اقوام عالم کا کبھی تو ضمیر بیدار ہوگا

تحریر: ڈاکٹر ایم ایچ بابر


آخر کار ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اپنی غلطی کا احساس ہو ہی گیا جس نے میانمار کی چڑیلانسانی لبادے میں بھیڑیا صفت عورت آنگ سانگ سوچی کو ۲۰۰۹ ؁ء میں دوران نظر بندی ضمیر کی سفیر کا ایوارڈ دے دیا تھا حالانکہ اس خاتون میں ضمیر نام کی کوئی چیز سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ ضمیر انسان میں ہوتا ہے اور انسان اسے کہتے ہیں جس میں انسانیت بدرجہ اتم موجود ہولہٰذہ ایک عشرے کے بعد ایمنسٹی انٹر نیشنل کے ضمیر نے انہیں جھنجھوڑ ڈالا کہ کتنی فاش غلطی ہو گئی تھی ان سے جنہوں نے انسانیت سے نابلد ایک درندہ صفت عورت کو ضمیر کی سفیر مان کر ایوارڈ سے نواز دیا تھا چلو خیر دیر آید درست آید۔ایک ایسی عورت کو ضمیر کی سفارت کرنے والی مان لیا جو میانمار کے روہنگیا مسلم انسانی وجودوں کو اس طرح کاٹ اور کٹوا رہی ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ برمی سرزمین پر بسنے والے روہنگیا مسلمانوہاں کاشت ہونے والی سبزیاں گاجر،مولی،ٹینڈیاور کدو وغیرہ ہوں اسی لئے انہیں کاٹ کاٹ کر بھون ڈالا گیا نہ عورت دیکھی ،نہ مرد ،نہ بچے ،نہ بوڑھیاور بیمار بلکہ ان کی نسل کشی اس سپیڈ سے کرواتی رہی جیسے اس کے حواریوں کے ہاتھوں میں 4G چھرے اور خنجر ہوں۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کی انسانی غیرت بیدار ہوئی اور انہوں نے ایک وحشیہ سے ایوارڈ واپس لے لیا اب دیکھئے اقوام عالم (یو این او) کا ضمیر کب بیدار ہوتا ہے جنہوں نے اسی درندہ صفت عورت آنگ سانگ سوچی کو امن کا نوبل انعام دے رکھا ہے امن تو اسکے خمیر میں بھی شامل نہیں اسقدر ظالم عورت کہ اسکی بربریت کے سامنے ہلاکو خان اور چنگیز خان جیسے جابر و سفاک اور یزید وشمر جیسے ظالم لوگوں کی روحیں تک کانپ اٹھی ہوں ۔ جس طرح ایمنسٹی انٹر نیشنل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا بالکل اسی طرح اقوام متحدہ کا ضمیر مسلمانوں کے حوالے سے کب جاگے گا ؟؟؟جب وہ اقوام عالم کا نمائندہ ادارہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے فلسطین اور کشمیر کے نہتے مسلمانوں کو یہودی اور ہندو ظالموں اور غاصبوں سے چھٹکارہ دلانے کا سوچے گا کب یو این او کو گرتے ہوئے بے قصور جوان لاشے دکھائی دیں گے ؟کب اسکی آنکھوں سے مسلم دشمنی کے تعصب کی عینک اترے گی ؟کب وہ معصوم لٹتی ہوئی عصمتوں کو تار تار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ کرے گا ؟کیا کشمیری مظلوم اور مجبور مسلمانوں کی آزادی کے لئے اقوام متحدہ کی امن فورس کچھ نہیں کر سکتی ؟کیا یو این او کا امن مشن صرف غیر مسلموں کی امداد کے لئے کام کرتا ہے یا وہ فلسطینی مسلمانوں پر بے دریغ بمباری کرنے والے یہودی کے خوف سے لرز جاتی ہے ؟یا پھر یو این او کی امن فوج مسلم امہ کے قتل عام کو ہی امن سے تعبیر کرتی ہے ؟آٹھ لاکھ کے قریب بھارتی بھیڑیئے گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کے معصوم مسلمانوں کو خودرو جڑی بوٹیوں کی طرح تلف کرہے ہیں مسلسل سات دہائیوں سے ہندو درندے کشمیر کی ہزاروں بیٹیوں کی عصمتوں کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں ،لاکھوں مسلمانوں کے خون سے سرزمین کشمیر سیراب ہو چکی ہے اب تک کئی سالوں سے ہندوستان کے پالتو کتے مسلمانان کشمیر کی بوٹیاں نوچ رہے ہیں مگر افسوس نہ تو اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر کوئی عمل کروا سکااور نہ ہی انسانیت پرستی کا دعوے داردنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام کو انسانیت کا قتل قرار دے سکا۔جب دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی امن فوج قیام امن کے لئے جا سکتی ہے تو پھر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے تدارک کے لئے آج تک کوئی امن فوج کیوں نہیں بھیج پایا یہ اقوام متحدہ ؟کیا یہ یہودی لابی اور ہندو بنیے کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے خود یہ نام نہاد اقوام متحدہ ؟ دنیا کے منصفو یقین جانو مسلمان بھی انسان ہی ہوتے ہیں بلکہ یہ تو محسن ا نسانیت ﷺ کے پیرو ہیں مگر ان کی آزادی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئیپہلے انسانی غیرت و حمیت کی ضرورت ہے جو شائید مسلمانوں کے لئے یہودی ،ہندو اور بدھ نواز اقوام متحدہ میں سرے سے ہے ہی نہیں ۔ہاں اس میں صرف غیر مسلم اقوام متحدہ ہی قصوروار نہیں بلکہ مسلم امہ بھی اتنی ہی دوشی ہے کیونکہ تمام مسلم ممالک کو فرقہ واریت کی وباء نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس مرض میں مبتلا ہو کر مسلمان دن بدن کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں سعودیہ ،ایران، یمن ،شام ایک دوسرے ہی کے خلاف نبرد آزما ہیں ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے بیٹھے ہیں اور باقی مسلمان ممالک کچھ امریکن لابی والے جو سعودیہ کے حمائتی ہیں اور روسی لابی والے ایران اور شام کے ساتھ ۔اگر آنکھوں سے پٹی کھول کر دیکھیں تو نہ ہی امریکہ مسلمانوں کو ایک آنکھ دیکھ کر خوش ہے کیونکہ وہ یہودیان اسرائیل کا پروردہ ہے یہودی زمانہ ء رسالت ﷺ سے لے کر آج تلک مسلمانوں اور اسلام کو مٹانے کے درپے ہے ۔دوسری طرف روس ہے جو کیمونسٹ ہے ۔کیمونسٹ وہ لوگ جو خدائے واحدہٗ لاشریک کو ہی نہیں مانتے جو جینیٹیک سسٹم پر یقین رکھتے ہیں جب وہ خدائے لم یزل کو ہی نہیں مانتے تو پھر اسی خدا کے آخری رسول ﷺ کی امت کے خیر خواہ بھلا کیسے ہو سکتے ہیں ماہء نزول مصطفٰی ﷺ میں میری ایک ہی خواہش ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنے فروعی اختلافات کو بالائے تاک رکھتے ہوئے یہود و ہنود کے چنگل سے آزاد ہوکر ایک دوسرے کا دست و بازو بن جائیں اور جہاں جہاں کوئی مسلمان آباد ہے بلا تفریق شیعہ ،سنی ،وہابی و دیوبندی ایک ایک دوسرے کی پکار پر لبیک کہنا شروع کر دیں قسم بخدا اگر ایسا ہو جائے تو کشمیر ہو یا فلسطین ،بوسنیا ہو یا برما یا دنیا کے کسی بھی خطے میں کسی غیر مسلم کی ہمت نہیں ہو گی کہ وہ کسی مسلمان کو ضرر پہنچا سکے کیونکہ تاریخ عالم گواہ ہے کہ ہم سب مسلمان بلا تفریق فقہ و فرقہ اسی نبی ﷺ کی امت ہیں جو ۳۱۳ مجاہدین کے قلیل لشکر کے ساتھ بھی ہزاروں کفار و مشرکین پر فتح یاب رہے آج بھی سب کچھ ممکن ہے اگر اربوں کی تعداد میں مسلمان ایک ہو جائیں تو آج بھی فاتح ہونگے شرط صرف اتحاد کی ہے ۔ جسے آپ یونائیٹڈ نیشن کہتے ہو وہ مسلمانوں کے معاملے میں بے دست و پا ہے اس لئے کہ ازل سے ابد تک کی تاریخ گواہ ہے مسلم دشمن تمام طاقتیں آپسی اختلافات کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ایک ہی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔خداوند ارض و سماء سے ایک ہی التجا ہے کہ اے مالک کون و مکاں تمام کلمہ گو مسلمانوں میں اتحاد قائم فرما تا کہ یہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکیں محکوم و مجبور مسلمانوں کے لئے متحد ہو کر انکو ضالموں اور غاصبوں سے چھٹکارہ دلا سکیں ( آمین)
ایک موہوم سی یہ بھی امید رکھتا ہوں کہ شائید اقوام عالم کا ضمیر کبھی بیدار ہو جائے جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ہوا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *