جا بیٹا اللہ تمہیں پٹواری کر دے

یہ پٹواریوں کی بڑائی کی منہ بولتی دعا ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے واقعہ ذکر کیا ہے جس میں وہ کسی بڑھیا کے کام آئے تھے بطور ڈی سی اور مائی نے اُسے دعا دی تھی کہ بیٹا تم پٹواری لگ جاؤ۔اگر قدرت اللہ شہاب بیورو کریٹ نہ ہوتے یقیناً مائی کی پر خلوص دعا سے پٹواری لگ جاتے اور پھر اُنہیں عملی طور پر معلوم ہو جاتا کہ پٹواری کیا ہے۔ اس لفظ پٹواری کے ماخذ کا علم تو کسی صاحبِ علم کو ہی ہو سکتا ہے البتہ ہمیں پٹواریوں کے پاس موجود دولت کے انباروں کے ماخذ کا بخوبی علم ہے۔کوئی ایسا پٹواری ہو جس نے اپنے ماتحت نہ رکھے ہوں وہ سامنے آجائے۔ وہ ماتحت اُس کے حلقہ گرد اور کے سائز اور زمینداروں کی زمین کی وسعت کے لحاظ سے رکھے جاتے ہیں۔ اُنہیں جناب پٹواری خود ہی تنخواہ دیتے ہیں اور وہ کہاں سے یہ رقم لیتے ہیں، آپ پٹوار خانے جا کر دیکھ لیں خود معلوم ہو جائے گا۔اصل پٹواری کو بعض مرتبہ اُس حلقے کا قانون گو بھی نہیں پہچان پاتا اور تحصیل دار صاحب نے تو خیر کیا ہی پہچاننا ہوتا ہے۔ کبھی کسی قانونی آفیسر کے دفتر میں اکٹھے ہو جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ میں جس شخص کو علاقے کا عوامی نمائندہ سمجھ رہا تھا وہ تو میرا ماتحت پٹواری ہے۔منتحصلی بھی عموماً پٹواری صاحب کا معتمد خاص ہی پہنچا دیتا ہے اور اُسی کو اصل پٹواری سمجھ لیا جاتا ہے۔ چند ایک ایسے پٹواری ہو گزرے ہیں جو کہ قانون کی نظروں میں آئے صرف اسی وجہ سے کہ انہوں نے زیادہ لالچ کیا اور حق داروں کو اُن کا حصہ نہیں دیا اور کُھڈے لائن لگ گئے۔ جو پٹواری ہیں سرکاری مشینری کے پیٹرول کے پیسے ادا کرتا رہتا ہے وہ جتنی مرضی لوٹ مار کرلے کبھی نہیں پکڑا جاتا۔ ہاں اگر کسی بڑے افسر کی گاڑی سے پیٹرول ختم ہو جائے یا اُس کی جیب سے رقم تو پٹواری کو وہاں جا کر اُس کی مدد ضروری کرنا پڑتی ہے۔پٹواری کی ذمہ داریاں اور فرائض تھوڑے سے ہی نظر سے گزرتے تھے کہ ہمارے اوپر چودہ طبق روشن ہو گئے اور ہم بھی پٹواری کے طرفدار ہوگئے کہ اُسے اپنے ہاتھوں ہی سے کام چلانا چاہئیے۔ ذمہ داریاں اور فرائض پورے ہوں یا نہ ہوں پٹواری کے اختیارات کو اعلیٰ عدالتیں بھی ماننے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
گورنر امیر محمد خاں کو ’ڈھڑلے‘ والا گورنر کہا جاتا ہے۔ اُن کی زندگی کا ایک واقعہ نطروں سے گزرا تو پٹواریوں کی عظمت کا اندازہ ہوا کہ یہ بغیر مہر کے افسر کس قدر طاقت ور ہے۔ گورنر صاحب مذکور نے پٹواری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی زمینوں کا کوئی مسئلہ یا تنازعہ حل کروانا چاہا۔ کیس اعلیٰ عدالت تک گیا اور اعلیٰ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ پٹواری حلقہ مذکور رپورٹ کرے۔اب اس پٹواری سے گورنر صاحب کو پر خاش تھی یا وہ اپنی گورنری کے رعب میں تھے۔ اُنہوں نے اُس پٹواری کو کچھ نہ جانا۔ کیس از سر نو چلا۔ عدالت نے پھر یہ فیصلہ دیا کہ پٹواری رپورٹ کرے۔علیٰ ہذالقیاس گورنر صاحب کے کسی دوست نے پٹواری کو 500 روپے دئیے اور رپورٹ کروائی۔ اُس وقت گورنر صاحب کو بھی غالباً وہ مائی یاد ضرور آئی ہو گی جس نے ڈی سی کو کہا تھا کہ بیٹا تم پٹواری لگ جاؤ۔آج ہم کتابیں کھنگالتے ہیں اور ہمیں لفظی خزانوں کے سوا کچھ نہیں ملتا مگر پٹواری صاحب صرف کتاب کھولتے ہیں اور اصلی خزانے مل جاتے ہیں۔ ہم بھی کسی ایسی مائی کی تلاش میں ہیں جو ہمیں بھی دعا دے کہ جا بیٹا اللہ تجھے پٹواری لگا دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *