ابو عبد اللہ محمد بن حسن بن فرقد شیبانی المعروف امام محمدرحمۃ اللہ علیہ)حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل،میانوالی

آپ رحمۃ اللہ علیہ کاپورا نام ابو عبد اللہ محمد بن حسن بن فرقد شیبانی، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور مشیر خاص تھے۔امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آپ جید شاگرد تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۱۳۲ھجری میں شہرواسطہ (عراق )میں ہوئی ۔شیبانی آپ رحمۃ اللہ علیہ کے علاقے سے منسوب ہے ۔بعض محققین کے نزدیک یہ نسبت ولائی ہے ۔کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدبنوشیبان کے غلام تھے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کے والدکااصل مسکن جزیرہ شام تھا۔دمشق کے قریب حرساء کے رہنے والے تھے ۔بعدمیں ترک وطن کرکے شہرواسطہ (عراق)آگئے۔
امام محمدرحمۃ اللہ علیہ چودہ سال کی عمر میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضرہوئے مجلس میں آکرامام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں سوال کیا۔امام ابویوسف رحمۃ اللہ نے آپ کی راہنمائی کی ۔آپ نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ ایک نابالغ لڑکا عشاء کی نماز پڑھ کر سوجائے اور اسی رات فجر سے پہلے وہ بالغ ہوجائے تووہ نماز دہرائے گا یا نہیں ، امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا دہرائے گا۔امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اسی وقت اٹھ کر ایک گوشہ میں جاکرعشاء کی نمازدوبارہ پڑھی۔امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ دیکھ کر بے ساختہ فرمایا ان شاء اللہ یہ لڑکاصاحب رشدوہدایت ہوگا۔اس واقعہ کے بعد امام محمدرحمۃ اللہ علیہ گاہے گاہے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضرہوتے رہے ،کم سن تھے اور بے حدخوبصورت ،جب باقاعدہ تلمذکی درخواست کی توامام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا پہلے قرآن حفظ کرو پھر آنا۔سات دن بعد پھر حاضر ہوگئے ،امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا میں نے کہا تھا کہ قرآن مجید حفظ کرکے پھر آنا عرض کیا میں نے قرآن کریم حفظ کرلیا ہے۔امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے والد سے کہا اس کے سرکے بال منڈوادو لیکن بال منڈوانے کے بعد ان کا حسن اوردمکنے لگا۔ابو نواس نے اس موقع پر یہ اشعار کہے ۔
حلقوا راسہ لیکسوہ قبحا * غیرۃ منھم علیہ وشحا
کان فی وجہہ صباح ولیل * نزعوا لیلہ وابقوہ صبحا
لوگوں نے ان کا سر مونڈدیا تاکہ ان کی خوبصورتی کم ہو ،ان کے چہرہ میں صبح بھی تھی اوررات بھی ،رات کو انہوں نے ہٹادیا صبح تو پھر بھی باقی رہی۔آپ رحمۃ اللہ علیہ مسلسل چار سال خدمت میں رہے ،پھر امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے تکمیل کی۔انکے علاوہ مسعر بن کدام ،اوزاعی ،سفیان ثوری اورامام مالک وغیرہ سے علم حدیث میں خوب استفادہ کیااورکمال حاصل کیا۔امام محمدرحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے تھے مجھے آبائی ترکہ سے تیس ہزار درہم یادینار ملے تھے جن میں سے آدھے میں نے لغت و شعر کی تحصیل میں خرچ کرڈالے اور نصف فقہ وحدیث کیلئے۔آپ نے طلب علم میں کوفہ کے علاوہ مدینہ منورہ،مکہ مکرہ ،بصرہ ،واسطہ شام ،خراسان اور یمامہ وغیرہ کے سیکڑوں مشائخ سے علم حاصل کیا ،چندمشاہیرکے نام یہ ہیں۔امام اعظم ابوحنیفہ ،امام ابویوسف ،امام زفر ،سفیان ثوری ،مسعربن کدام ،مالک بن مغول ،حسن بن عمارہ ،امام مالک ،ابراہیم ،ضحاک بن عثمان ،سفیان بن عیینہ ،طلحہ بن عمرو ،شعبہ بن الحجاج ،ابوالعوام ،امام اوزاعی ،عبداللہ بن مبارک ،زمعہ بن صالح ،
آپکے تلامذہ کی تعداد نہایت وسیع ہے۔چند یہ ہیں۔ ابو حفص کبیر احمد بن حفص عجلی استاذ امام بخاری۔موسی بن نصیر رازی، ہشام بن عبیداللہ رازی ،ابوسلیمان جوزجانی ،ابوعبیدالقاسم بن سلام ،محمد بن سماعہ ،معلی بن منصور ،محمد بن مقاتل رازی ،شیخ ابن جریر ،یحیی بن معین ،ابوزکریا ،یحیی بن صالح ،حاظی حمصی ،یہ امام بخاری کے شیوخ شام سے ہیں۔عیسی بن ابان ،شداد بن حکیم ،امام شافعی جنکوآپ نے اپناتمام علمی سرمایہ سونپ دیاتھا جو ایک اونٹ کا بوجھ تھا۔ابو عبید کہتے ہیں میں نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ امام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے انکو پچاس اشرفیاں دیں اوراس سے پہلے پچاس روپے دے چکے تھے۔ابن سماعہ کا بیان ہے امام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے اما م شافعی رحمۃ اللہ علیہ کیلئے کئی بار اپنے اصحاب سے ایک ایک لاکھ روپے جمع کرکے دیئے۔امام مزنی فرماتے تھے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ میں عراق میں قرضہ کیوجہ سے محبوس ہوگیا ،امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کو معلوم ہوا تو مجھے چھڑالیا۔یہ ہی وجہ تھی کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کی نہایت تعظیم وتوقیر کرتے اور واضح الفاظ میں احسانات کا اظہار کرتے تھے ،فرماتے۔فقہ کے بارے میں مجھ پر زیادہ احسان محمد بن حسن کاہے۔حافظ سمعانی نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کیا۔اللہ تعالیٰ نے دوشخصوں کے ذریعہ میری معاونت فرمائی۔سفیان بن عیینہ کے ذریعہ حدیث میں اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعہ فقہ میں۔علامہ کردری نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کیاکہ علم اور اسباب دنیوی کے اعتبار سے مجھ پر کسی کا بھی اتنا بڑا احسان نہیں جس قدر امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
ٓآپکے دوسرے عظیم شاگر د اسدبن الفرات ہیں ، خصوصی اوقات میں آپ نے انکی تعلیم وتربیت کی۔ساری ساری رات انکو تنہا لیکر بیٹھتے ،پڑھاتے اور مالی امداد بھی کرتے تھے ،جب پڑھ لکھ کر فاضل ہوگئے تو امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مسائل ،اورابن قاسم کی روایت سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے مسائل پر مشتمل ۶۰کتابوں کا ایک مجموعہ مرتب کیاجس کانام اسدیہ رکھا۔علماء مصر نے اس مجموعہ کی نقل لینا چاہی اور قاضی مصر کے ذریعہ سفارش کی ،آپ نے اسکی اجازت دیدی اور چمڑے کے تین سوٹکڑوں پر اسکی نقل کرائی گئی جوابن القاسم کے پاس رہی۔بعد کے مدونہ نسخوں کی اصل بھی یہ ہی اسدیہ ہے۔امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کے پاس مال کی اتنی فراوانی تھی کہ تین سومنیم مال کی نگرانی کیلئے مقرر تھے۔لیکن آپ نے اپنا تمام مال ومتاع محتاج طلبہ پر خرچ کردیا یہاں تک کہ آپکے پاس لباس بھی معمولی رہ گیا تھا۔
ایک مرتبہ امام محمدرحمۃ اللہ علیہ پرتنگدستی کاتسلط ہوگیا۔آپ رحمۃ اللہ علیہ فقائی کے پاس تشریف لے گئے اورفرمایاتم میری ضرورت پوری کردواس کے عوض میں تمہیں فقہ کے دومسائل بتادوں گا۔جس پراس نے ضرورت پوری کرنے سے انکارکردیا۔فقائی نے قسم کھائی کہ اگرمیں اپنی لڑکی کوجہیزمیں دنیابھرکی چیزیں نہ دوں تومیری بیوی کوطلاق۔بعدازاں وہ پریشانی کے عالم میں مختلف علماء دین کے پاس جاکرمسئلہ دریافت کرنے لگا۔ان میں سے ہرایک کاجواب یہی تھا۔کہ چونکہ دنیاکی ہرچیزکاپیش کرناناممکن ونامحال ہے۔لہذاوہ حانث ہے ۔بعدمیں وہی شخص امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضرہوا۔اور اس سلسلے میں سوال کیا۔توآپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔یہ مسئلہ بتانے کے لئے ایک ہزاراشرفیاں لوں گا۔چنانچہ فقائی نے ایک ہزاراشرفیاں پیش کردیں ۔حضرت امام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ تم ’’قرآن پاک‘‘جہیزمیں دے دواس سے تمہاری قسم پوری ہوجائے گی۔علماء کرام نے آپ سے اس کی وجہ دریافت کی توآپ نے فرمایامیری دلیل قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ ہے۔وَلَا رَطْبٍ وَّ لَایَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْن(اورخشک وترہرچیزقرآن میں موجودہے)
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ساری زندگی علمی مشاغل میں گزری ۔ائمہ حنفیہ میں انہوں نے سب سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں۔مولاناعبدالحی لکھنوی اورمولانافقیرمحمدجہلمی نے لکھاہے کہ انہوں نے نوسوننانوے کتابیں لکھی ہیں ۔اوراگران کی عمروفاکرتی توہزارکاعددپوراکردیتے ۔ بعض محققین کایہ بھی خیال ہے کسی موضوع پرجوکتاب لکھی جاتی ہے ۔اس میں متعددمسائل کومختلف عنوانات پرتقسیم کردیاجاتاہے ۔۔جیسے کتاب الطہارۃ،کتاب الصلوٰۃ،کتاب الصوم وغیرہ پس جن لوگوں نے ۹۹۹کاعددلکھاہے ۔وہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف کے تمام عنوانوں کے مجموعہ کے اعتبارسے لکھاہے ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ راتوں کونہیں سوتے تھے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کتابوں کے ڈھیرلگے رہتے تھے ۔جب ایک فن کی کتابوں سے طبعیت اکتاجاتی تودوسرے فن کی کتابوں کامطالعہ شروع کردیتے تھے ۔جب راتوں کوجاگتے اورکوئی مسئلہ حل ہوجاتاتوفرماتے، بھلاشہزادوں کویہ لذت کہاں نصیب ہوسکتی ہے ۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ میں نے امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضرہوااوررات بھرعبادت الٰہی میں مشغول رہا۔لیکن امام محمدرحمۃ اللہ علیہ رات بھرپہلوپرلیٹے رہے ۔اورصبح کوامام محمدرحمۃ اللہ علیہ وضوکیے بغیرنمازمیں شریک ہوگئے ۔مجھے یہ بات عجیب محسوس ہوئی تومیں نے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے اس سلسلے میں دریافت کیا ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکیاآپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں سوگیاتھا۔اے شافعی رحمۃ اللہ علیہ!میں سونہیں گیاتھابلکہ میں نے کتاب اللہ سے تقریباًایک ہزارمسائل کااستنباط کیاہے۔تم نمازاپنے لئے پڑھتے رہے اورمیں یہ کام پوری امت کے لئے کرتارہا۔محمد بن مسلمہ کا بیان ہے، کہ آپ نے عموماًرات کے تین حصے کردیئے تھے ،ایک سونے کیلئے ،ایک درس کیلئے اور ایک عبادت کیلئے۔کسی نے آپ سے کہا آپ سوتے کیوں نہیں ہیں۔فرمایا میں کس طرح سوجاؤں جبکہ مسلمانوں کی آنکھیں ہم لوگوں پر بھروسہ کرکے سوئی ہوئی ہیں۔امام محمدرحمۃ اللہ علیہ نے تقریباًایک ہزار کتب تصنیف فرمائیں۔دورِحاضرمیں جوزیادہ مشہورہیں درج ذیل ہیں۔
(۱)الجامع الکبیر(۲)کتاب المبسوط(۳)الجامع الصغیر(۴)السیرالکبیر(۵)السیرالصغیر(۶)الزادیات(۷)کتاب المؤطا(۸)کتاب الاثار(۹)کتاب الردعلی اہل المدینہ(۱۰)المخارج فی الہیل(۱۱) الاحتجاج علی مالک (۲ا) الاکتساب فی الرزق المستطاب (۳ا) الجرجانیات (۴ا) الرقیات فی المسائل (۵ا) عقائد الشیبانیہ (۶ا) کتاب الاصل فی الفروع (۷ا) کتاب الاکراہ (۸ا) کتاب الحیل (۹ا) کتاب السجلات (۲۰) کتاب الشروط (۲۱) کتاب الکسب (۲۲) کتاب النوادر (۲۳)الکیسانیات (۲۴)مناسک الحج (۲۵) انوارالصیام (۲۶) الہارونیات(۲۷)أوطاامام محمد اور بہت سی کتابیں۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اٹھا ون سال عمر گزاری اور عمر کا بیشتر حصہ فقہی تحقیقات اور مسائل کے استنباط اور اجتہاد میں گذارا۔جب دوبارہ عہدۂ قضا پر بحال ہوئے اور قاضی القضاء مقرر ہوئے تو ان کو ایک مرتبہ ہارون الرشید اپنے ساتھ سفر پر لے گیا ،وہاں’’ رے ‘‘کے اندر نبویہ نامی ایک بستی میں آپ کا وصال ہوگیا۔اسی سفر میں ہارون رشید کے ساتھ نحوکے مشہور امام کسائی رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے جو آپ کے خالہ زاد بھائی تھے اور اتفاق سے اسی دن یادودن بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ہارون رشیدکو ان دونوں ائمہ فن کے وصال کا بے حد ملال ہوا اوراس نے افسوس سے کہا آج میں نے فقہ اور نحو دونوں کو ’’رے ‘‘ میں دفن کردیا۔روایت ہے کہ بعد وصال کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا کہ آپ کا نزع کے وقت کیا حال تھا۔آپ نے فرمایا میں اس وقت مکاتب کے مسائل میں سے ایک مسئلہ پر غور کررہا تھا مجھ کو روح نکلنے کی کچھ خبر نہیں ہوئی۔خطیب بغدادی نے امام محمد کے تذکرہ کے اخیر میں محمویہ نامی ایک بہت بڑے بزرگ جن کا شمار ابدال میں کیاجاتا ہے ،سے ایک روایت نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن حسن کو ان کے وصال کے بعد خواب میں دیکھا تو پوچھا اے ابوعبداللہ ! آپ کا کیا حال ہے ؟ کہااللہ نے مجھ سے فرمایا اگر تمہیں عذاب دینے کا ارادہ ہوتاتو میں تمہیں یہ علم نہ عطا کرتا ،میں نے پوچھا اور ابویوسف کا کیا حال ہے فرمایا مجھ سے بلند درجہ میں ہیں۔ پوچھا اور ابوحنیفہ ؟ کہا وہ ہم سے بہت زیادہ بلند درجوں پر فائز ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی ان پررحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *