حج کارکن اعظم: یوم عرفہ

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل ،میانوالی


0333.6828540


اللہ رب العزت نے سال کے بارہ مہینوں میں مختلف دنوں اورراتوں کی خاص اہمیت وفضیلت بیان کر کے ان کی خاص خاص برکات وخصوصیات بیان فرمائی ہیں قرآن حکیم میں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔’’بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اورزمین بنائے ان میں سے چارحرمت والے ہیں یہ سیدھادین ہے توان مہینوں میں اپنی جا ن پرظلم نہ کرواورمشرکوں سے ہروقت لڑوجیساوہ تم سے ہروقت لڑتے ہیں اورجان لوکہ اللہ پاک پرہیزگاروں کے ساتھ ہے‘‘۔(سورۃ التوبہ پارہ ۱۰آیت نمبر۳۶)
حج کارکن اعظم یوم عرفہ یہ دن بہت زیادہ شرف وفضیلت کاحامل ہے ۔کیونکہ یہ گناہوں کی بخشش اورآزادی کادن ہے ۔اگرعشرۂ ذوالحجہ میں سوائے یومِ عرفہ کے اورکوئی قابل ذکریااہم شے نہ بھی ہوتی تویہی اس کی فضیلت کے لئے کافی تھا۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ سے روایت ہے کہ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںؐ نے ارشادفرمایااللہ رب العزت جس طرح عرفہ کے دن لوگوں (یعنی گناہ گاروں)کوآگ سے آزادفرماتا ہے اس سے زیادہ کسی اوردن میں آزادنہیں کرتاپھران کے ساتھ ملائکہ پرمباہات فرماتاہے۔(مسلم شریف،نسائی،ابن ماجہ)ایک اورحدیث مبارکہ جس کے راوی حضرت طلحہ بن عبیداللہ ہیں کہ آقاﷺنے فرمایا”شیطان یومِ عرفہ کے علاوہ کسی اوردن میں اپنے آپ کواتناچھوٹاحقیر،ذلیل اورغضبناک محسوس نہیں کرتاجتنااس دن کرتاہے یہ محض اس لئے ہے کہ اس دن میں وہ اللہ پاک کی رحمت کے نزول اورانسانوں کے گناہوں سے صرف نظرکامشاہدہ کرتاہے ۔البتہ بدرکے دن شیطان نے اس سے بھی بڑی شئے دیکھی تھی عرض کیاگیایارسول اللہﷺ!یوم بدراس نے کیادیکھافرمایاجبرائیل ؑ کوجوفرشتوں کی صفیں ترتیب دے رہے تھے ۔(مالک،عبدالرزاق یہ روایت مرسل صحیح ہے)یوِ م عرفہ اس دن کوکہاجاتاہے جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں ۔یوں تویہ سارامہینہ برکتوں اورفضیلتوں والاہے پریوم عرفہ کے دن کاکیاکہنا۔اس دن دینِ اسلام کی تکمیل اورنعمتوں کااتمام ہوا۔صحیحین میں امیرالمومنین حضرت عمرفاروقؓ سے حدیث پاک مروی ہے کہ ایک یہودی نے امیرالمومنین حضرت عمرؓبن خطاب سے کہااے امیرالمومنین!ایک آیت تم قرآن مجیدمیں پڑھتے ہواگروہ آیت ہم یہودیوں پرنازل ہوتی توہم اس دن کوعیدکادن بناتے ۔امیرالمومنین حضرت عمرفاروقؓ کہنے لگے وہ کون سی آیت کریمہ ہے ؟اس نے کہا’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘(المائدہ)’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارادین مکمل کردیااورتم پراپنی نعمت پوری کردی اورتمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسندکیا‘‘تو حضرت عمرفاروقؓ فرمانے لگے۔ہمیں اس دن اورجگہ کابھی علم ہے جب یہ آیت کریمہ نبی کریمﷺپرنازل ہوئی وہ جمعہ کادن تھااورآقاﷺعرفہ میں تھے۔یہ عرفہ میں وقوف کرنیوالوں کے لئے عیدکادن ہے نبی کریمﷺنے ارشادفرمایا”یومِ عرفہ اوریوم النحراورایام تشریق ہم اہل اسلام کی عیدکے دن ہیں اوریہ سب کھانے پینے کے دن ہیں ۔ اسے اصحاب السنن نے روایت کیا۔حضرت عمربن خطابؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایایہ آیت جمعہ اورعرفہ والے دن نازل ہوئی اوریہ دونوں ہمارے لئے عیدکے دن ہیں ۔حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا”یوم موعودقیامت کادن ،یوم مشہودعرفہ کادن اورشاہدجمعہ کادن ہے ۔ اسے امام ترمذی علیہ الرحمہ نے روایت کیاہے ۔عرفہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اولادآدم علیہ السلام سے عہدمیثاق لیاتھاحضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السّلام کی ذریت سے عرفہ میں میثاق لیاتھااورحضرت آدم علیہ السّلام کی پشت سے ساری ذریت نکال کرذروں کی ماننداپنے سامنے پھیلادی اوران سے کہاکیامیں تمہارارب نہیں ہوں؟سب نے جواب دیاکیوں نہیں ! ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے روزیوں نہ کہوکہ تم تواس سے محض بے خبرتھے ،یایوں کہو کہ پہلے پہلے شرک توہمارے بڑوں نے کیااورہم تو ان کے بعدان کی نسل میں ہوئے،توکیاان غلط راہ والوں کے فعل پرتوہم کوہلاکت میں ڈال دے گا؟۔(مسنداحمد)
امام ابوعیسیٰ محمدبن عیسی ترمذی متوفی ۲۷۹ھ روایت کرتے ہیں :عماربن ابی عمارؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے ایک یہودی کے سامنے یہ آیت کریمہ پڑھی”الیوم اکملت لکم دینکم “تواس یہودی نے کہااگرہم پریہ آیت کریمہ نازل ہوتی توہم اس دن کوعیدبنالیتے ۔ حضرت ابن عباسؓنے فرمایا”یہ آیت کریمہ دوعیدوں کے دن نازل ہوئی ہے “یوم الجمعہ ،یوم عرفہ کو۔(ترمذی)شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی صاحب اس حدیث کےبارے میں اپنی تفسیر(تبیان القرآن )میں لکھتے ہیں اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہواکہ جمعہ کادن مسلمانوں کی عیدہے اورعرفہ کادن بھی مسلمانوں کی عیدہے جن لوگوں نے کہاصرف دوعیدیں ہیں ۔انہوں نے اس حدیث مبارکہ پرغورنہیں کیاالبتہ!یہ کہاجاسکتاہے کہ مشہورعیدیں صرف عیدالفطراور عیدالاضحی ہیں ۔جن کے مخصوص احکام شرعیہ ہیں ۔عیدالفطرمیں صبح افطارکیاجاتا ہے ۔ اس کے بعددورکعت نمازعیدگاہ میں اداکی جاتی ہے اوراسکے بعدخطبہ پڑھاجاتاہے اورعیدالاضحی میں پہلے نمازاور خطبہ ہے اوراس کے بعدصاحب نصاب پرقربانی کرناواجب ہے ۔جمعہ کادن مسلمانوں کے اجتماع کادن ہے اوراس کو ظہرکے بدلہ میں نمازاورخطبہ فرض کیاگیاہے اورعرفہ کے دن غیرحجاج کے لئے روزہ رکھنے میں بڑی فضیلت ہے اس سے دوسال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐنے فرمایاذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کرکوئی دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل نہیں ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہﷺ!یہ افضل ہیں یااتنے دنوں میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہادکرنا۔ارشادفرمایااللہ کی راہ میں اس تعدادمیں جہادکرنے سے بھی یہ افضل ہیں اوراللہ کے نزدیک یومِ عرفہ سے زیادہ افضل کوئی دن نہیں۔عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیاکی طرف خاص تجلی فرماتاہے اورزمین والوں کے ساتھ آسمان والوں پرفخرکرتاہے اوران سے فرماتاہے میرے ان بندوں کودیکھوکہ پراگندہ سراورگردآلوددھوپ کھاتے ہوئے دوردورسے میری رحمت کی امیدوارحاضرہوئے توعرفہ سے زیادہ جہنم سے آزادہونے کسی دن میں دیکھے نہ گئے اوربیہقی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتاہے میں تم کوگواہ کرتاہوں کہ میں نے انہیں بخش دیااورفرشتے کہتے ہیں ان میں فلاں فلاں حرام کام کرنیوالے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتاہے میں نے سب کوبخش دیا ۔(ابویعلیٰ،بزار،ابن خزیمہ)حضرت عباس ابن مِرْدَاس سلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے عرفہ کی شام اپنی امت کے لئے دعائے مغفرت کی توجواب ملااے میرے پیارے محبوب حقوق العبادکے سواباقی گناہ بخش دیے مظلوم کاحق تولوں گاآقاﷺنے عرض کیایارب اگرتوچاہے تومظلوم کوجنت دے دے اورظالم کوبخش دے اس شام کوتوجواب نہ ملامگرجب مزدلفہ میں حضورﷺنینے صبح کی تووہی دعادوبارہ کی تب آپکاسوال پوراکیاگیاراوی فرماتے ہیں تب رسول اللہﷺ ہنسے یامسکرائے آقاﷺکی بارگاہ اقدس میں حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ نے عرض کیایارسول اللہﷺہمارے ماں باپ آپ پرقربان اس گھڑی حضورآپ ہنسانہ کرتے تھے اللہ پاک آپ کوخوش وخرم رکھے کیاچیزآپکوہنسارہی ہے آپﷺ نے فرمایاکہ جب اللہ کے دشمن ابلیس(شیطان)نے دیکھاکہ اللہ تعالیٰ نے میری دعاقبول کرلی اورمیری امت کوبخش دیا تو شیطان مٹی اٹھاکراپنے سرپرڈالنے لگااورہائے وائے پکارنے لگاہم نے جب اسکی گھبراہٹ دیکھی جس سے ہمیں ہنسی آگئی(ابن ماجہ)
اس دن کاروزہ دوسال کے گناہوں کاکفارہ ہے ۔حضرت قتادہؓ سے مروی ہے کہ آقاﷺنے یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں فرمایایہ گزرے ہوئے اورآنے والے سال کے گناہوں کاکفارہ ہے ۔(صحیح مسلم)یہ روزہ حاجی کے لئے رکھنامستحب نہیں اس لئے کہ نبی کریمﷺنے اس کاروزہ ترک کیاتھااوریہ بھی مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے یوم عرفہ کامیدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے ۔حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوہریرہؓ کے گھرگیااورمیں نے ان سے عرفات میں (حج کی حالت میں)عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھاتوانہوں نے فرمایا’رسول اللہﷺنے عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے ۔(سنن ابن ماجہ )لہٰذا حاجی کے علاوہ یہ روزہ رکھناسب کے لئے مستحب ہے ۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایاجس شخص نے عشرہ ذی الحجہ کی کسی تاریخ کورات بھرعبادت کی توگویااس نے سا ل بھرحج اورعمرہ اداکرنیوالے کی سی عبادت کی اورجس نے عشرہ ذی الحجہ کوروزہ رکھاتوگویااس نے پوراسال عبادت کی ۔حضوراکرم نورمجسم احمدمجتبیٰ حضرت محمدمصطفیﷺنے ارشاد فرمایاجس نے آٹھویں ذی الحجہ کاروزہ رکھااللہ تعالیٰ اسے حضرت ایوبؑ کے صبر کے ساتھ برابرثواب عطافرمائے گاجس نے یوم عرفہ نویں ذی الحجہ کاروزہ رکھااللہ تعالیٰ اسے حضرت عیسیٰ ؑ کے برابرثواب عطافرمائے گا۔ آپؐ سے روایت ہے کہ جب عرفہ کادن آتاہے تواللہ تعالیٰ اس دن اپنی رحمت کوپھیلادیتاہے اس دن دوزخ سے نجات سب سے زیادہ لوگ پاتے ہیں جس نے عرفہ کاروزہ رکھااس کے سال گزشتہ اورسال آئندہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔(مُکَاشِفَۃُ الْقُلُوْب)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنینے ارشادفرمایا جوشخص عرفہ کے دن ظہروعصرکے درمیان چاررکعتیں اس ترکیب سے پڑھتاہے کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ ایک باراورسورۃ الاخلاص پچاس بارتواس کے لئے ہزاروں نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔قرآن مجیدکے ہرلفظ کے عوض جنت میں اس کامقام ومرتبہ اونچاکیاجائے گاجس کی مسافت پانچ برس کی مسافت کے برابرہوگی اورقرآن کے ہرحرف کے عوض اللہ تعالیٰ ۷۰سترحوریں اس کومراحمت فرمائے گا۔ہرحورکے ساتھ سترخوان موتی اوریاقوت کے ہوں گے ۔ہرخوان پرہزاررنگ کے کھانے ہوں گے جوسترہزارسبزرنگ کے گوشت کے ہوں گےکھانے برف کی طرح سرداورشہدکی طرح شیریں اورمشک کی طرح خوشبودارہوں گے اس کھانے کونہ آگ نے چھواہوگااورنہ لوہے سے گوشت کوکاٹاگیاہوگا۔ہرلقمہ پہلے لقمے سے بہترہوگااس کے پاس ایک ایساپرندہ آئے گاجس کی چونچ سونے کی ،بازوسرخ یاقوت کے ہوں گے اس پرندے کے سترہزارپَرہوں گے پرندہ ایسی زمزمہ سبخیاں کرے گاکہ کسی نے ایسی نہیں سنی ہوں گی یہ پرندہ کہے گااے اہل عرفہ !مرحباحضورﷺنے فرمایاپھروہ پرندہ اس شخص کے پیالہ میں گرجائے گااس کے ہرپَرکے نیچے سے سترقسم کے کھانے نکلیں گے جنتی ان کوکھائے گاپھروہ پرندہ اڑجائے گااس نمازکے پڑھنے والے کومرنے کے بعدجب قبرمیں رکھاجائے گاتوقرآن کے ہرحرف کے باعث اس کی قبرجگمگااٹھے گی یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کے طواف کرنے والوں کودیکھ لے اس کے لئے جنت کاایک دروازہ کھول دیاجائے گا۔اس دروازے سے اس کووہ ثواب اورمرتبہ دکھائی دے گاجواس کے لئے مخصوص ہوگااس کودیکھ کرکہے گاالٰہی قیامت برپاکردے ۔(غنیۃ الطالبین،ص438,439) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنوں میں سے چاردن ،مہینوں میں سے چارمہینے اورعورتوں میں سے چارعورتیں پسند فرمائی ہیں ۔چارآدمی جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اورچارآدمیوں کی جنت ازخودمشتاق ہے ۔اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دنوں میں سے پہلا دن جمعہ کاہے اس میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں جب کوئی اللہ تعالیٰ سے دنیااورآخرت کے متعلق دعاکرتاہے تووہ دعا قبول ہوجاتی ہے ۔ دوسرانویں ذوالحجہ کایعنی عرفہ کادن اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتاہے جاؤدیکھومیرے بندے بکھرے بال غبار آلود چہرے مال خرچ کرکے مشقت برداشت کرکے حاضرہوئے ہیں تم گواہ رہومیں نے انہیں بخش دیاہے ۔تیسرادن قربانی کاہے قربانی سے بندہ قرب الٰہی طلب کرتاہے جونہی قربانی کے خون کاپہلاقطرہ زمین پرگرتاہے وہ بندے کے ہرگناہ کاکفارہ ہوجاتاہے چوتھاعیدالفطر کادن ہے جس دن روزہ رکھنے کے بعد نمازِعیدکے لئے بندے جمع ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ فرشتوں کوفرماتاہے ،ہرمزدوراپنی مزدوری مانگتا ہے میرے بندوں نے پورے مہینے کے روزے رکھے اب نمازِ عیدکے لئے نکلے ہیں وہ مزدوری مانگتے ہیں تم گواہ رہومیں نے انہیں بخش دیا اور پکارنے والاکہتاہے اے امت محمدﷺ!تم واپس جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برائیوں کوبھی نیکیوں میں تبدیل کردیااللہ تعالیٰ کے چار پسندیدہ مہینے یہ ہیں ۔ایک رجب المرجب جوتنہایعنی علیحدہ مہینہ ہے ۔ باقی تین مہینے ذی القعدہ ،ذی الحجہ ،اورمحرم الحرم ہیں ۔اللہ پاک کے حضور جن عورتوں کامقام ہے وہ یہ ہیں ۔سیدہ مریم بنت عمرانؓ ،ام المومنین سیدہ خدیجہ بنت خویلدؓ کیونکہ آپؓ سب سے پہلے آپؐ پرایمان لائیں ۔ فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ،سیدۃ النساء العالمین سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ حضرت فاطمۃ الزہرؓابنت محمدالرسول اللہﷺہیں ۔ چار قوموں میں سبقت لے جانے یعنی جنہوں نے آقاؐ پرایمان لانے میں سب سے اوّل پہل کی ۔عربوں میں سیدناحضرت ابوبکرصدیقؓ ،ا ہل فارس میں حضرت سلمان فارسیؓ ،اہل روم میں حضرت صہیب رومیؓ اوراہل حبشہ میں سیدناحضرت بلالؓ شامل ہیں ۔ جن آدمیوں کی جنت مشتاق ہے ان میں حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ ،حضرت سلمان فارسیؓ ، حضرت عماربن یاسرؓ اورحضرت مقدادبن اسودؓ شامل ہیں ۔(مُکَاشِفَۃُ الْقُلُوْب)اللہ پاک سے دعاگوہوں کہ اللہ رب العزت ہماری تمام جانی و مالی عبادات کواپنے حبیب کریمﷺکے صدقے اپنی بارگاہ میں قبول فرماکرہمارے لئے ذریعہ نجات بنائے ۔ ملکِ پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںﷺکی بروزقیامت شفاعت نصیب فرمائے مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے ۔اللہ رب العزت عالمِ اسلام اورملک پاکستان کی خیرفرمائے۔اللہ رب العزت آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںﷺ کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *