بغاوت کے مقدمات ریاستی رٹ مقدم رکھنے کا حکومتی فیصلہ

لاہور: (تجزیہ: سلمان غنی) دھرنا، توڑ پھوڑ ، قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں تحریک لبیک کی لیڈر شپ کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات ظاہر کر رہے ہیں کہ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب حکومتی رٹ پر کسی کو اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کو قومی مفادات کو پامال کرنے دیا جائے گا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی نوبت کیونکر آئی کہ ایک جماعت کے ذمہ دار ریاستی اداروں کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ حکومتی اور ریاستی رٹ پر اثر انداز ہوتے رہے۔ دن دہاڑے گھیراؤ، جلاؤ نظر آتا رہا مگر امن و امان کے ذمہ دار اداروں کی عدم موجودگی نے بہت سے سوالات کھڑے کر دئیے اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا۔ مقدمات درج کرنے کی اطلاعات بھی تھیں اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ملکی سیاسی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ بعض گروہ قانون کو ہاتھ میں لیتے نظر آئے مگر ریاست اور حکومت اس سے صرف نظر برتتی رہی، سوات کی صورتحال، لال مسجد کے واقعہ سمیت متعدد واقعات ایسے ہیں جو پنپتے دیکھے گئے مگر بروقت کارروائی نہ ہونے سے بیماری کا علاج نہ ہوا اور پھر آپریشن کرنا پڑا لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امن و امان، ملکی استحکام اور خصوصاً ملکی معیشت پر کسی کو اپنا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ اس میں ملوث ہو تو اس کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہیے۔آسیہ کے حوالے سے آنے والے فیصلہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ملک کو بھی بدنام کیا اور حکومت اور ریاست کی کمزوری کا پہلو بھی ابھرا لہٰذا اچھی بات ہے کہ اس حوالے سے کسی عدالتی فیصلہ سے قبل حکومت نے مقدمات درج کرنے کا فیصلہ اور اس کا اعلان کیا، اس سے پیغام ملا ہے کہ حکومتی رٹ پر اثر انداز ہونے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ملکی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بعض انتہا پسندوں کے حوالے سے لچک نے خود ریاست کیلئے مسائل پیدا کئے ہیں۔ایسے گروہ اور جماعتیں جن کی خلاف قانون سرگرمیوں سے شروع میں نمٹنا بہت آسان رہا مگر بوجوہ ان کی سرگرمیوں سے صرف نظر برتنے کے بعد انہوں نے توانا حیثیت حاصل کی جس کے باعث بعد میں بھرپور آپریشن کرنا پڑا۔ لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ اگر پاکستان کو آگے کی طرف بڑھنا ہے تو انتہا پسندی اور شدت پسندی کے حامل گروپوں اور گروہوں کو جو غیر قانونی و غیر آئینی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان سے نجات اور سدباب کیلئے ممکنہ اقدامات کئے جائیں تا کہ پاکستان ایک نیوکلیئر پاور کے ساتھ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *