نوادرات کے تحفظ کے نام پر محکمہ ثقافت سندھ کی لوٹ کھسوٹ

وائس نیوز گروپ آف میڈیا


سر جان مارشل نے جب موئن جو دڑو کے آثارِ قدیمہ دریافت کیے تھے، تو یہ کار ان کے استعمال میں تھی جو آج محکمہ ثقافت سندھ کی کرپشن کا عملی نمونہ ہے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

پاکستان ایک غریب ملک ہے جہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک لاکھ 26 ہزار کا عالمی قرضہ لے کر پیدا ہوتا ہے، جہاں آج بھی ملک کے بیشتر علاقوں میں لوگوں کو ایک وقت کی روٹی اور پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ لوگ علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کے سبب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہیں۔ مگر، اس کے باوجود، سرکاری ادارے نہ صرف دن رات کی لوٹ مار سے ملک کو قلاش کرتے نظر آتے ہیں بلکہ وہیں کمیشن کے حصول کےلیے بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ان ہی سرکاری اداروں میں ’’محکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات‘‘ سرفہرست ہے جس کا کام ملک کے قدیم تاریخی آثار کو محفوظ کرنا ہے مگر وہ تاریخی آثار کو محفوظ کرنے کے بجائے ان کے نام پر لوٹ مار میں مصروف ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایسے کئی ورثے (جن میں موئن جو دڑو، ہڑپہ اور مکلی قبرستان کے علاوہ عالمی ورثے کی حیثیت رکھنے والے دوسرے بہت سے مقامات شامل ہیں) عرصہ دراز سے مناسب مرمت اور دیکھ بھال سے محروم ہیں جس کی بناء پر یونیسکو کے ذیلی ادارے ’’عالمی ورثہ‘‘ (ورلڈ ہیریٹیج) نے پاکستان کو خبردار کر رکھا ہے کہ وہ فوری طور پر عالمی ورثے میں شامل جگہوں کو درست کرے ورنہ ان مقامات کو عالمی ورثے کی فہرست (ورلڈ ہیریٹیج لسٹ) سے نکال دیا جائے گا اور پاکستان ایک بار پھر گمنامی کے اندھیروں میں بھٹکنے لگے گا۔

یہ بلاگ بھی پڑھیے: مادرِ ملت اور اُن کے زیرِ استعمال رہنے والی گاڑیاں

مگر پاکستان کے محکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات نے بجائے ان ورثوں کے حالات درست کرنے کے تاریخ، نوادرات اور ورثوں کو اپنے کھانے پینے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس محکمے نے گزشتہ دنوں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی دو گاڑیوں کو (جن میں کیڈلک کار اور مرسڈیز شامل ہیں اور جو انتہائی گلی سڑی حالت میں آرکائیو کے دفتر کے باہر پڑی تھیں) اٹھا کر ان کی مرمت کا آغاز کیا اور 3 کروڑ روپے کی لا گت سے ان گاڑیوں کو نئی حالت میں لا کر قائداعظم ہاؤس میوزیم میں ایک شوکیس بنا کر اس میں رکھ دیا ہے۔ مگر کیونکہ قائداعظم ہاؤس میوزیم ایک حساس علاقے میں واقع ہے لہذا عام لوگوں کو اسے دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ ہاں! اتنا ضرور ہے کہ کبھی کبھی وی آئی پیز کو بلاکر، انہیں یہ گاڑیاں دکھا کر محکمہ اپنا دل خوش کرلیتا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ محکمے نے کمائی دھمائی کے معاملے میں اب بھی بس نہیں کیا اور موئن جو دڑو میوزیم میں کھڑی، انتہائی خستہ حال تاریخی کار کو کراچی لاکر قومی عجائب گھر میں کباڑ سے اٹی ایک کوٹھری میں اس کی مرمت کا آغاز کردیا ہے۔ فورڈ 1908 ماڈل کی یہ تاریخی کار (جس کا پلیٹ نمبر LHV-8975 ہے) ’’سر جان مارشل‘‘ کے استعمال میں رہی تھی۔ یہ وہی جان مارشل تھے جنہوں نے موئن جو دڑو کے آثارِ قدیمہ دریافت کیے تھے اور جو 1902 سے 1928 تک سروے آف انڈیا میں بطور ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی تعینات رہے تھے۔ مذکورہ گاڑی بھی موئن جو دڑو کی دریافت میں استعمال ہوئی تھی اور اسی وجہ سے تاریخی اہمیت بھی رکھتی ہے۔

محکمے کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اس بار اصل گاڑی کی مرمت کے ساتھ ساتھ اس کی ایک نقل بھی تیار کی جائے گی تاکہ اس گاڑی کو بیک وقت کراچی اور موئن جو دڑو میوزیم میں عوامی نمائش کےلیے رکھا جاسکے۔ اس گاڑی کے حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کے ایک ماہر کا (جو اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں) کہنا ہے کہ یہ گاڑی جس میں لکڑی کا کثرت سے استعمال ہوا ہے اور جو دیکھنے میں بھی انتہائی قدیم نظر آتی ہے، اسے موئن جو دڑو میوزیم میں ایک جیل نما کمرے میں محفوظ کردیا گیا تھا جہاں اسے موسمی اثرات سے بچانے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ مکمل طور پر گل سڑ گئی تھی۔

ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں اسے درست کرنے کی کوشش ضرور کی گئی مگر کیونکہ اس کی حالت شدید متاثر ہونے کے علاوہ عالمی قوا نین کے تحت اس کی قدیم حیثیت بھی ختم ہو رہی تھی، اس لیے اس میں زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ البتہ 2006 میں ایک بار اس قدیم گاڑی کے تحفظ کےلیے اقدامات کیے گئے اور فورڈ کمپنی کینیڈا سے رابطہ کیا گیا۔ مگر انہوں نے اس حوالے سے ٹال مٹول سے کام لیا جس کے پیش نظر جب مقامی کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے گاڑی کی مرمت کا تخمینہ ایک کروڑ روپے بتایا۔ تاہم محکمہ آثار قدیمہ کے پاس اتنے بڑے بجٹ نہیں ہوا کرتے تھے لہذا محکمے نے گاڑی کو، جو مکمل طور پر زنگ آلود اور تباہ حال ہوچکی تھی، ایسے ہی چھوڑ دیا۔
ایسے میں ایک نجی بینک کے سربراہ اپنے خاندان کے ہمراہ موئن جو دڑو میوزیم آئے تو انہوں نے اس گاڑی کی تباہ حالی دیکھتے ہوئے محکمے کو پیشکش کی کہ یہ گاڑی انہیں دے دی جائے تاکہ وہ اس کی مکمل مرمت کروا کر کچھ عرصے نمائش کےلیے رکھ کر اس پر اٹھنے والے اخراجات و صول کرلیں اور پھر اس گاڑی کو دوبا رہ محکمے کے حوالے کردیں۔ مگر محکمے نے اس گاڑی کی اہمیت کے پیشِ نظر اس پیشکش کو مسترد کردیا جس کے بعد سے یہ گاڑی موئن جو دڑو میوزیم میں بدستور موجود رہی۔
مگر جب اٹھارویں ترمیم کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کو سندھ حکومت کے حوالے لیا گیا اور سندھ کے تمام ثقافتی ورثوں اور نوادرات کے تحفظ کی ذمہ داری محکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات کو سونپی گئی تو اس نے عالمی ورثے میں شامل مقامات اور اشیاء کی حفاظت اور بحالی پر کام کرنے کے بجائے انہیں سجانے سنوارنے کے نام پر، اور بھاری کمیشن کھانے کےلیے، عجیب و غریب اقدامات کرنے شروع کردیئے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح کے زیر استعمال دو گاڑیوں (کیڈلک اور مرسڈیز بینز) کو، جو مکمل طور پر گل سڑ چکی تھیں، تین کروڑ کی لاگت سے نئے سرے سے بناکر قائداعظم ہاؤس میوزیم میں بنائے گئے شیشے کے گھر میں سجادیا۔ انہیں دیکھ کر آج کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ گاڑیاں محترمہ فاطمہ جناح کی ہیں کیونکہ ان میں اُس دور کی کوئی چیز شامل نہیں۔ اگر محکمے کو اتنا ہی شوق تھا تو وہ اس سے کم قیمت میں اسی ماڈل کی دو نئی گاڑیاں خرید کر سجادیتا اور انہیں محترمہ فاطمہ جناح کی گاڑیوں کے نام دے دیتا۔ یونیسکو کے عالمی ورثے میں باقاعدہ قانون موجود ہے جس کے تحت نوادرات یا ورثے میں معمولی سی تبدیلی بھی نہیں کی جاسکتی مگر یہاں تو گاڑی کے مکمل پرزہ جات، یہاں تک کہ باڈی تک تبدیل کردی جاتی ہے جس سے اس کی نوادرات کی حیثیت برقرار نہیں رہی اور نہ ہی دیکھنے والوں کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قدیم نوادرات میں سے ہے۔ ایسی صورت میں قدیم گاڑیوں کو نیا بنانا نہ صرف نامناسب عمل ہے بلکہ ملکی خزانے پر بوجھ ڈالنے کے مترادف بھی ہے۔ لہذا فوری طور پر اس قسم کے اقدامات اور نوادرات کو تباہ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
جب قومی عجائب گھر کے کھولی نما کمرے کا، جہاں سر جان ما رشل کی گاڑی کی مرمت کا کام ہورہا ہے، ایک سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس ورکشاپ کے چاروں اطراف میں کچرا کنڈی بنی ہوئی تھی اور دو عام مستری اس کار کی مرمت کررہے تھے۔ انہوں نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گاڑی مکمل طور پر تباہ و برباد ہوچکی ہے؛ یہاں تک کہ اس کا اصل فریم بھی نہیں۔ پرانی گاڑی کو دیکھتے ہوئے تمام چیزیں، حتی کہ فریم بھی نیا تیار کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ چونکہ اس گاڑی کا فرش لکڑی کا تھا اور اس کے دروازوں اور دیگر حصوں میں بھی لکڑی کا استعمال ہوا ہے، لہذا اسے دیار کی لکڑی سے تیار کیا جارہا ہے جو بہت مہنگی لکڑی ہے؛ اور اصل گاڑی کے ساتھ ایک اس کی نقل بھی تیار کی جارہی ہے تاکہ اسے بیک وقت موئن جو دڑواور کراچی عجائب گھر میں نمائش کےلیے رکھا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *