ذبح عظیم قربانی حضرت اسماعیل ذبیح اللہ

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل


0333.6828540
ؑ


ارشاد باری تعالیٰ ہے۔سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ مِنْ الصبَّرِیْنَ۔اللّٰہ نے چاہاتوقریب ہے کہ آپ مجھے صابرپائیں گے
ذوالحجہ اسلامی سال کابارہواں مہینہ ہے اسی مہینہ کی دسویں تاریخ کوحضرت اسماعیلؑ کی قربانی اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کی گئی ۔ذوالحجہ کا مہینہ نہایت ہی عظمت اورمرتبے والامہینہ ہے اس مہینہ کاچاندنظرآتے ہی ہردل میں اس عظیم الشان قربانی کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسکی مثال تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصرہے ۔ یہ مہینہ اس جلیل القدرپیغمبرکی یادگارہے جن کی زندگی قربانی کی عدیم المثال تصویرتھی یہ پیغمبر حضرت ابراہیم خلیل علیہ السّلام ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پاس مال ومنال مویشی کافی زیادہ ہوگئے توآپؑ کے دل میں خیال آیاکہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکی تمام نعمتیں عطافرمادی ہیں اگراب اللہ پاک کافضل کرم ہوکہ اولادنرینہ سے سرفرازفرمائے تواس مالک کاایک اورانعام ہوگاتاکہ وہ میرے بعدمنصب نبوت ورسالت پرفائزہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعاکی جوقبول ہوئی اورایک فرمانبرداربیٹے کی خوشخبری سنائی۔ قرآن پاک میں ارشادپاک ہے۔فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلٰمِِ حَلِیْمِِ۔(ترجمہ ) توہم نے اسے عقل مندلڑکے کی خوشخبری سنائی۔ (پارہ ۲۳)نورمحمدی ﷺجوحضرت آدم علیہ السّلام سے لے کرپشت درپشت چلاآرہاتھا وہ سیدہ ہاجرہؓ کی طرف آیا۔حضرت اسماعیل علیہ السَّلام کی ولادت ہوئی اوروہ نورمحمدیﷺ آپکی پیشانی میں چمکنے لگا۔دنیامیں انسان کودوچیزیں عزیزہوتی ہیں ایک انسان کوجان اوردوسری اولادعزیزہوتی ہے ۔جب جان کاوقت آیاتوحضرت ابراہیمؑ نے جان کی پرواہ نہ کی بلکہ اللہ کی رضاپرراضی ہوئے ۔نمرودلعین جس نے خدائی کادعویٰ کیاتھااس نے آگ میں حضرت ابراہیم ؑ کو ڈالالوگ خوش تھے کہ ہمارے بتوں کوبرابھلاکہنے والاآج کے بعدکوئی نہیں ہوگا(نعوذباللہ )مخالف ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گاآخرجب آپؑ کوآگ میں ڈالاگیا۔ شاعرمشرق علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی روح یہاں تڑپی اورکیاخوب کہا ۔
؂ ؂بے خطرکودپڑاآتش نمرودمیں عشق عقل ہے محوِتماشائے لبِ بام ابھی۔
عقل ابھی تماشادیکھ رہی تھی کہ عشق نے چھلانگ لگادی اللہ پاک نے آگ کوحکم دے دیا۔(ترجمہ)اے ! آگ حضرت ابراہیم ؑ پرٹھنڈی ہوجااورسلامتی والی ہوجا۔جان کے بعداولادکی باری آتی ہے جب حضرت اسماعیل ؑ ذبیح اللہ کی پیدائش ہوئی تو حضرت ابراہیم ؑ کوحکم ملاکہ وہ سیدہ ہاجرہؓ اورحضرت اسماعیل ؑ کوجنگل میں چھوڑآئیں حضرت ابراہیمؑ ابھی سوچ رہے تھے کہ جبرائیل ؑ جنت سے ایک براق رفتارسواری لے آئے چنانچہ حضرت ابراہیمؑ نے حضرت ہاجرہؓ وحضرت اسماعیلؑ کواپنے پیچھے براق پربٹھایااورسرزمین مکہ کی جانب روانہ ہوگئے ۔کافی سفرکرنے کے بعدجب سرزمین مکہ میں پہنچ گئے جہاں آجکل آب زمزم کاکنواں ہے اس مقام پرکھڑے ہوگئے جبرائیل ؑ نے عرض کی اللہ کے پیارے خلیل ؑ منشاء الٰہی یہی ہے کہ انہیں یہاں چھوڑدیاجائے ۔حضرت ابراہیمؑ نے حضرت ہاجرہؓ اورحضرت اسماعیلؑ کووہاں ٹھہرایاکھانے کے لئے تھوڑی سی کھجوریں اورپینے کے لئے پانی دیکرانہیں واپس آنے لگے توحضرت ہاجرہؓ نے عرض کیااے اللہ پاک کے پیارے خلیل ؑ کیا!یہاں ٹھہرنے کاحکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیاہے حضرت ابراہیم ؑ نے جواب دیا ہاں ۔حضرت ہاجرہؓ نے کہاکہ اب ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہم اپنے رب کی رضاپرراضی ہیں اسی پرہمارابھروسہ ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ نے جب حضرت ہاجرہؓ اورحضرت اسماعیلؑ کوسرزمین حرم پرٹھہرایاتوجاتے وقت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعاکی جسکاذکرقرآن پاک کے پارہ نمبر۱۳میں ہے (ترجمہ)’’اے میرے پروردگارمیں نے اپنی اولادایک وادی میں بسائی ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھرکے پاس(کعبۃ اللہ)اے ہمارے رب!اس لئے کہ وہ نمازقائم کریں ۔ اے پروردگارلوگوں کے دل انکی طرف مائل کردے اورانہیں پھل کھانے کودے تاکہ وہ تیراشکرکریں‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ نے جاتے وقت حضرت ہاجرہؓ کوکچھ کھجوریں اورپانی دیا حضرت ہاجرہؓ بھوک کے وقت کھجوریں کھاتیں اورشدت پیاس کے وقت پانی پی لیتیں یہاں تک کہ کھجوریں اورپانی ختم ہوگیا حضرت اسماعیلؑ کوپیاس لگی آپؓ کی والدہ ماجدہ سے بچے کی پیاس دیکھی نہ گئی آپؓ قریب ایک پہاڑی پرگئیں تاکہ کہیں پانی مل جائے مگرپانی کانام ونشان تک نظرنہیں آیاپھرآپؓ واپس بچے کے پاس آئیں اوربچے کی پیاس کی شدت دیکھ کردوسری پہاڑی پرچڑھیں مگروہاں بھی پانی نظرنہ آیاآپؓ جن دوپہاڑیوں پرپانی کی تلاش کے لئے گئیں ان دونوں پہاڑیاں کوصفامروہ کہاجاتاہے ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان حضرت ہاجرہؓ سات مرتبہ دوڑیں اللہ رب العزت کوان انکادوڑنااتناپسندآیاکہ قیامت تک ہرآنے والے حاجیوں کوحکم فرمایاکہ وہ بھی صفاومروہ کے درمیان سات سات چکرلگائیں تاکہ میری برگزیدہ پیاری بندی حضرت ہاجرہؓ کی سنت کوزندہ رکھیں۔ان دونوں پہاڑیوں کواللہ پاک نے شعائراللہ قراردیا(یعنی اللہ پاک کی نشانیاں ہیں )ان دونوں پہاڑیوں کاذکراللہ پاک نے قرآن مجیدفرقان حمیدکے دوسرے پارہ میں فرمایاہے ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہ۔”بے شکصفااورمروہ اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ہیں ” جب حضرت ہاجرہؓ کودوسری پہاڑی سے بھی پانی نہ ملاتوواپس اپنے بچے کے پاس آتی ہیں اورایک عجیب منظردیکھتی ہیں جہاں پر حضرت اسماعیلؑ کی ایڑیاں ہیں وہاں پرپانی کاایک صاف شفاف چشمہ جاری ہے اس پانی کے اچانک ظاہرہونے سے حضرت ہاجرہؓ کی خوشی کی انتہانہ رہی فوراََاللہ تعالیٰ کاشکربجالائیں پھریہ خیال آیاکہ اس بڑھتے ہوئے پانی کوروکناچاہیے آخرکارآپؓنے اس پانی کے اردگردایک آڑبنادی پانی کوروکتے ہوئے حضرت ہاجرہؓ کہہ رہی تھیں زَمْ،زَمْ ٹھہراے پانی !ٹھہریہی وہ آب زمزم ہے جسے کروڑوں لوگ بطورتبرک پیتے ہیں اورساتھ لے جاتے ہیں۔نبی اکرم نورمجسم ﷺفرماتے ہیں کہ اگرحضرت ہاجرہؓ اس پانی کوزم زم نہ کہتیں تویہ پانی ساری کائنات کی ہرضرورت کوپوراکرنے کے لئے کافی ہوتا۔حضرت ہاجرہؓ پانی سے خودبھی سیراب ہوتیں اوراپنے نورنظرحضرت اسماعیلؑ کوبھی پلاتیں اسی طرح وقت گزرگیا۔آب زمزم بہنے لگادورجنگل سے پرندے اپنی پیاس بجھانے کے لئے اس پرمنڈلانے لگے یہاں تک کہ قبیلہ بنی جرہم کاوہاں سے گزرہواجویمن سے آئے تھے انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کوپانی کی تلاش کے لئے بھیجاجب وہ آبِ زمزم کے قریب پہنچاتوکیادیکھتاہے کہ ایک عورت وہاں پرموجودہے اوراس عورت کی گودمیں ایک بچہ ہے اس آدمی نے قبیلہ والوں کوپانی کی خبردی تووہاں ساراقافلہ پہنچ گیاانہوں نے حضرت ہاجرہؓ سے اجازت لی اوروہیں پرمقیم ہوگئے حتیٰ کہ ایک وقت ایساآیاکہ آبادی کاسلسلہ بڑھتاہواشہرکی شکل اختیارکرگیااورمکہ معظمہ کے نام سے موسوم ہوگیا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ذی الحجہ کی پہلی شب کوخواب دیکھاجس سے آپ کوندادی جارہی ہے کہ اے ابراہیم ؑ اپنے رب کی بارگاہ میں قربانی کروجب صبح ہوئی حضرت ابراہیمؑ بیدارہوئے اوربہت سی بکریاں خداکی راہ میں قربان کیں پھردوسری رات کوبھی یہی خواب دیکھاجس میں آپؑ کوحکم مل رہاہے اے خلیل علیہ السلام قربانی کروصبح ہوئی توحضرت ابراہیمؑ نے بہت سی گائیں اوربکریاں اللہ کی راہ میں قربان کیں جب تیسری رات ہوئی توآپؑ نے وہی خواب دیکھاصبح بیدارہوکرآپؑ نے بہت سے اونٹ خداکی راہ میں قربان کیے آٹھویں ذی الحج تک یہی خواب کاسلسلہ جاری رہاکہ رات کوخواب میں حکم ہوتاکہ قربانی کروتوآپؑ صبح بیدارہوکرراہ خدامیں جانورقربان کردیتے جب آٹھویں شب میں خواب دیکھااورقربانی کاحکم ہواتوآپ علیہ السّلام نے عرض کی اے میرے پروردگارکیاشے قربان کروں حکم ملاکہ اپنے لخت جگرپیارے فرزندارجمندحضرت اسماعیل علیہ السّلام کی قربانی کرویہ حکم پاکرخلیل علیہ السّلام متفکرہوگئے نویں ذی الحج کوخواب دیکھاکہ آپ ؑ اپنے ہاتھ سے اپنے فرزندکوذبح کررہے ہیں صبح بیدارہوئے اوریقین کرلیاکہ یہ حکم خداوندی ہے جس کی تعمیل ضروری ہے دسویں ذی الحج کی رات کوپھریہی خواب دیکھادسویں ذی الحجہ کی صبح کوآپ ؑ حضرت ہاجرہؓ کے پاس تشریف لے گئے اورحضرت ہاجرہؓ کوحکم دیاکہ حضرت اسماعیل ؑ کونہلادھلاکرتیارکرو حضرت ہاجرہؓ نے اپنے بیٹے کونہلادھلاکرخوشبولگائی اورتیارکرکے اپنے والدحضرت ابراہیمؑ کے حوالے کردیاحضرت ابراہیمؑ نے انکاہاتھ پکڑاباپ بیٹاچھری اوررسی لے کرجبل عرفا ت کی طرف چل پڑے کعبہ شریف سے کچھ دورپہنچے توشیطان لعین نے آپؑ کواس عظیم قربانی سے روکناچاہاسب سے پہلے شیطان لعین حضرت اسماعیلؑ کی والدہ حضرت ہاجرہؓ کے پاس آیااورکہنے لگااے ہاجرہؓ آپکومعلوم ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ ،حضرت اسماعیل ؑ ؑ کوذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیں حضرت ہاجرہؓ نے کہایہ کیسے ہوسکتاہے کہ باپ اپنے بیٹے کوذبح کرے؟شیطان بولاحضرت ابراہیمؑ کواللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملاہے کہ اپنے بیٹے کی قربانی کر۔حضرت ہاجرہؓ نے کہااے شخص اگرخداکاحکم اسی طرح ہے تومیں اورمیرابیٹاخداکے حکم پرراضی ہیں۔شیطان جب مایوس ہوکرواپس ہواتوحضرت اسماعیلؑ کے دل میں وسوسہ ڈالنے لگاقریب جاکرکہاتجھے تیرے والدذبح کرنے کے لئے لے جارہے ہیں حضرت اسماعیلؑ نے فرمایاکیوں؟شیطان نے کہاوہ سمجھتے ہیں کہ ا للہ تعالیٰ نے انہیں ایساکرنے کا حکم دیاہے حضرت اسماعیل ؑ نے جواب دیااگراللہ تعالیٰ میری جان کی قربانی قبول فرمالے تومیرے لئے اس سے بڑھ کرکیاسعادت ہوگی ۔شاعرنے کیاخوب کہا۔
ؔ ؂جان دی ہوئی اسی کی تھی حق تویہ ہے کہ حق ادانہ ہوا
شیطان نے ہرممکن کوشش کی کہ حضرت ابراہیم ؑ کسی نہ کسی طرح اس عظیم قربانی سے رک جائیں۔مگراللہ تعالیٰ کے خلیل کے عزم سے بے بس ہوگیا ۔اسکے بعدشیطان نے حضرت ابراہیمؑ کے دل میں وسوسہ ڈالناشروع کیاحضرت ابراہیم ؑ اللہ پاک کے خلیل تھے فوراََ پہچان گئے کہ یہ کارنامہ شیطان کاہے جواس عظیم قربانی سے روکنے کامشن پوراکررہاہے آپؑ نے اسکودھتکارنے کے لئے پتھراٹھاکراسے مارناشروع کیااورفرمایااے شیطان لعین دورہوجامیری نظروں کے سامنے اللہ تعالی کویہ ادائے ابراہیمی ؑ اتنی پسندآئی کہ قیامت تک حج کرنے والے حاجیوں کے لئے حکم فرمادیاکہ میرے پیارے خلیلؑ کی سنت کوزندہ رکھنے کے لئے یہاں پرشیطان کوسات کنکرماریں۔حضرت ابراہیمؑ اورحضرت اسماعیل ؑ ایک پہاڑکے قریب پہنچے توحضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ سے کہا۔جوبات آپؑ نے کہی اسکی گواہی اللہ پاک کی کتاب قرآن مجیدکاپارہ ۲۳دیتاہے ۔ترجمہ: “اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھاکہ تم کواپنے ہاتھ سے ذبح کررہاہوں اب بتاتیری کیارائے ہے ۔حضرت اسماعیل ؑ نے جواب دیااے اباجان!آپکوجوحکم ملاہے وہ پوراکیجیے مجھے آپؑ ان شاء اللہ صبرکرنے والاپائیں گے ۔علامہ اقبال علیہ الرحمہنے کیاخوب کہا۔
؂یہ فیضان نظرتھایامکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کوآداب فرزندی
جب باپ بیٹادونوں رضائے الٰہی پرراضی ہوگئے توباپ نے بیٹے کوزمین پرجبین کے بل لٹایاقرآن مجیدمیں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔فَلَمَّآ اَسْلَمَآوَتَلَّہُ لِلْجَبِیْن(پارہ ۲۳)جب وہ دونوں تیارہوگئے توباپ نے بیٹے کوپیشانی کے بل لٹادیا”چھری چلانے سے پہلے بیٹے نے کہااباجان میری کچھ وصیتیں ہیں قبول فرمائیں وہ وصیتیں یہ تھیں۔اباجان پہلی وصیت تویہ ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ دیں تاکہ اگر میں تڑپوں توآپکے لباس پرخون کاچھینٹانہ پڑے ذبح کرنے سے پہلے چھری کوتیزکرلیناتاکہ یہ فریضہ اداکرنے میں تاخیرنہ ہوجائے۔اپنی آنکھوں پرپٹی باندھ لیناکہیں محبت پدری کی وجہ سے آپؑ اس فریضہ سے رہ نہ جائیں۔اورمیراخون آلودہ کُرتامیری والدہ کے پاس پہنچادیجیے تاکہ وہ اس کُرتے کودیکھ کر اپنے دل کوتسلی دے لیاکریں۔حضرت ابراہیمؑ نے حکم خداوندی کوپوراکرتے ہوئے حضرت اسماعیلؑ کے نازک حلق پرچھری رکھی توچھری حضرت اسماعیلؑ کے گلے پرکندہوگئی ہے باربارچھری چلائی مگرایساہی ہواحضرت ابراہیمؑ نے چھری کوایک پتھرپردے ماراپتھرکوچھری نے دوٹکڑے کردیے حضرت ابراہیم ؑ نے چھری سے مخاطب ہوکرفرمایاکیاوجہ ہے کہ اتنے نرم ونازک گلے کوبھی نہیں کاٹتی چھری پکاراٹھی اے اللہ تعالیٰ کے خلیل ؑ جسوقت آپؑ کوآگ میں ڈال دیا گیاتھاتوآگ نے آپؑ کوکیوں نہ جلایا۔حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایاکہ آگ کواللہ پاک نے حکم دیاتھاکہ وہ نہ جلائے چھری نے عرض کیااے حضرت ابراہیمؑ آگ کوتوایک دفعہ حکم ہواکہ نہ جلانامجھے توسترمرتبہ حکم مل چکاہے کہ اسماعیلؑ کے حلقوم کونہ کاٹناحضرت ابراہیمؑ نے جب حضرت اسماعیل ؑ کے حلقوم پرچھری چلائی گلے پر چھری چلنے سے پہلے حضرت جبرائیل امینؑ جنت سے ایک مینڈھالے آئے اسکونیچے رکھ دیااورحضرت اسماعیلؑ کواٹھالیامینڈھا ذبح ہوگیاتواللہ تعالیٰ کی طرف سے آوازآئی ۔ترجمہ”بے شک ہم نے پکارااے ابراہیمؑ تونے خواب سچ کردکھایاہم نیکوں کویونہی جزادیتے ہیں بے شک یہ صاف آزمائش ہے ہم نے اسکافدیہ ذبح عظیم کے ساتھ کردیااوراسے بعدوالوں میں باقی رکھا “حضرت ابراہیمؑ کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اور اسے یادگارکے طورپرقیامت تک باقی رکھااب ہرسال اسکی یادکوتازہ کیاجاتاہے .علامہ عسقلانی ؒ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں اورعلامہ عینی ؒ نے عینی شرح بخاری میں ذکر فرمایاہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺنے حضرت جبرائیل ؑ سے دریافت کیاکہ تونے کبھی اپنی پوری قوت بھی صرف کی ہے جبرائیل ؑ نے عرض کیایارسول اللہﷺمیں نے چارمرتبہ اپنی پوری قوت صرف کی ہے۔پہلی بارجب حضرت ابراہیم ؑ کومنجیق میں رکھ کرآگ میں ڈالاجارہاتھاآگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے پھراللہ تعالیٰ کے خلیل آگ کی طرف جارہے تھے میں مقام سدرہ پرتھااللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہواکہ اے جبرائیلؑ جلدی جامیراخلیل ؑ آگ میں جارہاہے آگ کوپرمارکرگلزاربنادے یارسول اللہﷺمیں نے سدرۃ المنتہیٰ سے پروازکی اورخلیل ؑ کے آگ میں پہنچنے سے پہلے میں آگ میں پہنچ گیااورآگ کواللہ تعالیٰ کے حکم سے گلزاربنادیادوسری بارمیں سدرۃ المنتہٰی پرتھاچھری حضرت اسماعیلؑ کے گلے کی طرف آرہی تھی اس نے صرف دوفٹ کافاصلہ طے کرناتھااسکے دوفٹ کے فاصلے کوطے کرنے سے پہلے میں جنت سے مینڈھالے کرپہنچ گیا۔تیسری بارحضرت یوسفؑ کوکنویں میں ڈالاجارہاتھاوالدکاپہنایاہوالباس اتاردیاگیاتھابازومیں رسی باندھ کرکنویں میں لٹکادیاگیاآہستہ آہستہ پانی کی سطح قریب آرہی تھی حضرت یوسفؑ کے ایک بھائی نے تلوارمارکررسی کاٹ دی نصف راستہ طے ہوچکاتھااورنصف باقی تھارسی کاٹ دی گئی اورمیں سدرہ پربیٹھاتھاحکم ہواجبرائیلؑ جلدی جنت جااوریوسف ؑ کے پانی میں پہنچنے سے پہلے پہلے جنتی تخت لے جااورپانی پربچھادے میں نے اپنی ساری قوت صرف کردی سدرۃ المنتہیٰ سے جنت گیااوروہاں سے تخت اٹھاکرزمین کی طرف آیاابھی حضرت یوسفؑ پانی پرنہیں پہنچے تھے کہ میں پہلے پہنچ گیا۔چوتھی مرتبہ یارسول اللہﷺغزوہ اُحدمیں جب آپﷺکادانت مبارک شہیدہواخون پاک کاقطرہ زمین کی طرف جارہاتھااللہ رب العزت کی طرف سے حکم ملااے جبرائیلؑ اگرمیرے محبوب پاکﷺکے خون کاقطرہ زمین پرگرگیاتوزمین جل کرراکھ ہوجائے گی جااورخون کاقطرہ میرے پاس اٹھاکرلے آ جبرائیل ؑ نے عرض کیایارسول اللہﷺآپکے مقدس خون کاقطرہ زمین پرگرنے سے پہلے میں پہنچ گیا۔اس سے ہم کویہ سبق ملتاہے کہ اللہ پاک نے ایک فرشتہ کواتنی طاقت دی ہے جسکی پروازکایہ عالم ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ سے ایک سیکنڈسے بھی کم وقت میں زمین پرپہنچتاہے تواس نبی ﷺکورب نے کیامقام دیاہوگاجس نبی کریمﷺکے جبرائیل ؑ نے پاؤں مبارک چومے ہیں۔للہ رب العزت حضرت ابراہیمؑ وحضرت اسماعیلؑ کی اس عظیم قربانی کے صدقے ہم پرکرم فرمائے اورنبی ﷺکی شفقت اورغلامی نصیب فرمائے ۔عالمِ اسلام کی خیرفرمائے ۔ملک پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحادکی دولت نصیب فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *