د ینِ ا سلا م میں حج کی اہمیت وفضیلت


حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل،میانوالی


0333.6828540

ارشادباری تعالیٰ ہے۔’’بے شک سب میں پہلاگھرجولوگوں کی عبادت کومقررہواوہ ہے جومکہ میں ہے برکت والااورسارے جہان کاراہنمااس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اورجواس میں آئے امان میں ہواوراللہ کے لئے لوگوں پراس گھرکاحج کرناہے جواس تک چل سکے اورجومنکرہوتواللہ پاک سارے جہانوں سے بے پرواہ ہے‘‘۔(آل عمران۹۶،۹۷)
حج دینِ اسلام کے بنیادی فرائض واراکین میں سے ایک اہم رکن ہے۔جن پر دینِ اسلام کی عمارت قائم ہے ۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ آقاﷺ نے فرمایا’’اسلام کی بنیادپانچ چیزوں پرہے۔’’یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں اویہ محمدﷺاللہ تعالیٰ کے رسولﷺہیں،اورنمازقائم کرنا،زکوٰۃ اداکرنا،حج کرنااوررمضان المبارک کے روزے رکھنا۔(متفق علیہ)یہ اسلام کے پانچ بڑے اصول اوراہم ارکان ہیں ۔آقاﷺ نے اسلام کے اصول سمجھانے کے لئے ایک حسین وجمیل مثال بیان فرمائی کہ اسلام بمنزلہ ایک خیمہ کے ہے جوپانچ ستونوں سے قائم ہے ۔کلمہ شہادت خیمہ کادرمیانی ستون ہے ۔ نماز،روزہ،زکوٰۃ ،حج بیت اللہ چارستون ہیں ۔جوخیمہ کے گوشوں پرہوتے ہیں ۔اگردرمیانی ستون نہ ہوتوخیمہ کاقیام متصورنہیں ہوسکتا۔اس طرح اگراللہ اور اس کے رسول ﷺپرایمان نہ ہوتواسلام سرے سے ہی نہ ہوگااورنمازروزہ باقی اعمال کاکوئی فائدہ نہ ہوگا۔اگردرمیانی ستون قائم ہواورچاروں طرف میں سے کوئی ایک ستون نہ ہوتوخیمہ قائم ہوجائیگا۔مگرجس طرف کاستون نہ ہوگاوہ جانب گری ہوئی اورناقص ہوگی اس طرح اگرایمان موجودہے تومسلمان کہلایا جائیگا مگرجب نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ سے کوئی چیزنہ ہوگی ۔تواسلام ضعیف اورناقص ہوجائیگا۔ہم لوگوں کواپنی حالت پرغورکرناچاہیے کہ کیااسلام کاخیمہ قائم ہے؟ اگرقائم ہوتوکسی جانب سے گراہواتونہیں ؟ حج کامنکرکافراورمرتدہے حج کی فرضیت پراور اس کے انکارسے کفرکے لازم آنے پراجماع امت ہے ۔ عربی زبان میں حج کے معنی کسی بڑے مقصدکاارادہ کرنے کے ہیں ۔اصطلاحی طورپرمکۃ المکرمہ کی طرف طواف،سعی، عرفات میں وقوف،مزدلفہ میں قیام اورمنیٰ میں قربانی وغیرہ ھم جیسے اعمال کی ادائیگی کی غرض سے سفر کرنایاسفرکاارادہ کرناحج کہلاتاہے ۔ کعبہ معظمہ اتنی برکت والا ہے کہ رب ذوالجلال ہرروزوہاں پرایک سوبیس رحمتیں نازل فرماتاہے چالیس رحمتیں ان نمازیوں کے لئے جوکعبہ میں نمازپڑھتے ہیں اور ساٹھ رحمتیں کعبۃ اللہ کا طواف کرنیوالوں کے لئے اوربیس رحمتیں کعبۃ اللہ کی طرف نظرکرنیوالوں کے لئے جہاں پررب کی رحمت کی برسات ہووہ جگہ رحمت والی کیوں نہ ہو۔تفسیرحسینی میں مرقوم ہے کہ کعبۃ اللہ کی طرف ایک نظرسے دیکھنااس قدراجروثواب کاحامل ہے جتناکہ مکۃ المکرمہ کے باہرسال بھرکی عبادت کاثواب ہوتاہے یعنی مکہ مکرمہ کے باہرسال بھرکی عبادت کاثواب اورکعبۃ اللہ کی جانب ایک نظردیکھنے کاثواب برابرہے جس نے ایک مرتبہ کعبۃ اللہ پرنگاہ ڈالی گویااس نے ایک سال کی عبادت کاثواب حاصل کرلیا۔حضرت مسیبؓ نے فرمایا”جوکوئی ایمان اورقلبی تصدیق سے کعبۃ اللہ کادیدارکرے گناہوں سے یوں پاک ہوجاتاہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیداہواہو‘‘۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ہم پرخطبہ پڑھاتوفرمایااے لوگو!تم پرحج فرض کیاگیاہے لہذاحج کرو!ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہﷺ کیاہرسال؟ حضوﷺ خاموش رہے حتیٰ کہ اس شخص نے تین بارکہاتوآپﷺ نے فرمایاکہ اگرمیں ہاں کردیتاتوہرسال واجب ہوجاتااورتم نہ کرسکتے پھرفرمایا مجھے چھو ڑے رہوجس میں میں تم کوآزادی دوں کیونکہ تم سے اگلے لوگ نبیوں سے زیادہ پوچھ گچھ اورزیادہ جھگڑے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں لہذاجب میں تمہیں کسی چیزکاحکم دوں توجہاں تک ہوسکے کرگزرواورجب تمہیں کسی چیزسے منع کروں تواسے چھوڑدو۔(مسلم شریف)حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایااے لوگو!بے شک اللہ پاک کی جانب سے تم پرحج فرض ہے۔پسحضرت اَقْرَعَ بن حابسؓ کھڑے ہوئے اورعرض کیایارسول اللہﷺ ہرسال (آپﷺخاموش رہے یہاں تک اس صحابیؓ نے تین مرتبہ یہی سوال دہرایا) آپﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کردیتاتوواجب ہوجاتا اگرواجب ہوجاتاتوتم اس پرعمل نہ کرتے اورنہ ہی اسکی طاقت رکھتے ۔حافظ ابن حجرمکی اورنووی راقم طرازہیں ۔کہ اقرع بن حابسؓ کے باربارسوال کی وجہ رسول اللہﷺ کاحج کے بارے میں سخت ترین حکم تھاکہ’’لوگو!اللہ پاک نے تم پرحج فرض کیاہے پس تم حج کرو‘‘انہوں نے اس سختی کی بناء پرباربارسوال کیاکہ کہیں ہرسال کے لئے توایسانہیں ۔لیکن اللہ اوراسکے پیارے رسولﷺ نے چندشرائط عائدفرمادیں تاکہ امت پرآسان ہو مشقت نہ ہو۔وہ شرائط درج ذیل ہیں۔۱۔مسلمان ہو،مشرک یاکافرنہ ہوکیونکہ کافراورمشرک پراسلام کے احکام لاگونہیں ہوتے ۔مشرک اورکافرکا داخلہ بھی مسجدالحرام میں حرام ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے ایمان والو!مشرک نرے پلیدہیں تواس برس کے بعد(فتح مکہ کے بعد)وہ مسجدحرام کے پا س نہ آنے پائیں ۔اوراگرتمہیں محتاجی کاڈرہے توعنقریب اللہ تمہیں دولت مندکردے گااپنے فضل سے اگرچاہے بے شک اللہ علم وحکمت والاہے ۔(سورۃ التوبہ ۲۸)۲۔بالغ ہو،بچہ پرحج فرض نہیں بلکہ عمرکی ایک خاص حدتک کوئی عبادت بھی فرض نہیں ۔ترغیب اورترتیب ضرورہونی چاہیے ۔آقاﷺ نے فرمایا’’تین انسانوں سے مواخذہ نہیں ہوگا۔۱۔سویاہواآدمی جب تک وہ جاگ نہ جائے ۲۔بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے ۳۔اورپاگل جب تک کہ اس کی عقل کام نہ شروع کردے ۳۔عاقل ہویعنی اسکے ہوش وحواس قائم ہوں۴۔آزادی ،غلام پرحج فرض نہیں ۵۔صاحبِ استطاعت ۶۔زندگی میں صرف ایک مرتبہ حج فرض ہے اس سے زیادہ نفلی ہے۔حدیث پاک میں ہے کہ’’حج صرف زندگی میں ایک دفعہ فرض ہے جس نے ایک دفعہ سے زیادہ کیاتووہ نفلی ہے۔(ابوداؤد،نسائی)
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آقاﷺ کی خدمت اقدس میں ایک دیہاتی حاضرہوااورعرض کیاکہ اللہ کے رسولﷺ کیاآپؐ ہمیں اللہ پاک کی وحدانیت ،الوہیت اور اپنی رسالت کاحکم دیتے ہیں ۔آپﷺ نے فرمایاہاں!پھراس نے سوال کیاکہ آپﷺ ہمیں نمازکاحکم دیتے ہیں آپﷺ نے فرمایاہاں اس نے جواباًعرض کیاکتنی نمازیںآپﷺنے فرمایاکہ دن اوررات میں کل پانچ ،اس نے پوچھااس کے علاوہ کوئی نمازجوفرض ہو،آپ ﷺ نے فرمایانہیں ہاں نوافل ہیں جس قدرتم اپنی طاقت سے ادا کرلو۔اس نے سوال کیاکہ”آپﷺ ہمیں زکوٰۃ کاحکم دیتے ہیں “؟فرمایاہاں جب کہ تمہارے اموال کوسال گزرجائے تم پرزکوٰۃ فرض ہے اس نے پوچھا،اس کے علاوہ کوئی صدقہ؟(یعنی کوئی فرض صدقہ)؟آپﷺ نے فرمایانہیں البتہ نفلی صدقہ ہے جوتم اپنی مرضی اورخوشی سے دے دو۔اس نے سوال کیاکہ آپﷺ ہمیں سال میں 1ماہ روزے رکھنے کاحکم دیتے ہیں ۔آپ ﷺ نے ارشادفرمایاہاں سال میں 1ماہ یعنی ماہ رمضان کے روزے تم پرفرض ہیں ۔اس نے سوال کیاکہ اس کے علاوہ کوئی روزہ(فرضی روزہ)؟آپﷺ نے جواب دیانہیں مگرنفلی روزے ہیں جس قدرطاقت ہوان کاالتزام کرسکتے ہیں۔اس نے دریافت کیاکہ آپﷺ ہمیں استطاعت ہونے پرزندگی میں ایک دفعہ حج کاحکم دیتے ہیں ؟آپﷺ نے ارشادفرمایاہاں ۔وہ شخص اٹھااورباآوازقسم اٹھاکرکہنے لگا’’کہ اللہ کی قسم میں نہ تواس سے زیادہ کچھ کروں گااورنہ ان میں کچھ کمی کروں گا‘‘یہ کہہ کروہ شخص چل دیا۔آپﷺ نے فرمایاکہ جوشخص زمین پراہل جنت میں سے کسی کودیکھناچاہتاہووہ اس شخص کودیکھ لے “۔(متفق علیہ)اللہ پاک کے احکامات کی پابندی اوربجاآوری انسان کے لئے جنت میں داخلہ کاسبب ہے ۔لیکن جوشخص بنی اسرائیل کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے چندپرعمل کریگااورچندکوضائع کردے توایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلااعلان ہے ۔کہ’’ایسے شخص کی سزا(جوکتاب کے بعض حصہ پرایمان لائے اوربعض کاانکارکردے یاضائع کردے)دنیامیں ذلت ہے اورقیامت کے دن وہ ایک انتہائی سخت عذاب کی طرف لوٹادئیے جائیں اورجان لوکہ تمہارارب تمہارے اعمال سے غافل نہیں‘‘۔نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا’’جس شخص نے اللہ پاک کے احکامات کوپوراکیااور اسلام کی عمارت کی حفاظت کی اللہ اسے عزتیں دے گااس کی حفاظت کریگا۔لیکن جس شخص نے اللہ کے احکامات کوپورانہ کیااسلام کی عمارت کونقصان پہنچایا۔اللہ پاک ایسے شخص کوضائع کردے گا ۔ اوردونوں جہانوں میں ذلت اوررسوائی اسکامقدرٹھہرے گی۔حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایا’’حج اورعمرہ باربارکیاکروکیونکہ ان کاباربارکرناغربت اورگناہوں کواس طرح مٹادیتاہے جیسے بھٹی لوہے کی میل دورکرتی ہے ۔(ابن ماجہ)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا”جس شخص نے اللہ کی رضاکے لئے حج کیااورفحش کلامی نہ کی اورنہ فسق کی باتیں کیں جب (حج)کرکے لوٹے گاتوایساہوگاجیسے اسکی ماں نے اسے ابھی جناہو”(متفق علیہ )درج بالااحادیث میں واردہے کہ جوشخص ادائیگی حج اور حج کے دنوں میں گناہوں سے بازآجائے تواسکے سابقہ تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمرؓ کوارشادفرمایااے عمرؓ! کیاتونہیں جانتاکہ اسلام لانااسلام قبول کرنے سے پہلے والے گناہوں کومٹادیتاہے اورہجرت پہلے کے گناہوں کو مٹادیتی ہے اوربے شک حج سابقہ گناہوں کوگرادیتاہے اس حدیث مبارکہ میں تین باتوں کی وضاحت کی گئی ہے ،اول یہ کہ اگرکوئی غیرمذہب اسلام قبول کرلے تواسکے زمانہ کفرکے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،دوسرایہ کہ راہ خدامیں ہجرت کرنے سے پہلے کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اورحج کرنے سے سابقہ گناہوں کی بخشش ہوجاتی ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ “حج گناہوں کویوں دھوڈالتاہے جیسے پانی میل کو”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آقاﷺ نے ارشادفرمایاکہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے درمیانی گناہوں کومٹادیتاہے اورحج مقبول کی جزاصرف جنت ہے ۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضرہوااورعرض کی یارسول اللہ ﷺ میری بہن نے حج کی منت مانی تھی اوروہ مرگئی تونبی کریمﷺ نے فرمایااگراس پرقرض ہوتاتوتواداکرتاعرض کیا جی ہاں !آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایااللہ پاک کاقرض بھی ادا کرووہ توزیادہ اداکرنے کے لائق ہے ۔(مسلم ،بخاری)ایک روایت میں ہے ’’یہ گھر (کعبہ)مسلمانوں کامرکزہے جوکوئی اس کی طرف حج وعمرہ کی غرض سے نکلے یانکلنے کا ارادہ رکھتاہووہ بندہ اللہ پاک کی ضمانت میں ہے اللہ پاک کی نگرانی میں ہے اگروہ اس کوقبض کرلے (یعنی دوران حج مرجائے)تواس کی ضمانت ہے کہ وہ جنت میں داخل کردیگااوراگراس کوواپس کردے (یعنی بخیروعافیت واپس اہل عیال میں آگیا)تووہ اس کودنیااورآخرت کی بھلائیاں عطاکرے گا۔ (طبرانی فی الاوسط) حضرت عمروبن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت میرے دل میں ڈال دی تومیں قبولیت اسلام کی غرض سے آقاﷺ کی خدمت اقدس میں حاضرہوااورمیں نے کہاکہ اے اللہ کے رسولﷺ اپنا ہاتھ پھیلائیے میں آپؐ کی بیعت کرناچاہتاہوں ۔آقاﷺ نے اپناہاتھ آگے بڑھایاتو میں نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑلیا آپﷺ نے فرمایاکیاچاہتے ہومیں نے عرض کیاکہ اللہ کے رسول ﷺ ایک شرط پراسلام قبول کرناچاہتاہوں فرمایابولوکیاشرط ہے؟عرض کی بس اللہ تعالیٰ سے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی کاطالب ہوںآپﷺ نے فرمایاکہ اے عمروجان لو!جب بندہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتاہے تواللہ تعالیٰ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیتاہے ۔اس طرح ہجرت بھی سابقہ گناہوں کوختم کردیتی ہے اورحج بھی پچھلی زندگی کے تمام گناہوں کومعاف کردیتاہے ۔ (مسلم ،ابن خزیمہ ) ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ !عورتوں پرجہادہے فرمایاہاں ان کے ذمہ وہ جہادہے جس میں لڑنا نہیں حج وعمرہ (ابن ماجہ)اورصحیحین میں انہیں سے مروی ہے کہ فرمایاتمہاراجہادحج ہے ۔ارشادنبویﷺ ہے کہ’’بے شک اللہ کی رحمت کے فرشتے حجاج سے معانقے کرتے ہیں ان سے مصافحے کرتے ہیں اورصرف یہی نہیں بلکہ حاجی کے ایک ایک قدم کے بدلے اللہ پاک اس کواجروثواب سے نوازتاہے ۔’’ارشادنبویﷺ ہے کہ ’’وہ حاجی جوسواری پرسوارہوکرآتاہے اس کی سواری کے ایک قدم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ70گنااورجوپیدل چل کرآتاہے ،اللہ پاک اس کوایک قدم کے بدلہ میں 700گنا تک اجروثواب عطافرماتاہے‘‘۔(الطبرانی والبزار)اللہ رب العزت حاجی سے اتناخوش ہوتاہے کہ وہ اس کے گناہ معاف کردیتاہے ۔حجۃ الوداع کے موقع پرجب آپﷺ مزدلفہ میں صبح کے وقت ذکرواذکارمیں مصروف تھے کہ اچانک آپﷺ نے مسکراناشروع کردیا۔صحابہ کرام علہم الرضوان (خاص طورپرراوی حدیث حضرت عمرؓ)نے کہاکہ :’’اے اللہ کے رسولﷺ اللہ پاک آپ کو یونہی مسکراتارکھے ۔آپﷺ یونہی ہم میں اپنی مسکراہٹوں کے پھول اورمو تی بانٹتے رہیں لیکن آپﷺ کے مسکرانے کاسبب ہمیں نظرنہیں آیاآپﷺ کے مسکرانے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی کہ کس چیزنے آپﷺ کومسکرایا،آپﷺ نے فرمایا’’بے شک تم لوگوں نے صحیح کہاہے ،جومیں دیکھ رہاہوں تم نہیں دیکھ سکتے ۔ میں دیکھ رہاہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میری دعاکی وجہ سے میری امت کومعافی دینے کااعلان فرمایا،تومیں دیکھ رہاہوں کہ اللہ کادشمن شیطان ابلیس واویلاکررہا ہے ،بین کر رہاہے اورکہہ رہاہے ہائے افسوس!ہائے افسوس! میری ساری محنت ضائع ہوگئی میں بربادہوگیامجھے اس کی یہ ذلت آمیزحالت دیکھ کے ہنسی آگئی۔(ابن ماجہ،احمد) حاجی کی دعاکی فضیلت
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’عمرہ اورحج کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اگروہ اللہ سے دعامانگیں تواللہ تعالیٰ ان کی دعاقبول فرمائے گااوراگروہ اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگیں توان کی بخشش فرمادے گا۔(ابن ماجہ)حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺسے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی توآپ ﷺنے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا’’بھائی اپنی دعاؤں میں ہمیں بھی شامل رکھنااوراپنی کسی دعامیں ہمیں نہ بھولنا‘‘۔(ابن ماجہ)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آقاﷺنے ارشادفرمایا’’حاجی کی مغفرت ہوجاتی ہے اورحاجی جس کے لئے استغفارکرے اس کے لئے بھی۔(طبرانی)
سفرپرروانگی اورسفرسے واپسی کی نماز
سفرکوجاتے وقت روانگی سے پہلے اپنے گھرمیں دورکعتیں نمازسفر(سفرکی نیت)پڑھناسنت نبویﷺ ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایاکسی نے اپنے گھر والوں میں دورکعتوں سے بہتر(نائب ومحافظ)نہ چھوڑاجن کووہ سفرکے ارادہ کے وقت اپنے گھروالوں پرپڑھتاہے۔(طبرانی)سفرسے واپس ہوکربھی مسجد میں دورکعت نفل پڑھناسنت مصطفیﷺ ہے حضرت کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ سفرسے واپس دن میں چاشت کے وقت تشریف لاتے (رات میں تشریف نہ لاتے)اورواپسی پرپہلے مسجدمیں تشریف لاتے اوردورکعت نفل پڑھتے پھروہیں مسجدمیں (کچھ دیر)تشریف رکھتے ۔(مسلم شریف)
حج کرنے والے کوگھرمیں آنے سے پہلے ملنا
حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجب توحاجی سے ملے تواسکوسلام دے اس سے مصافحہ کراوراس سے کہہ کہ اپنے گھرمیں داخل ہونے سے پہلے تیرے لئے استغفارکرے کیونکہ وہ بخشاہواہے (رواہ احمد)
صاحب استطاعت ہونے کے باوجودحج نہ کرنا
حج نہ کرناسخت گناہ ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے ارشادفرمایاہے “اورجوانکارکرے تواللہ پاک سارے جہانوں سے بے پرواہ ہے ‘‘۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایاجوزاداورسواری کامالک ہوجواسے بیت اللہ تک پہنچاسکے اورحج نہ کرے تواسکے لئے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ وہ یہودی ہوکرمرے یانصرانی۔(ترمذی)حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجسکوظاہرحاجت یاظالم بادشاہ ،یاخطرناک مرض حج سے نہ روکے وہ مرجائے اورحج نہ کیاہوپس چاہے وہ یہودی ہوکرمرے چاہے نصرانی ہوکرمرے،۔یہودی اورنصرانی دوایسی امتیں ہیں جوشخص ان میں سے ہوکرمرے گااسکی نجات مشکل ہے اوراسکاٹھکانہ جہنم ہوگاامیرالمومنین حضرت عمرفاروقِ اعظمؓ نے فرمایاکہ میں نے ارادہ کیاہے کہ اپنی سلطنت کے ہرشہر میں ایک ایک آفیسرکی تقرری کروں جوصرف اس بات کوچیک کرے کہ کون شخص صاحب استطاعت ہونے کے باوجودحج نہیں کرتاپھرایسے لوگوں پرجزیہ مقررکردوں کیونکہ ایسے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔آخرمیں میری تمام حجاج کرام سے اپیل ہے کہ جب پہلی نظراللہ پاک کے گھرپرپڑے تومیرے لئے بھی دعاکرنا۔ گنبدخضرا پرجاکرمیری طرف سے درودوسلام کے نذرانے پیش کرنااوردعاکرناکہ اللہ پاک نبی کریم ﷺکی محبت اورشفقت دونوں جہاں میں نصیب فرمائے۔وطن عزیزپاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔ملک پاکستان میں نظام مصطفیﷺبرپاکرنیوالاحکمران عطا فرمائے۔ مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے۔اللہ رب العالمین آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںﷺ کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے۔ کفارومشرکین،منافقین، حاسدین کامنہ کالافرمائے ۔ حضورﷺکے غلاموں کادونوں جہانوں میں بول بالافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *