درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 24

عباسی، ہیر چند اور چمار کے ہزار چیخنے چلانے اور پتھر مارنے کے باوجود گلدار جھاڑ سے نہ نکلا۔ چمارنے عباسی کے ہاتھ سے لاٹھی لے لی اور جھاڑ کی طرف چلا۔۔۔سب نے اسے منع کیا اور کہا کہ خان صاحب نے جھاڑ کے قریب جانے سے روکا ہے،لیکن اس بے وقوف نے ایک نہ سنی اور جھاڑ کے قریب پہنچ کر پوری قوت سے لاٹھی جھاڑ میں ماری۔اتفاق سے گلدار اسی جگہ پناہ لیے ہوئے تھا جس جگہ چمار کی لاٹھی برسی۔لاٹھی اور جھاڑ کی کانٹے دار شاخیں گلدار کے لگیں۔لاٹھی کا لگنا تھا کہ گلدار بم کے گولے کی طرح پھٹا اور ہولناک گرج کے ساتھ دائیں جانب جست کی اور چمار کے پاس آگرا۔ چمار ب تحاشا خالد اور نین سنگھ کے بیچ میں سے ہوتا ہوا سڑک کی جانب بھاگا۔گلدار غراتا ہوا اس کے تعاقب میں تھا۔ نین سنگھ اور خالد نے گلدار کو کبھی اتنے قریب سے اور کسی آدمی پر حملہ کرنے نہیں دیکھا تھا۔اس لیے ان کی ہمت نہ ہوئی کہ گلدار پر فائر کر سکیں جو ان دونوں سے صرف دس بارہ گز کے فاصلے پر چمار کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ یہ دل دہلا دینے والامنظر دیکھ کر سبھی کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ نین سنگھ نے اپنی پوری قوت سے چلا کر کہا:’’جسے اپنی جان بچانی ہو بھاگ لے‘‘ یہ کہہ کر وہ پوری رفتار سے سڑک کے کنارے کنارے گاؤں سے مخالف سمت کو بھاگا۔ خالد نے بھی ڈر کر راہ فرار اختیار کی اور پانچ فٹ اونچے تار کو پھلانگ گیا۔ اتنا اونچا وہ کبھی عام طور پر کودہی نہیں سکتا تھا۔اس کی پتلون کے ایک پائنچے کا کچھ حصہ تار ہی میں الجھا رہ گیا۔ تاروں کے دوسری طرف اپنے آپ کو محفوظ سمجھ کر اب وہ کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے۔

ہری چند کا حال سب سے پتلا تھا۔ اپنی تمام بزعم خود بہادری اور دلیری کے باوجود زمین کو غیر معمولی رفتار سے روندتا ہوا بھاگ رہا تھا، اس نے اپنی پتلون دونوں ہاتھوں سے تھام رکھی تھی جو تو ند سے ڈھیلی ہو کر ناف سے بھی کہیں نیچے اتر چکی تھی۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں بھی نکل رہی تھیں۔۔۔عباسی، جسے گلدار سے مقابلہ کرنے کی تمنا تھی۔ چھوٹی موٹی جھاڑیاں پھلانگتا ہوا ایک طرف کو بے تحاشا بھاگ رہا تھا۔۔۔ اور خزاں سنگھ کا کوئی پتہ نہ تھا۔

ان چند نازک لمحوں میں گلدار کی گرج سن کر اور اسے دائیں جانب جست کرتے پا کر میں بھی ادھر پہنچ چکا تھا۔گلدار چمار کے پیچھے تھا، لیکن زیادہ زخمی ہونے کے باعث وہ چمار کو پکڑ لینے میں کامیاب نہ ہو سکا جو اپنی جان بچانے کے لیے اندھا دھند دوڑ رہا تھا اور بڑی حد تک جان بچانے کی کوشش میں کامیاب ہو چکا تھا۔ گلدار نے دیکھا کہ شکار اس کی دسترس سے نکلا جارہا ہے تو وہ زمین سے منہ لگا کر پوری قوت سے دھاڑا۔ اس کا یہ انداز کارگر ثابت ہوا۔چمار کے قدم زمین نے جیسے پکڑ لیے، اس پر سکتے کا عالم طاری ہو گیا۔ اب وہ بھاگنے کی بجائے گلدار کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میرے دیکھتے دیکھتے گلدار نے قریب پہنچ کر اگلا پنجہ چمار کے پاؤں پر مارا۔ چمار دھڑام سے زمین پر چت گرا۔گلدار نے بجلی کی طرح لپک کر اپنے دانت چمار کے پیٹ میں گاڑ دیئے۔اب میں اس شش و پنج میں تھا کہ کیا کروں؟جب گلدار چمار کے پیچھے بھاگ رہا تھا تو میں فائر نہ کرنے پر مجبور تھا، اس لیے کہ گولی گلدار کی بجائے چمار کا بھیجا بھی چیر سکتی تھی۔ گلدار نے چمار کو اٹھا کر جھاڑیوں میں لے جانا چاہاکہ میں چیختا ہوا ادھر دوڑا اور گلدار سے کوئی دس گز قریب پہنچ کر رکا۔ گلدار ا تنی دیر میں چمار کو اپنے جبڑے میں دبا کر زمین سے اٹھا چکا تھا۔ میں نے اسے گلا پھاڑ کر ڈانٹا۔میری پہلی ڈانٹ کو تو وہ نظر انداز کر گیا لیکن دوسری ڈانٹ پر اس نے اپنی شعلہ بار نگاہیں میری جانب اٹھائیں اور چمار کو ایک جھٹکے سے زمین پر پھینک کر مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔

اب صورت حال نہایت سنجیدہ اور نازک ہو رہی تھی۔ گلدار غراتا ہوا حملے کی نیت سے میری طرف بڑھ رہا تھا، لیکن میں فائر نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ عقب میں چمار زمین پر لہولہان پڑا تھا۔ میں فائر کرتا، تو شاید گولی گلدارکی بجائے سیدھی چمار کو لگتی۔ موت ہر لمحہ مجھ سے قریب تر ہو رہی تھی اورادھر واقعی میرے اوسان خطا ہو چکے تھے۔ دفعتہً میرے دماغ نے کام کیا اور میں دائیں جانب بھاگا۔ چند قدم بھاگنے کے بعد چمار میرے نشانے کی زد سے ہٹ گیا تھا۔ میں رکا، اپنے ہوش و حواس درست کیے، بندوق کندھے سے لگا کر شست لی۔ گلدار کی کھوپڑی بندوق کی مکھی کی سیدھ میں تھی۔ میں نے ایک دو سکینڈ کے لئے سانس روکا تاکہ بندوق نہ ہلے، پھرٹریگر دبا دیا۔ ایک دھماکے کے ساتھ بندوق سے نکلا ہوا گرم گرم سیسہ گلدار کی کھوپڑی میں اتر کر اسے زمین پر گرا چکا تھا۔ میں نے ایک لمحہ توقف کے بعد دوسرا فائر کیا۔ گلدار کی دم ابھی تک جنبش میں تھی، گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اس میں ابھی دم خم باقی ہے۔میں نے سنسار کے ہاتھ میں خالی بندوق دے کر بھری ہوئی بندوق اس سے لے لی، اور گلدار کے سر پر رکھ کر تیسرا فائر کر دیا۔ اب دم کا ہلنا بھی موقوف تھا۔ گلدار تو ختم ہوا۔لیکن میں پسینے میں شرابور زمین پر گر کر کتے کی طرح ہانپ رہا تھا۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *