خان کا نیا پاکستان

پیام سحر۔۔۔۔اویس خالد


ایک عورت کی مچھیروں میں شادی ہوئی تو اسے بہت بد بو آئی۔اس نے سب سے بدبو کابڑا شکوہ کیا،سب اسے دلاسا دیتے رہے۔ہفتے دس دن بعد جب وہ اس ماحول سے مانوس ہو گئی تو اس نے دعویٰ کر دیا کہ دیکھا میں نے آ کر یہاں کی ساری بد بو ختم کر دی ہے۔خاں صاحب سے ہمیں ایسی توقع ہر گز نہیں ہے۔دو دہائیوں سے بھی ذیادہ عرصہ پر مشتمل ان کی ان تھک مسلسل محنت آخر رنگ لائی اور عوام نے ایک بھاری مینڈیٹ دے کر آپ پر نا صرف والہانہ اعتبارکا اظہار کیا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ وہ پرانے لوگوں کے سامراجی انداز اور استعماری طرزحکومت سے مکمل طور پرعاجز و بیزارہو چکے ہیں۔اور اب ایک بہت بھاری ذمہ داری خاں صاحب کے کندھوں پر آ گئی ہے کیونکہ وہ جو کچھ بھی کہتے تھے ،اب اس پر عمل کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک صوبے کو نہ چلا سکنے کا طعنہ دینے والوں کی آوازیں دب چکی ہیں،تمام افواہیں رد ہو چکی ہیں،تمام اعتراضات دم توڑ چکے ہیں اور خیبر پختونخواہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جماعت کو دوسری مرتبہ منتخب کیا گیا ہے اور وہ بھی اتنی بھاری اکثریت سے،جو بلاشبہ خاں صاحب کی گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عوام کے اس اعتبار کو قائم رکھنا اب ایک بڑا مرحلہ ہو گا۔ایک بڑا کریڈٹ جو مورخ آنکھ بند کر کے خاں صاحب کے حق میں لکھے گا وہ اس قوم کو سیاسی طور پر بیدار کرنا ہے اور با شعور بنانا ہے۔اور یہ اس قدر نا گزیر تھا کہ اس کے بغیر پاکستانی قوم کا آگے بڑھنا محال تھا۔یہ امر بڑا خوش آئند ہے کہ عوام کی کثیر تعداد نے دلچسپی لیتے ہوئے پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔خاں صاحب کی تمام تر کوششیں اس حد تک بالکل اقتدار کے حصول کے لیے تھیں کہ وہ سیاسی طاقت حاصل کیے بغیرترقی کی طرف لے کر جانے والی اصطلاحات نافذ نہیں کر سکتے تھے اور پاکستان کی ترقی کا خواب پورا نہیں کر سکتے تھے ورنہ اس میں کسی کو کیا شک ہے کہ وہ دولت اور شہرت کی ان بلندیوں کوپہلے ہی چھو چکے تھے کہ جہاں وزارت عظمی جیسے عہدے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔خاں صاحب کے لیے وزارت عظمی بعینہ اس شعر کی مثل ہے
تم چراغوں کی خیرات بانٹتے پھرتے ہو مجھے
میں آفتاب سے دامن چھڑا کے آیا ہوں
خاں صاحب کا خواب ایک ایسا پاکستان ہے جو مثالی فلاحی ریاست ہو۔اور اس خواب کی تکمیل اقتدار سے جڑی ہوئی تھی ،اس جدوجہد کو بعض نا عاقبت اندیشوں نے تنقید کرتے ہوئے اقتدار کی ہوس قرار دیا،کیونکہ انہیں اپنے اقتدار کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔خاں صاحب کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی ہو گی کہ قدرت نے آپ کو ایک بڑے کام کے لیے چنا ہے جو بڑی سعادت کی بات ہے،علامہ اقبال کو شاعر مشرق کا خطاب ملا،مصور پاکستان کا اعزاز ملا،وہ اپنی فکر و دانش ،فلسفہ و نظریہ سے قوم میں بیداری پیدا کرنے کی سعی کرتے رہے،کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ قوم تو ابھی بھی اسی ذہنی غلامی کی ڈگر پر ہے۔بقول راقم:
اقبال کو کوشش اصلاح پہ اقبال ملا
ورنہ جاگے تو نہ تھے سن کر اسے اہل مسلم
آج اگر ہم فلسفہ خودی و فلسفہ مومن کے نکات سمجھ گئے ہوتے تو بلا شبہ دنیا کی عظیم قوم ہوتے۔خاں صاحب نے بھی قوم میں شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی جو سب سے عظیم کام ہے۔اسی شعور کی بیداری میں ہی ہمارے تمام مسائل کا حل پنہاں ہے۔خاں صاحب!قوم کو آپ سے بہتری کی کوشش کی توقع ہے۔نتیجہ سپرد خدا ہے۔تاریخ میں یہ بات آپ کے لیے کبھی بھی قابل ستایش نہیں ہو گی کہ آپ نے کتنی مرتبہ وزارت عظمی کاحلف اٹھایا،بلکہ سب سے معتبر حوالہ اس قوم کی بلندی کے لیے آپ کی ایمانداری سی کی ہوئی کاوش ہو گی۔حلف برداری سے پہلے ہی آپ کے سیاسی حریفوں کی طرف سے جس قسم کے اعتراضات کیے جا رہے ہیں وہ بعید از عقل ہیں،سیاسی مفاہمت،حکومت سازی کے لیے گھٹ جوڑ آج اچانک سب کچھ غلط کیسے ہو گیا۔آزاد امیدواران کی شمولیت صرف پاکستان تحریک انصاف میں ہی حرام کیوں ہے،باقی جماعتوں کے لیے جائز کیسے تھی؟ویسے یہ ضرور اندازہ ہو رہا ہے کہ پتہ انہیں سب کچھ ہے، کاش کہ انہوں نے یہ اصولی موقف اپنے رہنماوں کے لیے بھی اپنائے ہوتے تو ترقی کا سفر اتنی تاخیر کا شکار نہ ہوتا۔ان اعتراضات سے حسد کی واضح بو نظر آتی ہے۔انہیں یقین ہے کہ یہ انسان ایماندار ہے،با ہمت ہے اور بہتری کی نیت لے کر آیا ہے،ضرور کچھ کر گذرے گا،یہ امر باعث مسرت ہونا چاہیے نہ کہ باعث تشویش۔اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ غلط کام پر ضرور تنقید کریں لیکن محض اپنی ذاتی رنجش نبھانے کے لئے پاکستان کی ترقی کا راستہ نہ روکیں۔اورخاں صاحب ہمیں آپ سے بے منطق اور غیر سنجیدہ قسم کے دعوے نہیں چاہییں کہ 6ماہ میں یہ ٹھیک ہو جائے گا نہیں تو نام بدل دیں۔ہمیں بہتری کا سفر نظر آنا چاہیے،ہمیں وہ راستہ دکھائی دینا چاہیے جس راستے پر منزل کا یقین ہو۔آپ سے بہتری کی امید لگائے ہوئے عوام بھی آپ ہی طرح بے چین ہیں۔ اس بار اگر قوم کی امید ٹوٹ گئی تو پھر شاید کبھی اعتبار بحال نہ ہو سکے۔تمام بد عنوان لوگوں کے درمیان ایمانداری کی نظیر قائم کرناآپ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے،دعا ہے کہ آپ کو ہمت ملے کہ آپ نیا پاکستان بنائیں،ایسا پاکستان جو ہر لحاظ سے مثالی ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *