درندوں کے شکاری کی سرگزشت…قسط نمبر 23

جس جگہ عباسی اور نین سنگھ الجھ کر گڑ پڑے تھے اور اٹھنے کی ناکام کوشش کررہے تھے،اس سے صرف سات یا آٹھ گز کے فاصلے پر جھاڑی کے اندر میں زخمی گلدار دیکھ چکا تھا۔اس نے اپنا سر باہر نکال کر آواز بلند کی تھی اور پھر جھاڑیوں میں گھس گیا تھا۔ اس وقت اگر قدرت رحم نہ کرتی تو عباسی اور نین سنگھ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے تھے۔یہ صرف قدرت کا کرم تھا جس نے گلدار کو حملہ کرنے سے روکا اور اس نے صرف گرج کر ہمیں دھمکانے پر اکتفا کیا۔ میں نے بندوق شانے سے لگا کر اس جھاڑی کا نشانہ لیا اور تینوں سے کہا کہ جلدی یہاں،سے نکلو۔خدا خدا کرکے عباسی اور نین سنگھ وہاں سے اٹھے اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے۔اطہر بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ میں بندوق کی نالی کا رخ جھاڑی کی طرف کیے، الٹے پیروں چلا اورخدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک بہت بڑا حادثہ ہونے سے بچالی۔ایک قیمتی تجربہ یہ بھی حاصل ہوا کہ بشیر اگر زیادہ زخمی ہو، تو صرف ڈیڑھ سو گز چل کر بھی بیٹھ سکتا ہے۔
اب سوال یہ تھا کہ اس خطرناک زخمی گلدار کو کس طرح موت کے حوالے کیا جائے؟اس موضوع پر بحث ہونے لگی۔تھوڑی دیر بعد جو لوگ ٹریکٹر پر گئے تھے، واپس آگئے۔ انہوں نے جنگلی سور اور ایک پاڑہ مار لیا تھا۔ جنگلی سور محمود پور کے ایک چمار کو دے دیا گیا جو مدت سے شکار کی مہموں میں ہمارا ساتھی تھا۔

یکایک ایک تدبیر میرے ذہن میں آئی۔میں نے ساتھیوں سے کہا:
اس سکیم کو سب نے پسند کیا۔ میں جان پر کھیل کر گیا، لیکن نامعلوم سبب سے گلدار حملہ آور نہ ہوا۔ اگرچہ ہم نے ساری جھاڑیاں ٹریکٹر سے روند ڈالیں۔اب صرف دو ہی طریقے تھے، اس زخمی گلدار کی تلاش کے۔۔۔پہلا تو یہ کہ میں اپنے دوست پر بھودیال کو پر چا لکھوں ۔ایک آدمی پر چالے کر دھن پور جائے اور وہاں سے ان کا ہاتھی لے کر آئے۔ہاتھی یہ اشارہ کر سکتا ہے کہ گل دار کہاں ہے،لیکن جب حساب لگایا گیا، تو پتہ چلا کہ ہاتھی یہ اشارہ کر سکتا ہے کہ گل دار کہاں ہے،لیکن جب حساب لگایا گیا، تو پتہ چلا کہ ہاتھی کم از کم کل صبح سے پہلے نہیں آسکتا۔ اس وقت تک نہ معلوم گلدار یہاں سے کتنی دور چلا جائے۔ دوسرا ذریعہ گلدار کو تلاش کرنے کا کتے تھے۔۔۔کتے یہ بتا سکتے تھے کہ گلدار کہاں چھپا ہوا ہے۔۔۔جس چمار کو ہم نے جنگلی سور دیا تھا، وہ کتے لانے کے لیے تیار ہو گیا۔
تقریباً آدھ گھنٹے بعد پندرہ کتوں کے ذریعے گلدار کی تلاش شروع ہو چکی تھی۔ اطہر کو ٹریکٹر پر چھوڑ دیا گیا کہ وہاں وہاں کھڑا ہو کر تماشا دیکھے۔ باقی افراد ساتھ تھے۔ کچھ دیر بعد ایک جھاڑی سونگھ کر کتا بھونکا۔دوسرے کتے بھی اس جھاڑی کی طرف لپکے اور زور زور سے بھونکنے اور اچھلنے لگی۔ تبھی گلدار نے جھاڑی میں سے غرا کر انہیں دھمکایا۔گلدار کی غراہٹ سن کر کتے دم دبا کر بھاگ نکلے۔ صرف تین کتے رہ گئے جو مسلسل جھاڑی کے پاس جاجا کر بھونکتے اور واپس چلے آتے۔گلدار نے تنگ آکر اس جھاڑی سے ہٹکر اگلی جھاڑی میں پناہ لی۔میرے لڑکے خالد نے اس کی پشت پر فائر کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اسے اس حماقت سے روکا۔یہ حرکت خطرناک تھی۔میں نے خالد کو ڈانٹا کہ درندے کے صرف اگلے حصے پر فائر کیا جائے۔تھوڑی دیر بعد گلدار اس جھاڑی کو بھی چھوڑ کر اگلی جھاڑی میں پہنچ چکا تھا۔
اس جھاڑی کا رقبہ اندازے کے مطابق25مربع گز ہو گا اور اس سے اگلا قریبی جھاڑ بھی بیس گز کے فاصلے پر بائیں جانب تھا۔ یہ جھاڑ جنگل کے بالکل آخری سر ے پر واقع تھا۔ اس کے دائیں جانب15گز پر کچی سڑک گزرتی تھی جو جنگل سے باہر تھی اور وہیں ہمارا ٹریکٹر کھڑا تھا۔ سڑک کے کنارے کنارے جنگل کی سرحد پر کانٹے والے تار لگے تھے جن کی اونچائی پانچ فٹ کے لگ بھگ ہو گی۔اس جھاڑ سے قریب دوسرا جھاڑ بیس گز بائیں طرف تھا اور پھر جھاڑیوں کا ایک طویل سلسلہ تھا۔بیس گز کا میدان جو دو جھاڑیوں کے بیچ تھا، دراصل یہی جگہ تھی جہاں گلدار مار کھا سکتا تھا۔
میں نے سب کو جمع کیا اور صورت حال سمجھائی۔خالد، نین ،سنگھ عباسی اور خزاں سنگھ کو دائیں طرف کھڑا کیا، کیونکہ گلدار کے اس طرف جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔بائیں طرف جدھر دوسرا جھاڑ تھا، میں سنسار کو لے کر کھڑا ہو گیا۔ ایک بندوق عباسی کے پاس اور ایک نین سنگھ کے ہاتھوں میں تھی۔ یہ دونوں دائیں طرف سڑک کے قریب ایک دوسرے کے آمنے سامنے دو گز کے فاصلے پر کھڑے تھے۔دوسری طرف ایک بندوق میرے ہاتھ میں تھی اور ایک سنسار کے ہاتھ میں۔میں نے سنسار کو اپنے قریب ہی کھڑا کر لیا تھا، تاکہ وقت آنے پر اپنی بندوق سے دونوں فائر کرکے خالی بندوق اسے دے کر اس سے بھری ہوئی بندوق لے لوں۔میں نے خزاں،ہری چند،عباسی اور چمار کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ وہ دائیں طرف سے خوب شور مچائیں۔جھاڑ میں دور سے پتھر ماریں،کتوں کو ہشکاریں تاکہ گلدار بائیں جانب نکلے، لیکن خبردار۔۔۔جھاڑ کے نزدیک نہ جائیں۔(جاری ہے )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *