیوں بیا ن دیا گیا ، و جوہا ت بہت سی ہیں ، ایک ، پا کستا ن کے جن علا قوں میں دہشت گردی بہت زیا دہ تھی اور وہ علا قے ریا ستی رٹ کو چیلنج کر نے پر تل رہے تھے وہاں پر حکومت اور فو ج نے مل کر مکمل پلا ننگ کے ساتھ ان علا قوں میں دہشت گرد گر وہوں کا صفا یا کیا اور وہاں امن کی فضا ء قا ئم ہو نا شر وع ہو ئی ، اب یہ بات ہما رے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی ، دوسری وجہ ، کر اچی میں جہاں آ ئے دن سننے کو ملتا تھا کہ آج اتنی جا نوں کا نقصان ہو گیا ہے اب وہاں سے رپو رٹ آ تی ہے کہ بز نس پو ائنٹ دوبا رہ اپنی کا رکر دگی دیکھا رہا ہے ، با قی معا ملا ت میں کر اچی کے شہری سکھ کا سا نس لینے لگے ہیں۔جو اپنی ایجنسیوں کے ذریعے تمام گڑ بڑ کروا رہے تھے وہ اس نا کامی کے بعد خا مو ش تو رہینے والے نہیں تھے لحا ظہ انہوں نے ایک نئے علا قے کی طر ف رخ کو موڑنے لگے ، وہاں تھو ڑی بہت جو غلط فہمیاں ہیں ان کو جو از بنا کر ، یا کیش کر نے کی کو شش ہو ئی ، اس کے جو اب میں بلو چی عوام نے کھل کر اظہا ر کیا کہ بھا رت اس خوش فہمی سے نکل آ ئے ، ان وجو ہا ت سے انکا ر کر نہیں سکتے ، دنیا کی میڈ یا کشمیر میں ہو نے والے ظلم کو با قی دنیا کو دیکھا نے میں مصر وف نہ ہو جا ئیں ، ان کی تو جہ ہٹا نا بھی ایک اہم وجہ ، کشمیر میں جب بھا رت اپنا قبضہ زبر دست مضبو ط کرنا چا ہتا تو وہ سا تھ پلا ننگ ایسی کر تا کہ میڈ یا ان ظلم کی داستان کو چھوڑ کر دنیا کے اہم مسلے دہشت گر دی کی طرف مر کوز کروا ئے ، اب مو جوہ معا ملہ بھی بلکل ایسا ہی ہے ، کچھ ہفتے پہلے بھا رت نے کشمیر میں کشمیروں کی مر ضی کو دبا نے کے لیے فو ج کے ذریعے اپنا دبا ؤ بڑ ھنا چا ہ تو وہاں سے ری ایکشن ایسا دیکھا گیا کہ بھا رت اس پر یشا نی میں مبتلا ہو گیا کہ وہ اپنے عز ائم سے پیچھے بھی نہیں ہٹ سکتا اور کہیں دنیا ہما رے کیے گے ظلم پر سنجید گی کے ساتھ مظا ہر ے پر نہ اتر آ ئے ، ان تما م معا ملا ت کو کنٹر ول میں رکھنے کے لیے ، اور پا کستان کو اقوام متحد ہ میں بد نام کرنے کے لیے دہشت گردی کا سہا را لیا ، اقوام متحد ہ کے اجلا س سے کچھ دن پہلے اور پا کستان کی جانب سے جب یہ اظہا ر کیا گیا کہ ہم اقوام متحد ہ میں کشمیر کے ایشو پر سنجید گی کے سا تھ معا ملے کو دیکھنے پر زور ڈالے گا ، اڑی کیس کو بنا یا گیا ، اڑی میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اور اس بات پر زور دیا جا نے لگا کہ یہ حملہ پا کستا ن کی جا نب سے کیا گیا اور دہشت گرد پا کستا نی سر زمین کراس کر اڑی کے علا قے تک پہنچے ہیں ، بھا رت کے ٹی وی پر وگراموں میں تبصر ہ کر نے والے اپنی حکومت کی اس طر ف تو جہ دلا تے رہے کہ پا کستان کو با قی دنیا سے الگ کر نے کے لیے مکمل پلا ننگ کی جا ئے اور اڑی حملے کے وا قعے کے بعد موقع ہا تھ سے نا جا نے دیا جا ئے ، جس دنیا سے الگ کر نے کی با تیں کی جا رہی ہیں وہ بھی جا نتے ہیں کہ پا کستان دہشت گردی کی زرد میں ہے اوت کتنا نقصان بر داشت کر چکا ہے ۔اگر کسی ملک میں کو ئی کا روائی ہو تی ہے تو وہاں کہ شہر یوں کی جا نب سے ردعمل بھی ہو سکتا ہے ، اور اس پو ائنٹ پر زیا دہ فو کس کیا جا تا ہے ، ردعمل ہو نا تھا کیو نکہ ایک ما ہ سے زیا دہ کا عر صہ ہو نے کو ہے آ ئے دن مقبو ضہ کشمیر میں بے قصو ر شہر یوں کو مارا جا رہا ہے ، جا نے اس طر ح لی جا رہی ہیں جیسے ان اموا ت کے بعد بھارت کوئی ایو اڈ لینے میں کا میا ب ہو جا ئے گا ۔

اڑی کے وا قعے کے بعد پا کستا نی حکو مت کی جا نب سے کیا رویہ اپنا یا گیا ، اور ہو نا بھی ایسے چا ہیے تھا کہ بھا رت میں کچھ بھی ہو گا اس کی ذمہ داری پا کستان پر ڈال دی جا ئے گی تو ہم ایسا نہیں ہو نے دیں گے ، اور جس طر ح کے ساتھ بھا رت ریا ست رویہ اپنا ئے گا ہما رے جو اب بھی اس بڑ ھ کر ہو گا ،بھارت جس طر ح پو ری دنیا میں اپنا امیج بنا نا چا ہتا ہے یا بنا رہا ہے مظلوم ثا بت کر کہ تو ہما ری طر ف سے بھی اس انداز کی پا ننگ کی جا ئے کے بات حقا ئق کو مد نظر رکھ کر کی جا ئے ، حقا ئق اسی کے دیکھے جا تے جس میں طا قت ہو تی یا اتحا د ایسا ہو تا کہ اس دبا ؤ میں ایک دم کو ئی فیصلہ نہیں لیا جا تا بلکے مکمل جا نچ پڑ تا ل کی جا تی ہے ، اس پو زیشن سے نیچے ہم نہیں ہیں مگر اس پو زیشن کو اور مضبو ط کر نے کے لیے سفا رتی تعلقا ت اس سطح کے ہو نے چا ہیے کہ با قی دنیا پا کستان کی اہمیت کو ما نے ، اس کے لیے کیا ہو نا چا ہیے ، ایک پو ائنٹ ، جب اپنے حکمران ذا تی مفا د سے بہت دور کر کے ملکی معا ملات کو ٹھیک کر یں گے اور عوام کی اصل طا قت ان کے پا س ہو گی تو با قی قو میں بھی اس طا قت کو نظر انداز نہیں کر یں گئیں اور معاملے کی جا نچ پڑ تا ل ہو گی ، صرف بھا رت کے کچھ بھی بو لنے سے ایکشن نہیں ہو گا
بات سمجھ کی اب ، معاملہ ایسا کہ جو با قی اقوام کے سامنے اپنے مسا ئل کو بہتر اور حقائق کے ساتھ اجاگر کر سکے گا پلہ اسی کا بھا ری رہے گا ،اس کے لیے ثبو ت پر زیا دہ فو کس کیا جاتا ، کیا ایسی پلا ننگی تو نہیں ، اگر ہے تو ہم کی تیا ری کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *